نئی دہلی میں متعین افغان سفیر کا ایک انٹرویو

نئی دہلی میں متعین افغان سفیر کا ایک انٹرویو
نئی دہلی میں متعین افغان سفیر کا ایک انٹرویو

  

شیدا محمد ابدالی، بھارت میں افغانستان کے سفیر ہیں۔ گزشتہ ماہ ان کی ایک تازہ انگریزی کتاب ’’افغانستان، پاکستان، انڈیا: ایک نمایاں تبدیلی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے(Afghanistan, Pakistan, India: A paradigm shift) اور انڈیا کے سابق سیکرٹری خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر، مسٹر شوشنکر مینن نے 22جون 2016ء کو اس کی بک لانچنگ کی ہے۔ شیدا ابدالی نہ صرف بھارت میں افغانستان کے سفیر ہیں بلکہ نیپال ، بھوٹان اور مالدیپ میں بھی نان ریذیڈنٹ سفیر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ صدر حامد کرزئی کے زمانے میں قومی سلامتی کے نائب وزیر رہے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک کی سیاست، سفارت، ثقافت، اقتصادیات اور دفاع پر ان کی گہری نظر ہے۔ انڈیا اور افغانستان یا انڈیا اور پاکستان کے مابین تعلقات پر متوازن خیالات و آراء پر مبنی کوئی کتاب تحریر کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا پاکستان، انڈیا اور افغانستان کے مابین تعلقات پر کوئی تحریر لکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں گزشتہ کئی عشروں سے ان تینوں ممالک کے درمیان کبھی بھی کوئی ایسا دور نہیں آیا جس میں باہمی تعلقات کی ہمواری یا خوشگواری دیکھنے میں آئی ہو۔ اس موضوع پر لکھنا اس وقت مزید کٹھن ہو جاتا ہے جب آپ انڈیا میں افغانستان کے سفیر ہوں اور’’حاضر سروس‘‘ ہو کر انڈیا، پاکستان اور افغانستان کے پیچیدہ اور گنجلک تعلقات کے سلسلے میں کوئی سنجیدہ اور بامقصد مطالعہ کریں اور اسے ضبط تحریر میں بھی لائیں۔

خود مجھے یہ کتاب پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن اس پر جو تبصرے میڈیا میں آتے رہے ہیں، ان کو دیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ کسی بھی افغان سفارتکار سے جو صدر کرزئی کے دورِ حکومت میں ان کے سلامتی کے مشیر رہے ہوں، یہ توقع کرنا کہ وہ پاکستان کے بارے میں ’’کلماتِ خیر‘‘ کا ’’ارتکاب‘‘ کرے گا، ایک خوش گمانی کے سواکچھ اور نہیں ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود شیدا ابدالی صاحب نے اس کتاب میں نسبتاً ایک متوازن، حقیقت پسندانہ اور غیر جانبدار نقطہ ء نظر اختیار کیا ہے۔ ہر ملک کا سفارتکار اپنے ملکی مفادات، تصورات، قومی مقاصد اور خارجہ پالیسیوں وغیرہ کا شارح ہوتا ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دورمیں بھی اگر کسی کرزئی دور کے سفارت کار کو انڈیا کا سفیر مقرر کیا جاتا ہے تو پاکستان کو ان کے افکار و تصورات سے یکسر اتفاق کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ لیکن ان مشکلات کے باوجود جناب ابدالی نے اپنے ایک انٹرویو میں جو موقف اختیار کیا ہے اور جس طرح ان تینوں ممالک کی حساسیتیوں کو پیش نظر رکھا ہے، وہ اگر قابلِ تعریف نہیں تو قابلِ مذمت بھی نہیں۔ ان کا یہ انٹرویو 25جولائی 2016ء کو انڈیا کے اخبار ’’دی ہندو‘‘ میں شائع ہوا ہے۔ جہاں ہم پاکستانیوں کو ان کے بعض خیالات سے قطعاً اتفاق نہیں ہوگا وہاں ان کی بعض آراء اور تجاویز ایسی بھی ہیں جو معروضی غوروخوض کی متقاضی ہیں۔

اس انٹرویو میں انٹرویو نگار نے اپنے سوالات کے لئے جو اسلوبِ گفتگو اختیار کیاہے، اس کی پاکستان دشمنی کو نگاہ میں رکھئے اور چار روز پہلے ایک پاکستانی صحافی سلیم صافی نے صدر اشرف غنی کا انٹرویو کرتے ہوئے جو سوالات کئے ہیں اور ان کے جو بے ہودہ ،یکسرغلط اور بے بنیاد قسم کے جواب اشرف غنی نے دیئے اور جو الزامات پاکستان پر لگائے ان کو سن کر سلیم صافی کو جو سوال کرنے چاہئیں تھے وہ نہ کئے گئے۔ اور پھر ان کا ’’جرگہ‘‘ میں وہ سارا انٹرویو نشر کرنا کیا پاکستان کے حق میں تھا؟ بہر کیف افغان سفیر کا انٹرویو :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:یہ ایک نہائت غیر معمولی بات ہے بلکہ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی حاضر سروس سفیر نے ایسے موضوعات پرکوئی کتاب لکھی ہو جو اس کو روزانہ پیش آتے ہیں۔۔۔ کس چیز نے آپ کو اکسایا کہ آپ ایسا کریں؟

جواب:میں جب یہ کتاب لکھ رہا تھا تو مجھے معلوم تھا کہ ایسا کرنا ایک بہت غیر معمولی بات ہے۔ لیکن میں نے پھر بھی ایسا کیا۔ وجہ یہ تھی کہ ہم ایک نہایت غیر معمولی صورت حالِ سے گزر رہے ہیں۔ ہمارا یہ خطہ، ہمارے تینوں ملک اور ہم سب ایک نہایت نازک (Precarlous) صورت حال میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس لئے کسی کو کوئی ’’نازک‘‘ چیز ہی کرگزرنی چاہیے تاکہ ہم اپنا مقصد حاصل کر سکیں اور اس مسئلے کا حل تلاش کر سکیں جس کو ہم سب اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ حل ہو جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اس خطے میں ایک اور پرابلم کا سامنابھی ہے۔ ہم اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے باہر والے لوگوں پر کچھ زیادہ ہی تکیہ کرتے ہیں۔ ہم انڈین میڈیا سے بھی یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آپ لوگ ہماری سٹوریاں شائع کروانے کے لئے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا استعمال کیوں کرتے ہیں؟ میں نے سوچا کہ اس کام کا خود ہی آغاز کروں اور میری جو تھوڑی بہت اہلیت ہے اس سے کام لوں۔(اسی لئے میں نے یہ کتاب شائع کی ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:آپ نے لکھا ہے کہ آپ اپنے ملک اور نیز اس خطے میں کسی سہانے مستقبل کی اس وقت تک کوئی امید نہیں رکھتے جب تک انڈیا اورپاکستان اپنے اختلافات کا کوئی حل نہیں نکال لیتے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انڈیا اور پاکستان اکٹھے ہو جائیں تو مستقبل روشن ہو سکتا ہے ؟

جواب:موجودہ صورت حال جیسی بھی ہے وہ ہم سب کے مفادات کے خلاف ہے۔ چاہے پاکستان ہو، انڈیا ہو، افغانستان ہو یا یہ سارا خطہ۔۔۔ اور اسی لئے میری تجویز یہ ہے کہ ہمیں ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر روس کو لے لیجئے۔ایسی کون سی دشمنی تھی جو روس نے افغانستان کے ساتھ روا نہ رکھی۔ اس نے سارے افغانستان کو روند ڈالاتھا۔ لیکن آج ہم دونوں دوست ہیں۔ یہ اس وجہ سے ممکن ہوا کہ ہمیں روس سے جس تعاون کی ضرورت ہے، وہ ہمیں مل رہا ہے۔ روسی، ہمارے مفادات کے لئے بہتر کام کر رہے ہیں اور ان کا ردعمل مثبت ہے۔ یہ ایک مثال ہے جو میں نے آپ کو دی ہے۔ کسی بھی ملک کو افغانستان سے یا کسی اور ملک سے کوئی خوف نہیں کرنا چاہیے کہ اس نے ماضی میں کیا کیا تھا۔ہمیں چاہیے کہ ماضی کو پیجھے چھوڑ دیں اور آگے بڑھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:ابھی حال ہی میں افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک سابق چیف رحمت اللہ نبیل نے ایسی دستاویزات میڈیا کو ریلیز کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی ملٹری اور حقانی گروپ اور طالبان کے مابین رابطے تھے۔آپ آگے کس طرح بڑھیں گے جب ایک طرف آپ پاکستان سے بات چیت کر رہے ہیں اور دوسری طرف پاکستان آپ کے خلاف فوجی اقدامات کر رہا ہے؟

جواب:میرا خیال ہے جہاں تک زمینی حقائق کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حالات دوہرے معیار کے حامل ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کہی ایک چیز جائے اور کی دوسری چیز جائے۔ لیکن بات یہ ہے کہ ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ آج جو صورت ہے اس کو تبدیل کیسے کیا جائے۔ آپ نے جو لیک شدہ دستاویزات میڈیا میں دیکھی ہیں ان کا اگرچہ کوئی ثبوت نہیں دیا گیا لیکن مجھے اس میں کچھ تعجب نہیں کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ایسا برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان، طالبان کو کنٹرول کر رہا ہے۔ آپ نے اپنی کتاب میں اس پالیسی کو خود سوزی (Self- Immolation)کا نام دیا ہے۔ کیا آپ اس کی وضاحت کریں گے؟

جواب:میرے نزدیک یہ ایک قسم کی خود سوزی ہی ہے۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ماضی میں دہشت گردی کی پالیسی ایک مفید اور کارآمد چیز رہی ہے تو آج وہ اتنی مفید نہیں۔ یہ دہشت گردی، خود دہشت گردی کروانے والوں سے بھی بھاری قیمت وصول کرتی ہے۔ دہشت گردی کا شکار ہونے والا ہی نقصان نہیں اٹھاتا بلکہ وہ مقامات بھی نقصان اٹھاتے ہیں جن پر دہشت گردی کی پرورش کی جاتی ہے، جہاں اس کی عقیدہ سازی کی جاتی ہے، جہاں اس کا خرچہ اٹھایا جاتا ہے اور جہاں اس کی سپورٹ کی جاتی ہے۔ اس لئے میں نے جو کچھ پاکستان کے بارے میں لکھا ہے وہ بڑے خلوص اور بڑی سنجیدگی سے لکھا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا کوئی ہمسایہ ،بشمول پاکستان، کسی مشکل میں گرفتار ہو!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:کیا یہ وہی بات نہیں جو ہم گزشتہ 15،20 برسوں سے سن رہے ہیں کہ اگر پاکستان اپنا رویہ تبدیل کر لے تو ہم اس خطے میں کوئی تبدیلی دیکھ سکتے ہیں؟

جواب:میرا خیال ہے کہ اب یہ پالیسی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی کیونکہ آج پوری دنیا ان چیزوں سے بھر پا چکی ہے(فیڈاپ ہے)۔ آپ نے ابھی حال ہی میں وہ بحث تو سنی ہوگی جو امریکی کانگریس میں اس سوال پر کی گئی کہ کیا پاکستان امریکہ کا دوست ہے یا دشمن ہے؟ لہٰذا ہم امید کرتے ہیں کہ وہ صورت حال جو برسوں سے جاری ہے وہ اب نہ تو اس خطے کو قابلِ قبول ہو گی، نہ افغانستان کو اور نہ ہی بین الاقوامی برادری کو۔ اور پاکستان کو بھی اب تبدیل ہونا پڑے گا۔ نہ صرف یہ کہ اپنے آپ کے لئے بلکہ پوری عالمی برادری کے لئے اور افغانستان کے لئے بھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:انڈیا، افغانستان کے سارے مسائل اور ساری پریشانیوں میں اس کا ہاتھ بٹاتا رہا ہے خصوصاً اس دہشت گردی کے تناظر میں جو پاکستان کی سرزمین سے پھوٹتی اور پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی آپ کہتے ہیں کہ انڈیا نے ’’پہلے پاکستان‘‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے؟

جواب:میں نے عمداً ایسا کہا ہے۔کیونکہ میں نے محسوس کیا ہے کہ افغانستان میں یہ پرسپشن پایا جاتا ہے کہ جب افغانستان کو انڈیا سے کسی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو انڈیا اتنی دور تک نہیں جا سکتا جتنی ہمیں ضرورت ہے اور اس میں دفاعی سپورٹ بھی شامل ہے۔ میں صاف گوئی سے کام لے کر آپ کو بتانا چاہتا ہں کہ بعض اوقات ہماری امدادی درخواستیں پوری ہونے میں آپ کی طرف سے اتنی دیر ہو جاتی ہے کہ ہم افغانستان میں یہ سوچتے ہیں کہ جتنی عجلت سے پاکستان ہماری مدد کو آتا ہے، اتنی تیزی سے آپ نہیں آ سکتے۔ یہ پرسپشن افغانستان میں عام پایا جاتا ہے۔ اس میں ہماری روز مرہ زندگی کی تمام ضروریات شامل ہیں جن میں دفاعی ضرورتیں بھی ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ بعض اوقات انڈیا میں ہماری ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی اور یہ افغانستان کی مدد کرنے کے باب میں انڈیا کی یہ ایک محدودیت ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم آپ کے ممنون ہیں کہ آپ نے ہماری مدد کی ہے۔ ہم کو معلوم ہے کہ آپ افغانستان کو امداد دینے والے ممالک میں شامل ملک ہیں۔ آپ کے وزیراعظم کے افغانستان کے دو حالیہ دوروں کو افغانستان میں سراہا گیا۔ آپ نے سلامہ ڈیم اور پارلیمنٹ بلڈنگ کی تعمیر میں ہماری مدد کی اور اس کے علاوہ کئی نئے پراجیکٹ بھی ہیں جو پائپ لائن میں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:حال ہی میں افغانستان میں ایک سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر افغانستان کو مزید سیکیورٹی درکار ہے تو اب یہی وقت ہے کہ انڈیا قدم آگے بڑھائے۔ کیا افغانستان یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے ایسی کوئی ضرورت ہے؟

جواب:ہماری خوش قسمتی ہے کہ افغانستان خود اپنی دفاعی صلاحیتوں کی تعمیر کر رہا ہے، اپنی آرمی بنا رہا ہے۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے افغانستان سے غیر ملکی (امریکی) ٹروپس واپس بلائے جا رہے ہیں۔ یہ وہ ٹروپس ہیں جو افغان آرمی کی دفاعی صلاحیت کی تعمیر و تشکیل کر رہے ہیں۔ لہٰذا افغانستان کو بھارتی مدد کی ضرورت تو ہے، لیکن ہم اپنے ہاں انڈین فوج کی موجودگی نہیں چاہتے۔ ہمیں اپنی زمین پر انڈین فوجیوں (Boots) کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم از سر نو کسی بیرونی فوج کے بوٹ افغانستان میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ ہمیں اپنے ’’بوٹوں‘‘ (فوجیوں) کو خود ہی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جو ہم بنا رہے ہیں۔

مزید :

کالم -