نئے متوقع وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار باپ عبداللہ شاہ کے بیٹے ہیں

نئے متوقع وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار باپ عبداللہ ...

  

سید قائم علی شاہ کو بزرگوں کی نشانی قرار دینے والی بزرگوں کی وارث قیادت نے ان کو رخصت کر کے ان کی جگہ جواں سال قیادت کو لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ سطور شائع ہوں گی تو دوبئی میں کئے جانے والے فیصلوں کی تفصیل عملی شکل میں سامنے آ چکی ہو گی۔ مرنجاں مرنج طبیعت اور شخصیت سید قائم علی شاہ نے قیادت کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا اعلان کر کے الوداعی ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔ متوقع نئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ بھی اپوزیشن جماعتوں سے ملاقات کر رہے ہیں تاکہ سید قائم علی شاہ کی طرح اتفاق رائے سے منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر پائیں۔ نئے وزیراعلیٰ کے لئے اتفاق رائے کے لئے بڑی اپوزیشن پارلیمانی پارٹی ایم کیو ایم سے معاملہ کرنا پڑے گا۔ پیپلزپارٹی کے پاس اپنا وزیراعلیٰ منتخب کرانے کے لئے 91 ارکان کے ساتھ واضح اکثریت موجود ہے، جبکہ مجموعی طور پر اپوزیشن جماعتوں کے پاس 74 ارکان کی تعداد ہے جس میں50ارکان کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے سید مراد علی شاہ نے پیر پگارو سے ملاقات کی ہے۔ کنگری ہاؤس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سید مراد علی شاہ نے پیر پگارو سے اعتماد کا ووٹ دینے کی درخواست کی ہے۔ سید مراد علی شاہ نے گورنر سندھ سے بھی ملاقات کی ہے۔ ایم کیو ایم کے علاوہ سندھ اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی دیگر جماعتوں کے ارکان کی تعداد 23ہے جو اگر سب کے سب سید مراد علی شاہ کو اعتماد کا ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو نئے وزیراعلیٰ اس خطرہ سے محفوظ ہو جائیں گے، جو پارٹی کے اندر ناراض ارکان کی اعتماد کے ووٹ کے وقت غیر حاضری یا ان کے حق میں ووٹ نہ استعمال کرنے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ سید مراد علی شاہ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ اور سابق سپیکر سندھ اسمبلی مرحوم سید عبداللہ شاہ کے بیٹے ہیں۔ سید عبداللہ شاہ پیپلزپارٹی کی پہلی 1971ء میں قائم ہونے والی حکومت کے ممتاز بھٹو اور غلام مصطفی جتوئی کی حکومتوں میں خوراک کے وزیر تھے اور دوسری حکومت1988ء میں سندھ اسمبلی کے سپیکر اور تیسری حکومت1993ء میں سندھ کے وزیراعلیٰ رہے ہیں۔1996ء میں سردار فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم کی تو سید عبداللہ شاہ کو کرپشن اور بدعنوانی کے الزام میں نگران حکومت نے گرفتار کر لیا تھا۔ نگران حکومت کے دور میں ہی سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت ہوتے ہی وہ خفیہ طور پر بیرون مُلک چلے گئے تھے، پھر وہ طویل عرصے تک اپنی فیملی کے ساتھ جرمنی میں مقیم رہے۔ متوقع وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ بھی ان کے ساتھ بیرون مُلک مقیم رہے۔ سید مراد علی شاہ نے خود اختیاری جلا وطنی کے دوران معاشیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ قبل ازیں وہ این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کراچی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سرکاری ملازم کے طور پر کام کرتے رہے۔ سید عبداللہ شاہ کا شمار بھی پیپلزپارٹی کے وفادار کارکنوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے غیر معروف نوجوان وکیل کی حیثیت سے 1970ء میں پیر علی احمد شاہ راشدی جیسے گھاگ سیاست کے ماہر کھلاڑی کو شکست سے دوچار کیا تھا۔2002ء کے عام انتخابات میں وہ کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے خود پاکستان نہیں آئے البتہ اپنے بیٹے سید مراد علی شاہ کو الیکشن لڑنے کے لئے پاکستان بھیج دیا تھا جو ان کی نشست پر 2002ء،2008ء اور2013ء میں تیسری بار منتخب ہوئے ہیں۔

سید عبداللہ شاہ نے خود اختیاری جلا وطنی کا طویل عرصہ جرمنی میں گزارا۔ وہ شدید بیماری کی حالت میں این آر او ہونے کے بعد اس وقت کے سندھ کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے آخری دور میں پاکستان آئے اور چند روز بعد ہی دُنیا سے رخصت ہو گئے۔ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے اچھا کیا تھا کہ انہوں نے سید عبداللہ شاہ کی وطن میں دفن ہونے کی خواہش پوری کرنے میں تعاون کیا تھا۔ سید مراد علی شاہ کا شمار سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ارکان میں ہوتا ہے، مگر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ وہ سندھ میں خراب حکمرانی کی جگہ اچھی حکمرانی قائم کرنے کی مثال قائم کر پائیں گے یا نہیں؟ اس کا بہت کچھ دارو مدار ان کو نامزد کرنے والی قیادت پر ہو گا کہ وہ سید قائم علی شاہ کی طرح بے اختیار وزیراعلیٰ رکھتے ہیں یا ان کو اپنی صوابدید کے مطابق آئین کے تحت حاصل وزیراعلیٰ کے اختیارات کسی مداخلت کے بغیر استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں؟ وہ باصلاحیت نوجوان ہیں، مگر سیاست کے نشیب و فراز کا وہ تجربہ ان کے پاس نہیں ہے جو ان کے والد محترم سید عبداللہ شاہ کے پاس تھا، ان کے پیشرو سید قائم علی شاہ کو حاصل تھا۔ سید قائم علی شاہ کے بارے میں جس کی جو مرضی چاہے کہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات میں سر سے پیر تک دھنسی ہوئی پارٹی قیادت اور حکومت میں کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات سے اپنا ذاتی دامن بچا کر رخصت ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی میں کیا پاکستان بھر میں کوئی دوسرا شخص ایسا موجود نہیں ہے جس کا عملی سیاست کا تجربہ نصف صدی سے زیادہ ہو۔ سید قائم علی شاہ نے1960ء میں جنرل ایوب خان کے مارشل لاء میں ہونے والے پہلے غیر جماعتی بلدیاتی انتخاب میں حصہ لے کر عملی سیاست کا آغاز کیا تھا۔ وہ 1960ء کے غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات میں ضلع کونسل خیر پور میں منتخب ہوئے تھے وہ پیپلزپارٹی کے بانی ارکان میں ہیں، مگر اس وقت وہ واحد زندہ سیاسی رہنما ہیں، جنہوں نے 1970ء میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب جیتا تھا اور1973ء کے دستور پر دستخط کئے تھے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں ممتاز بھٹو کی وزارت میں مشیر وزیر رہے اور بعدازاں 1973ء کے دستور کے نفاذ کے بعد وفاقی وزیر خوراک اور سرکاری تحویل میں لی جانے والی صنعتوں کے وزیر رہے۔ ایک بار وہ ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) کے عتاب کا نشانہ بنتے بچے اور معاملہ ان کی وزارت کا محکمہ تبدیل ہونے پر ٹل گیا تھا سید قائم علی شاہ مُلک کے معروف دانشور قانون دان اے۔ کے بروہی (مرحوم) کے بہنوئی ہیں۔ سید قائم علی شاہ کا تعلق مسلم لیگ کونسل سے بھی رہا۔1970ء میں اے۔ کے بروہی یوسف ہارون کے ذریعے سید قائم علی شاہ کے لئے ممتاز دولتانہ سے کونسل مسلم لیگ کا ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے، مگر جب کونسل مسلم لیگ نے اپنا ٹکٹ سید غوث علی شاہ کو دے دیا تو پیپلزپارٹی نے 1970ء میں خیرپور سے سید قائم علی شاہ کو اپنا ٹکٹ پیش کر دیا تھا، جس پر وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے رہے وہ اپنے روایتی حریف سید غوث علی شاہ کے مقابلے میں صرف ایک بار 1997ء میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ جس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے انہیں سینیٹ میں منتخب کرایا تھا۔ سید قائم علی شاہ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہے ہیں، انہوں نے جام صادق علی (مرحوم) جیسے شخص کی حکومت میں قائد حزب اختلاف کا کردار موثر انداز میں ادا کیا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ جام صادق علی (مرحوم) کے نگران دور میں سید قائم علی شاہ کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے استقبالیہ کیمپوں پر فائرنگ کرنے کے جھوٹے اور بے بنیاد الزام میں گرفتار کر کے بدترین انتقام کا نشانہ بنایا گیا تھا، مگر سید قائم علی شاہ نے اقتدار میں آنے کے بعد جھوٹے مقدمہ میں ملوث کرنے کی زیادتی پر ایم کیو ایم سے کوئی انتقام لیا اور نہ جام صادق علی کے خاندان کے ساتھ اس انتقام کا کوئی حساب کتاب چکایا۔ اس نامہ نگار کی پہلی ملاقات سید قائم علی شاہ سے 1970ء میں سکھر میں اے۔ کے بروہی کے ہاں ان کے ہم زلف اور معروف صحافی اقبال مرزا کے ساتھ ہوئی تھی۔ یہ نامہ نگار جناب الطاف حسن قریشی صاحب کے ساتھ اے۔کے بروہی صاحب کی انتخابی مہم کا جائزہ لینے کے لئے گیا تھا۔ سید قائم علی شاہ ایک ہفتے تک صبح سے شام تک ہمیں اپنی جیپ میں اے۔ کے بروہی کے حلقہ انتخاب کا دورہ کرانے کے لئے لے جاتے رہتے تھے پھر ان کو پیپلزپارٹی کا ٹکٹ مل گیا تو وہ سکھر سے خیر پور اپنی انتخابی مہم چلانے کے لئے چلے گئے تھے۔ سید قائم علی شاہ کے اندازِ حکمرانی سے لاکھ اختلاف کے باوجود یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات میں طبیعتاً ایک شریف النفس انسان اور مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک سیاست دان ہیں۔ ان کی سیاست میں ذاتی انتقام کا پہلو نہ ہونا ان کی سیاست کا ایک بڑا اعزاز ہے جو ہمیشہ ان کے حامی اور مخالف یاد رکھنے پر مجبور ہوں گے اور شاید وہ بھی جو ان کی رخصتی پر شاداں اور مسرور ہیں یہاں یہ ذکر کرنا مناسب نہ ہو گا۔ 1990ء میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت نے اسی طرح اچانک رخصت کیا تھا مگر پھر یہ ہوا کہ چند ماہ بعد ہی پیپلزپارٹی کی حکومت کی بساط ہی لپیٹ دی گئی تھی۔ بعض سیاسی تجزیہ نگار اس بار بھی خدشہ کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں اللہ کرے ایسا نہ ہو۔

مزید :

ایڈیشن 1 -