رینجرز کے اختیارت کی بحث کے دوران کراچی میں سلیپنگ سیلز پھر جاگ اٹھے

رینجرز کے اختیارت کی بحث کے دوران کراچی میں سلیپنگ سیلز پھر جاگ اٹھے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

سندھ کے نامزد وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ابھی چارج نہیں سنبھالا، تاہم انہیں بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ بطور وزیراعلیٰ انہیں کیا مسائل درپیش ہوں گے۔منگل کے روز کراچی میں فوج کی گاڑی پر فائرنگ کرکے دو فوجی اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، ان کے سروں میں گولیاں ماری گئیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حملہ آوروں نے اس بات کا اہتمام کیا کہ گولیاں مہلک ہوں اور فوجیوں کے بچنے کے امکانات کم سے کم ہوں۔ جہاں فائرنگ کی واردات ہوئی یہ صدر کا بارونق علاقہ ہے اور فوجی گاڑی معمول کے گشت پر تھی۔ موٹر سائیکل سوار دہشت گرد آسانی سے فرار ہوگئے۔ جائے وقوعہ سے کوئی ایسے شواہد نہیں ملے جن سے پتہ چلتا ہو کہ کون سا اسلحہ استعمال ہوا ہے تاہم یہ تو طے ہے کہ جن لوگوں نے بھی یہ واردات کی وہ تربیت یافتہ دہشت گرد تھے۔ ان کا تعلق کس گروہ سے ہے اس کا پتہ تو تفتیش کے بعد ہی چلے گا لیکن کراچی میں بدامنی پھیلانے میں بھارت کے خفیہ ادارے بھی پوری طرح ملوث ہیں اور حال ہی میں بلوچستان سے جو بھارتی جاسوس گرفتار ہوا ہے، اس نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کی وارداتوں کیلئے نیٹ ورک بنایا ہوا تھا۔ یہ سانحہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب کراچی ایڈمنسٹریشن میں ایک طرح کا خلا موجود ہے۔ وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ اپنی قیادت کو استعفا پیش کرچکے ہیں، جس کا فیصلہ دو روز قبل دبئی میں پارٹی کی ہائی کمان کے اجلاس میں ہوا تھا، نئے وزیراعلیٰ نامزد ہیں، ابھی انہوں نے حلف نہیں اٹھایا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ رینجرز کو کراچی میں پولیس کے جو اختیارات سونپے گئے تھے اور جن کی وجہ سے کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر تھی، ان اختیارات کی مدت ختم ہوچکی ہے اور ابھی تک اختیارات میں توسیع نہیں دی گئی، یہ تنازعہ کئی دن تک چلتا رہا۔ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ رینجرز کو صرف کراچی میں کارروائی کا اختیار حاصل ہے صوبے کے باقی حصوں میں رینجرز کوئی کارروائی نہیں کرسکتی جبکہ رینجرز کا موقف ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت رینجرز کو پورے صوبے میں کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ اسی اختیار کے تحت رینجرز نے لاڑکانہ میں اسد کھرل کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا تھا جس کی وجہ سے سندھ کے وزیرداخلہ ناراض تھے اور اسد کھرل کو ہجوم چھڑا کر لے گیا تھا۔

اب پیپلز پارٹی کی قیادت کے اجلاس میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا فیصلہ تو کرلیا گیا ہے لیکن فوج کی گاڑی پر فائرنگ جیسے تازہ واقعہ اور اس سے پہلے ہونے والے اسی نوعیت کے واقعات سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ دہشت گردوں کے سلیپنگ سیلز حالات کا فائدہ اٹھا کر پھر جاگ اٹھے ہیں اور اگر اداروں کے درمیان تنازعات کی صورتحال یہی رہی تو پھر یہ سلیپنگ سیلز مزید متحرک ہو جائیں گے۔ اس لئے موجودہ صورتحال کو جلد سے جلد ختم کرنا ہوگا۔ اگرچہ وزیراعظم نے تازہ واقعہ پر یہ کہا ہے کہ کسی کو کراچی آپریشن پٹڑی سے اتارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن وقتاً فوقتاً ہونے والے ایسے واقعات سے لگتا ہے کہ آپریشن کو پٹڑی سے اتارنے کی کوششیں تو ہو رہی ہیں اور یہ اداروں کا امتحان ہے کہ وہ آپریشن سے حاصل ہونے والے فوائد کو ضائع نہ ہونے دیں اور آپریشن کو پٹڑی سے نہ اترنے دیں۔ نامزد وزیراعلیٰ کو اقتدار سنبھالتے ہی سب سے بڑا مسئلہ یہی درپیش ہوگا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو تسلی بخش کیسے بنایا جائے؟ جو چیلنج انہیں درپیش ہوگا انہیں اس میں کامیاب ہونا ہوگا، ناکامی کا آپشن ان کے پاس نہیں ہے۔ ناکامی کا نقصان صرف ان کی ذات کو ہی نہیں ہوگا، ان کی پارٹی کو بھی ہوگا۔ ہر چند ماہ بعد رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا سوال پیدا ہوتا ہے تو کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ صوبے کی حکومت کو دارالحکومت کی سکیورٹی کیلئے ایک وفاقی ادارے پر انحصار کیوں کرنا پڑتا ہے؟ امن و امان کا قیام بنیادی طور پر تو صوبائی مسئلہ ہے اور جب اختیارات پر تنازعہ کھڑا ہوتا ہے تو پھر یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی پولیس کو اتنا طاقتور اور موثر ادارہ کیوں نہیں بناتی کہ وہ دہشت گردوں اور جگہ جگہ بلاخوف و خطر گولیاں چلانے والوں کے ساتھ مؤثر طور پر نپٹ سکے۔ صوبائی حکومت کو رینجرز کی خدمات اس لئے مطلوب ہیں کہ پولیس غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ صوبائی حکومت میں موجود بعض لوگ اس استدلال سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں اس وقت جو امن قائم ہے وہ پولیس کی خدمات کا نتیجہ ہے، چلئے مان لیا کہ ایسا ہی ہے تو پھر زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ رینجرز کی خدمات وفاق کو واپس کردی جائیں تاکہ ایک تو کوئی تنازعہ ہی باقی نہ رہے نہ صوبائی حکومت کو یہ شکایت رہے کہ رینجرز کو تو امن و امان$کیلئے بلایا گیا تھا‘ وہ وائٹ کالر جرائم میں ہاتھ کیوں ڈالتی ہے۔ پولیس اگر یہ سارے کام خوش اسلوبی سے کرسکتی ہے اور اسے کرنے چاہئیں تو پھر پولیس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اس سے پہلے پولیس کو اس قابل بنانا ہوگا۔ سفارش و رشوت کی بنیاد پر جو لوگ پولیس میں در آئے ہیں، وہ تو چوری کھانے والے مجنوں ہیں، ان سے کسی کرشمے کی توقع فضول ہے۔ بہرحال فائرنگ کے واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ کو تیزی کے ساتھ ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو مؤثر ہوں اور اصلاح احوال نظر بھی آئے۔

مزید :

تجزیہ -