ینگ ڈاکٹرز، دوسری تنظیموں کے مظاہرے، علاج بند کردیا، مذاکرات کے بعد ہڑتال ختم ہوئی

ینگ ڈاکٹرز، دوسری تنظیموں کے مظاہرے، علاج بند کردیا، مذاکرات کے بعد ہڑتال ...

  

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مکمل ہوئے، مسلم لیگ(ن) نے دو تہائی اکثریت سے فتح حاصل کی ، یہ انتخابات آزاد کشمیر کے علاوہ پورے پاکستان پر پھیلے ہوئے تھے کہ مقبوضہ جموں اور کشمیر کے مہاجرین کے لئے بھی نشستیں مختص ہیں، جو مہاجر پاکستان میں مقیم ہیں ان کے لئے نشستیں مختص کی گئی ہیں، یہ کراچی، لاہوراور پشاور تک پھیلی ہوئی ہیں، لاہور میں وادی کے مہاجرین کے لئے مختص نشست مسلم لیگ(ن) ہار گئی اور یہاں سے تحریک انصاف آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری دیوان غلام محی الدین بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے، اس انتخاب کی دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن) کے دونوں امیدوار پیپلز پارٹی کے امیدوار سمیت تینوں جیالے ہیں، فتح یاب دیوان غلام محی الدین ، ان کے مقابل مسلم لیگ(ن) کے عباس میر اور پیپلز پارٹی کے عمر شریف بخاری تینوں جیالے ہیں کہ پہلے دونوں پرانے اور عمر شریف بخاری ماضی سے حال تک ہیں، دیوان غلام محی الدین اور غلام عباس میر دونوں کا تعلق شمالی لاہور سے ہے، دونوں دوست بلکہ کشمیر شادی ہال میں حصہ وار بھی تھے، بیرسٹر سلطان محمود پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تو دیوان غلام محی الدین کی ان کے ساتھ دوستی ہوگئی اور وفاداری بشرط استواری کے مطابق دیوان نے اپنا تعلق مضبوط کرلیا، چنانچہ بیرسٹر نے پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی جماعت بحال کی تو دیوان بھی چلے گئے اس اثناء میں عباس میر نے آئندہ کے لئے اس حلقہ سے ٹکٹ کا اپنے لئے مطالبہ کردیا، لیکن سابقہ انتخابات کے دوران بیرسٹر واپس آگئے تو دیوان بھی چلے آئے اس مرتبہ وہ پیپلز پارٹی پنجاب کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری بنادیئے گئے 2008 کے انتخابات کے لئے جب عباس میر کو ٹکٹ ملنے کی توقع نہ رہی تو وہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے اور ان کو وہاں سے اس حلقہ کا ٹکٹ مل گیا، پولنگ کے روز جھگڑے ہوئے اور الیکشن ملتوی ہوگیاجو مسلسل ملتوی ہی رہا اور یہ نشست خالی رہی، اس بار فوج کی نگرانی میں انتخابات ہوئے دیوان اور میر کے درمیان بعض دوستوں نے تناؤ کو ختم کرانے کی کوشش کی بہر حال انتخاب پر امن ہوگیا اور دیوان پیپلز پارٹی چھوڑنے کے باوجود جیت گئے اس میں ان کا اپنا کمال تھا کہ وہ ووٹروں سے مسلسلے رابطے میں تھے، پیپلز پارٹی نے عمر شریف بخاری کو ٹکٹ دیا فیصلہ تاخیر سے ہوا، اور پھر جیالوں کو آمادہ کرنے میں دیر لگی یوں ان کا نمبر تیسرا ہی رہا۔

لاہور میں اسی دوران کشمیریوں پر بھارتی ظلم و تشدد کے خلاف آواز بلند کی گئی، مظاہرے ہوئے اجلاس اور جلسے منعقد کر کے یکجہتی کا اظہار کیاگیا، لاہور سے جماعت اسلامی اور اس سے پہلے جماعت الدعوۃ نے ریلیاں نکالیں جو اسلام آباد تک گئیں۔

ان ریلیوں کے علاوہ یہاں ینگ ڈاکٹروں کے مظاہرے جاری تھے اور کئی دوسری تنظیمیں بھی مطالبات کے حق میں آواز بلند کررہی تھیں، پیپلز پارٹی والوں نے تو پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیاتاہم دوسری تنظیمیں اپنے اپنے مطالبات کے لئے اسمبلی ہال کے باہر اور فیصل چوک میں مظاہرہ کرتی رہیں، مال روڈ کی ٹریفک بند ہونے سے نواحی سڑکوں پر بھی دباؤ بڑھا اور ہر مظاہرے کے وقت ٹریفک جام ہوتا رہا، اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، ینگ ڈاکٹروں نے تو مظاہرے کے دوران کام بند کیا اور پھر آؤٹ ڈور میں کام بند کر کے ہڑتال کردی جس کے بعد انتظامیہ اور محکمہ صحت سے طویل مذاکرات کے بعد یہ احتجاج ختم کردیا گیا۔

خبر یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 18جولائی (پیر) کو اسلام آباد جانا تھاوہ ٹانگ میں انفیکشن کی وجہ سے نہ جاسکے اور یہاں افواہوں کا بازار گرم ہوتا رہا، بہر حال طبعیت بحال اور بہتر ہونے پر وہ 21جولائی کو لاہور سے اسلام آباد پہنچے اور سرکاری امور باقاعدگی سے ادا کرنا شروع کئے پس ان کو آزاد کشمیر انتخابات میں کامیابی کی اطلاع ملی، ان کے لاہور میں قیام کے دوران افواہ ساز فیکٹری زوروں پر رہی، اس میں کوئی ایک بھی درست نہ ہو پائی۔

ہفتہ رفتہ کے دوران لاہور میں مینہہ بھی خوب برسا اور لسیکو کے نظام نے بھی خوب ہی جواب دیا، ہفتے اور اتوار کی شب بہت تیز بارش ہوئی تو شہر کے درجنوں فیڈر ٹرپ کرگئے، بلکہ بعض راز دار تو کہتے ہیں کہ لیسکو والوں نے خود ہی بند کئے کہ بار ش کے بہانے بچت کرلی جائے یا پھر بارش کے باعث کسی نقصان سے بچا جائے اسی طرح دو روز قبل(پیر) کو پھر بارش ہوئی تو پھر یہی حال تھا ایک طرف تو پانی کھڑا ہوا دوسری طرف بجلی بند ہوگئی اس بار تو گیارہ سو کے وی کی تارگرنے سے دو افراد بھی جاح بحق ہوگئے جس کا وزیر اعظم نے بھی نوٹس لیا، بہر حال جمع ہونے والا پانی پھر بھی جلد نہ نکالا جاسکا اور بجلی کی بندش بھی نہ رکی، بعض علاقوں میں سات ساتھ گھنٹے بجلی بند رہی، مصطفے ٹاؤں وحدت روڈ کا فیڈرانڈسٹریل (ii)اتنا بد قسمت ہے کہ معمولی آندھی اور بارش بھی اس کی بولتی بند کردیتی ہے، بجلی فیل ہو جاتی ہے اور پھر پانچ سے ساتھ گھنٹے تک درست نہ ہونا مستقل روگ ہے، پیر کو بھی گیارہ بجے سے بند ہونے والی بجلی7گھنٹے کے بعد ہی بحال ہوئی۔

ضلعی انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ کی سخت ہدایات کی روشنی میں ڈینگی سے بچنے کے لئے آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ صفائی کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے، پمفلٹ تقسیم کئے گئے اور بعض علاقوں سے ٹیموں نے پانی بھی نکلوایا لیکن حالیہ بارشوں نے شہر کے نشیبی حصوں، باغات اور پارکوں کے نشیب کی طرف اپنا ٹھکانا نہ بنایا ڈینگی مخالف مہم بڑی شاہرا ہوں اور بازاروں میں چلی اور نجی لوگوں کے گملوں، ٹائروں اور کولروں وغیرہ سے پانی نکلوایا گیا لیکن پارکوں اور باغات میں جمع ہونے والا پانی آج بھی کھڑا ہے اور یقیناًاس میں مچھر پیدا ہوا ہوگا، اور سو رہا ہوگا، ادھر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -