ملتان، جیا لا کلچر پھر عروج پر، جنوبی پنجاب میں پارٹی کنونشن، جوش پیدا ہوا

ملتان، جیا لا کلچر پھر عروج پر، جنوبی پنجاب میں پارٹی کنونشن، جوش پیدا ہوا

  

ملتان سے شوکت اشفاق:

ایک طرف سندھ میں برسراقتدار پیپلز پارٹی اپنی ہی حکومت والے صوبے میں سیاسی انتشار کا شکار ہے کراچی کے بعد اندرون سندھ میں بھی ان کے ’’وابستگان‘‘ کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اور الزامات ایسے ہیں جن کا جواب ابھی تک سیاسی سطح پر دیا گیا اور نہ ہی حکومتی حوالے سے لاتعلقی ظاہر کی گئی ہے اس سے قبل بھی پارٹی کے چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نہ صرف خود ملک سے باہر ہیں بلکہ سندھ کابینہ کے کچھ ارکان بھی از خود ’’جلاوطنی‘‘ اختیار کر چکے ہیں جبکہ جو یہاں موجود ہیں ان کے پیچھے قانون نافذ کرنے والے ادارے لگے ہوئے ہیں، رینجرز کو اختیارات کے مسئلہ پر ایک مرتبہ پھر ڈیڈ لاک سی کیفیت پیدا کر دی گئی ہے لیکن اس مرتبہ لگتا ہے کہ اس ڈیڈ لاک کا خاتمہ سید قائم علی شاہ کی وزارت اعلیٰ کو بھی لے ڈوبا ہے۔ جس کے لئے پارٹی کے ذرائع اپنے نوجوان چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے یہ خبر جاری کر چکے ہیں کہ دوبئی میں ہونے والے پارٹی اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری کی سفارش پر قائم علی شاہ کو وزارت اعلیٰ سے ہٹا کر سابق وزیر اعلیٰ سندھ عبداللہ شاہ کے بیٹے مراد علی شاہ کو وزیر اعلیٰ بنایا جا رہا ہے اب مراد علی شاہ پارٹی اور ’’پاور‘‘ کے درمیان کتنے اچھے ورکنگ تعلقات پیدا کر سکتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن دوسری طرف پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب اس وقت سیاسی طور پر متحرک نظر آتی ہے اور غالب امکان یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں اس طرح متحرک ہونا بھی بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی ہدایات پرہے جس پر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے تمام عہدیدار بشمول صدر مخدوم احمد محمود، خواجہ رضوان عالم، شوکت بسرا، اکرم کہنوں، خالد حنیف لودھی، ایم سلیم راجہ، ارشد مہے، ناصر حیدری اور نسیم لابر سمیت تمام عہدیدار شامل ہیں جو پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں عہدیداروں اور کارکنوں کو متحرک کر رہے ہیں جس کے لئے ورکرز کنونشن کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

جنوبی پنجاب کے دوسرے شہروں میں اس قسم کے کنونشن کے بعد گذشتہ دنوں ملتان میں بھی کارکنوں کا ایک بڑا کنونشن منعقد کیا گیا جس کے لئے تمام تر انتظامات پارٹی کے جنوبی پنجاب کے کوارڈینیٹر اور سینئر رہنما خواجہ رضوان عالم نے کئے اس کنونشن میں کارکنوں نے دل کھول کر اپنی پارٹی کے متعلق حق اور مخالفت میں بھی تقریریں کیں۔ ’’جیالا‘‘ ایک مربتہ پھر یہاں جوبن میں نظر آرہا تھا اور پر جوش تقاریر میں پنڈال جئے بھٹو کے نعروں سے گونجتا رہا روایتی بھنگڑے اور کھانے پر چھیناجپٹی کی روایت بھی برقرار رکھی گئی اس کنونشن کی خاص بات مخدوم احمد محمود اور سید یوسف رضا گیلانی کی تقاریر تھیں جو جیالوں کے لئے جوش دلانے کے لئے کافی تھیں سید یوسف رضا گیلانی نے جب یہ کہا کہ ان کی حکومت نے صوبوں کو خود مختاری دی، این ایف سی ایوارڈ اور سرائیگی صوبے کے لئے قرار دار منظور کرائی جس پر پنڈال میں جئے بھٹو کے نعروں پر دھمالیں ڈالی گئیں یہ اس وقت مزید زور پکڑ گیا جب سابق وزیر اعظم نے اشارہ دیا کہ آئندہ بھی پیپلز پارٹی کی حکومت میں اس قسم کے کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو نہ ختم ہونے والی پارٹی قرار دیا اور کہا کہ آئندہ الیکشن میں پیپلز پارٹی ملک بھر میں کلین سویپ کرے گی، اب سید یوسف رضا گیلانی کی یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ نہیں اس کے لئے عام انتخابات 2018 کا انتظار کرنا پڑے گا اور اس میں پیپلز پارٹی کاسیاسی طور پر کس جماعت سے پالا پڑتا ہے اس پر بھی مخدوم احمد محمود نے پارٹی ورکروں کو سند دے دی ہے کہ میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں سیاستدان نہیں ہیں ان کے خیال میں ایک کاروباری شخصیت ہے جبکہ دوسرا ایک اچھا کرکٹر ہے مگر وہ انہیں اچھا سپورٹس مین بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں کیونکہ سپورٹس مین میں برداشت کی ایک قدرتی طاقت ہوتی ہے جو ان میں نہیں ہے انہوں نے پانامہ لیکس پر بھی حکومتی موقف پر سخت تنقید کی اور توقع ظاہر کی پانامہ لیکس موجودہ حکومت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اب یہ کیسے ہو گا اس کے لئے مزید انتظار کرنا پڑے گا تاہم پیپلز پارٹی کا یہ خواب کب پورا ہوتا ہے یہ دیکھنا ہو گا۔

دوسری طرف بزرگ سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے بڑے پتے کی بات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ دھرنوں، جلسوں اور جلوسوں سے کم از کم مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا خاتمہ ممکن نہیں ہے اور نہ ہی ایسے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو کچھ ہونے لگا ہے البتہ یہ کیسے ہو گا اس کے لئے مخدوم جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو مشورہ کم ’’گائیڈ لائین‘‘ دی ہے کہ اگر وہ حکومت کو سیاسی طور پر ’’ہلانا‘‘ چاہتے ہیں تو اسمبلی سے اجتماعی استعفے دے دیں اور بطور رکن اسمبلی تنخواہیں اور مراعات چھوڑ دیں بزرگ سیاستدان کی یہ مشورہ نما گائیڈ لائین اب تحریکی مانتے ہیں یا اسے رد کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر ایک بات واضح نظر آرہی ہے کہ تحریک انصاف کے اندر سیاسی اختلافات کی جو شروعات ہوئی تھیں وہ اب بڑھتی جا رہی ہیں خصوصاً آزاد کشمیر میں محض دو سیٹوں کے ساتھ پارٹی کا مورال خطرناک حد تک کم ہوا ہے جس کا اثر پنجاب کے ان علاقوں میں بھی پڑ سکتا ہے جہاں تحریک انصاف سیاسی طور پر مضبوط سمجھی جاتی تھی اب اس کے لئے پارٹی سربراہ کیا فیصلہ کرتے ہیں اس کے لئے انتظار رہے گا کہ وہ سیاسی طور پر کتنا بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں اور اس کی روشنی میں وہ تحریکیوں کو کیسے متحرک رکھ سکتے ہیں؟

مزید :

ایڈیشن 1 -