اکثریت کی رائے ہی جمہوریت ہے

اکثریت کی رائے ہی جمہوریت ہے
 اکثریت کی رائے ہی جمہوریت ہے

  

اب وقت آ گیا ہے کہ بڑے سیاسی قائدین جمہوریت کی درست اور صحیح تعریف پر متفق ہو جائیں۔ آزادی رائے کا محض یہ معنی اور مفہوم نہ لیا جائے کہ اگر اپنے زیادہ حامی منتخب ممبران کی اکثریت حاصل ہو جائے اور اُن کی حمایت سے حکومت قائم ہو جائے تو پھر ایسی سیاسی جماعت یا اتحاد کی نظر میں مُلک میں جمہوری نظام کے وجود کا اقرار کیا جاتا ہے اور اسے مُلک کی فلاح و بہود اور نظم و نسق کے لئے قابلِ قبول مانا جاتا ہے، جبکہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی بہترین کوششوں کے باوجود اگر کسی دیگر سیاسی گروپ کو اکثریتی اراکین کی کامیابی سے مطلوبہ تعداد مل جائے اور وہ حکومت بنا لے، تو پھر ہارنے والے افراد ایک تو اُن پر الیکشن میں دھونس اور دھاندلی کے ارتکاب کے الزامات لگاتے ہیں اور دوسرے اُن کی تشکیل کردہ حکومت کو جمہوری نظام کی کارروائی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔ اس تاویل اور بے بنیاد سیاسی بے راہ روی سے وطنِ عزیز کا امن و امان اور تعمیر و ترقی تباہ و برباد ہو کر رہ گئی ہے۔یہ اندازِ سیاست، دانستہ منفی روش پر چلنے کی روایت کو جاری رکھنے کی ڈگر کا عندیہ دیتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہاں اصل سیاسی حقائق کو تسلیم کرنے سے قصداً گریز کر کے جمہوری نظامِ حکومت کو آئین، قانون اور انصاف کے اصولوں کے مطابق پھلنے پھولنے اور پروان چڑھنے سے روکنے کی منظم اور مسلسل کوششیں بروئے کار لائی جاتی ہیں۔عام انتخابات کے انعقاد کے بعد اکثریتی جماعتوں کی حکومتیں بنائی جاتی ہیں،جو اپنی سوچ، پالیسیوں اور ترجیحات کے تحت عوام کی ضروریات اور مسائل حل کرتی ہیں اور پھر عام انتخابات آئینی مدت عرصہ پانچ سال کے بعد ہی کرانا ضروری ہوتے ہیں۔

مزید :

کالم -