عید اور چھُٹیاں

عید اور چھُٹیاں
 عید اور چھُٹیاں

  

وطنِ عزیز میں جب بھی ہر سال عیدالفطر یا عیدالاضحی آتی ہے، اکثر اخبارات میں اس حوالے سے حکومتِ وقت کی طرف سے دی گئی چُھٹیوں اور اُن سے جڑی ہوئی ہفتہ وار چھٹیوں(ہفتہ اور اتوار) پر ایک عجب طرح کا واویلا شروع ہو جاتا ہے۔ جو ہماری ناقص رائے میں بے محل، نا مناسب اور بے جا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے میڈیامیں بھی دیگر اسلامی ممالک، مثلاً سعودی عرب، ایران، دبئی، انڈونیشیا اور ملائیشیا وغیرہ میں اِن عیدوں پر ہونے والی چُھٹیوں کی تعداد سے عوام الناس کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ یہ چھٹیاں بلاشبہ زیادہ ہوتی ہیں جو ہمارے خیال میں ہونی بھی چاہئیں۔ اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ بعض یورپی ممالک میں ایسٹریا کرسمس کے موقع پرزیادہ چُھٹیاں کی جاتی ہیں۔ اور عوام کو اپنے اِن مذہبی تہواروں کو بھرپور انداز سے منانے اور سجانے کے لئے ہر شے کی قیمت پچاس فیصد تک کم کردی جاتی ہے۔اسی طرح برادر ملک ایران میں ’’جشنِ نوروز‘‘ کی عید کے موقع پر دس دِن کی چھٹیاں کی جاتی ہیں۔ وہاں تو کبھی عوام کے کسی طبقے یا میڈیا کی جانب سے اِن چھٹیوں کے خلاف آواز بلند نہیں کی جاتی۔ اس لئے کہ وہاں ایک سسٹم موجود ہے۔ جس کے تحت ہر شخص اپنے اپنے اوقات کار میں تندہی سے ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہوتا ہے۔

دوسری جانب ہمیں عید الفطر یا عید الاضحی کی چھٹیوں کے علاوہ دیگر اہم لیکن سنجیدہ مسئلوں کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے۔ جن میں مہنگائی۔ لوڈشیڈنگ اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی ایشوز شامل ہیں۔ جن کی طرف آج تک کوئی حکومت بھی سنجیدگی سے قدم اٹھاتی نظر نہیں آتی۔ مہنگائی کے حوالے سے نہایت مضحکہ خیز اور دِل دُکھانے والی صورت حال تو یہ ہے کہ ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں’’کالج روڈ‘‘ کے نام سے ایک بڑی مشہور و معروف اور مصروف سڑک ہے۔ جس کے دونوں کناروں پر بے شمار چھابڑی والے اور دکاندار حضرات پھلوں کی صورت میں اپنا اپنا سودا سجائے بیٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن قیمتوں کے جوبورڈ انہوں نے آویزاں کئے ہوتے ہیں۔ وہ عوام کے لئے پریشانی کی حد تک حیران کُن اور حکومت کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں،کیونکہ ان میں زمین و آسمان کا فرق صاف نظر آتا ہے۔ یعنی ایک ہی پھل پچاس روپے سے لے کر ایک سو بیس روپے تک فروخت کیا جاتا ہے۔ اس پر طُرہّ یہ کہ اپنے ملک میں وافر پیدا ہونے والے پھل دوسرے ملکوں سے درآمد کئے جانے لگے ہیں۔ اور نہایت مہنگے داموں فروخت کئے جاتے ہیں۔

مہنگائی کے بعد دوسرا بڑا گھمبیر مسئلہ لوڈ شیڈنگ کا ہے، ماہ رمضان میں بھی اس میں کوئی واضح فرق نہیں پڑا۔ اور اسی پر مستزاد یہ کہ بجلی جانے کے ساتھ ہی نلکوں سے پانی غائب ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے روزے داروں کو نہانے، دھونے اور وضو کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عید الفطر کے قریب آتے ہی جن پردیسیوں نے اپنے اپنے گھروں کو جانا تھا وہ کِن کِن جاں گُسل مرحلوں سے گزرتے رہے۔ زندگی میں ہمیں بھی اس کا ایک مرتبہ تلخ تجربہ ہوچکا ہے۔ اور دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ کا بھی کوئی حل آج تک کوئی حکومت پیش نہیں کرسکی۔

مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک میں روزے فرض کئے ہیں۔ جو یقیناًاللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کے لے نہ صرف ایک بہت بڑا انعام ہیں۔ بلکہ یہ اپنے ساتھ رحمتیں اور برکتیں لئے ہوئے بھی ہوتے ہیں پورا مہینہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اِن رحمتوں اور برکتوں کے حصول کی خاطر شب وروز روزہ رکھتے ہوئے عبادتیں کرتے ہیں تو ہمارے خیال میں اگر حکومت عید کی آمد کے موقع پر اپنے عوام کو عید کی خوشیاں منانے کے لئے چار،پانچ دن کی چھٹیاں دے بھی دیتی ہے تو اس سے کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹ پڑتا۔ البتہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ سال میں دیگر تہواروں کی چھٹیاں نکال کر کام کرنے کے لئے جو دن بھی بچتے ہیں۔ان میں پوری قوم مکمل ایمانداری اور تند ہی سے اپنے اپنے مقام پر اپنے فرائض منصبی سرانجام دے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ بھی ’’دفاترویران ہوگئے۔ سائل خوار ہوگئے‘‘، طرز کی سرخیاں لگانا چھوڑ دیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب وفا تر آباد ہوتے ہیں، توتب بھی کسی سائل کے مسائل کب حل ہو پاتے ہیں؟ اپنی اس بات کی دلیل اور ثبوت کے لئے اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کرنا بے محل نہ ہوگا۔

چند سال اُدھر کی بات ہے کہ ایک بہت بڑے محکمہ میں ایک نہایت معمولی کام کے لئے چکر لگایا۔ لیکن اس ایک چکر نے ہمیں گھن چکر بنا کر رکھ دیا۔ ابتدائی کام توبڑی سُرعت کے ساتھ انجام پایا۔ لیکن جب پیسے جمع کرانے کا وقت آیا تو چالان فارم بنا کر دینے والے صاحب اپنی سیٹ پر دستیاب نہیں ہوئے۔ یعنی سرکاری خزانے میں رقم جمع کرانی تھی ۔ جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوگنی ہوگئی تھی۔ ہم اس پر بھی راضی تھے کہ چلئے صاحب ہم اس ’’جرمانے‘‘ کو بھی بھرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن شاید اہلِ محکمہ نے قسم کھا رکھی تھی کہ کچھ ’’لیے دئیے‘‘بغیر ان ’’صاحب‘‘کا کام نہیں ہونے دینا۔ چونکہ ہم نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ ہم کسی قسم کا کوئی ’’نذرانہ ‘‘متعلقہ اہل کاروں کو پیش نہیں کریں گے۔ چناچہ ہم بے نیلِ مرام اپنا سامنہ لٹکائے ’’خیرسے بدھو گھر کو آئے‘‘کے مصداق واپس لوٹ آئے ۔ ہم نے یہ کتھا کہانی بہت مختصر انداز میں آپ کی خدمت میں پیش کر دی ہے لیکن یقین جانیئے کہ ہم اتنے دل برداشتہ ہوئے ہیں کہ خدا ہی بہتر جاننا ہے۔لہٰذا !ہم یہی عرض کرنا چاہتے ہیں۔ کہ ان چند چھٹیوں پر معترض ہونے کی بجائے قوم کو پوری خوش دِلی کے ساتھ عید کی مبارک باد پیش کی جائے۔ اور باقی کے کیلنڈر ائیر میں پوری محنت اور پختہ عزم کے ساتھ وطنِ عزیز کے لئے سرگرمِ عمل ہونے کے لئے کہا جائے!

مزید :

کالم -