تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات شدید ہوگئے ناراض ارکان کی تحریک چلانے کی دھمکی،مفاہمت نہ ہوسکی

تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات شدید ہوگئے ناراض ارکان کی تحریک چلانے کی ...

  

بابا گل سے:

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت میں اندرونی اختلافات سنگین شکل اختیار کرنے کے بعد کھل کر سامنے آگئے تحریک انصاف کے ناراض اراکین پارلیمنٹ نے عمران خان کی موجودگی میں دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات پورئے نہ کئے گئے تو وہ وزیر اعلی کو ہٹانے کیلئے عوام سے رجوع کریں گے اورایک لمبی تحریک کا آغاز کریں گے ناراض ارکان کو منانے کے غزض سے عمران خان جب پشاور آئے توتقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جارحانہ انداز خطابت اپنایا اورواضع الفاظ میں پیغام دیا کہ جس نے تحریک انصاف میں رہنا ہے وہ رہے اور جس نے جانا ہے وہ چلا جائے اور اپنی الگ پارٹی بنالے مبعرین کا خیال ہے کہ عمران خان نے اشارۃ یہ پیغام وزیر اعلی کو دیا مگر ناراض اراکین نے اس پیغام کے فورا بعد ایم پی اے یاسین خلیل کی رہاشگاہ پر ہنگامی اجلاس منعقد کیا اس اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے 10 اور قومی اسمبلی کے 5 اراکین نے شرکت کی اجلاس میں طویل بحث اور غوروحوض کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا کہ ناراض اراکین کے مطالبات پورئے نہ ہونے کی صورت میں 29 جولائی سے تحریک کا آغاز کیا جائے گا اور عوام سے رجوع کر کے جلوس اورریلیاں نکالی جائیں گی ناراض اراکین نے اپنی تحریک کیلئے ایسے وقت کاانتخاب کیا جب خود عمران خان انہی دنوں وفاقی حکومت کیخلاف تحریک کا آغاز کرنے والے ہیں عین اس وقت تحریک انصاف کے اندر سے اپنی پارٹی یا صوبائی حکومت کیخلاف کسی قسم کی تحریک عمران خان سمیت تمام مرکزی قیادت کیلئے کسی دھچکے سے کم نہیں تھی جسے فوری کنٹرول کرنا ناگزیر سمجھا گیا اور عمران خان نے وزیر اعلی پرویز خٹک سمیت تمام ناراض اراکین کو بنی گالہ طلب کرلیا ناراض اراکین بعض وزراء پر کرپشن اور وزیر اعلیٰ پر فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کے الزامات لگا کر وزیراعلیٰ کو ہٹانے کامطالبہ کررہے ہیں جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان اپنے حظاب کی روانی میں ان کے مطالبات کو درست تسلیم کرکے ازالے کی یقین دہانی کراتے رہے ہیں۔

دوسری طرف وزیر اعلیٰ پرویزخٹک نے تبدیلی کے نعرے پر عملدرآمد میں ناکامی کااعتراف کرتے ہوئے برملاکہا کہ عمران خان برسوں کے کام دنوں میں کرانا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے 90 دن میں تبدیلی 5 برسوں میں بھی نہیں آسکتی کچھ دن قبل عمران خان کے جارحانہ خطاب اور بعد ازاں وزیر اعلیٰ کی طرف سے ناکامی کے اعتراف سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے درمیان بھی ’’ سب اچھا‘‘ نہیں ہے مگر اس وقت عمران خان کی مجبوری ہے کہ وہ وفاق کیخلاف اپنی تحریک کو مضبوط اور موثر بنانے کیلئے پارٹی کے اندرونی اختلافات کو مزید ابھرنے نہ دیں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے عمران خان کا ساتھ دیتے ہوئے پانامہ لیکس کیخلاف اٹک سے پشاور تک احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے یہ ریلی 7 اگست کو نکالی جائیں گی یہ احتجاج پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد اٹک سے شروع ہوگا اور پنجاب جانے کی بجائے پشاور کی طرف آئے گا ریلی کے ذریعے وفاقی حکومت کی کرپشن اور پانامہ لیکس سے فرارکیخلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے شریف برادران خصوصا میاں محمد نواز شریف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ شریف برادرن کو فرار ہونے نہیں دیا جائے گا بلکہ مکمل تحقیقات کراکے کرپشن کے ذریعے لوٹ مار کی دولت کا حساب لیا جائے گا تحریک انصاف کے اندر اختلافات کی ہنگامہ آرائی اور پانامہ لیکس کے خلاف شور شرابے کے دوران مختلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین کی طرف سے زیر حراست سابق وزیر ضیاء اللہ آفریدی کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے گزشتہ دنوں جے یو آئی کے رہنما اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے ہسپتال میں ضیاء اللہ آفریدی سے ملاقات کی اور انہیں جے یو آئی میں شمولیت کی دعوت دی ضیاء اللہ آفریدی جو کہ بظاہر خاموش ہیں مگر قریبی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ایم پی اے سابق وزیر ضیاء اللہ آفریدی نے سب سے بڑی حلیف پارٹی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے جس کا باضابطہ اعلان وہ کسی بھی موزوں وقت پر کریں گے وہ موزوں اس وقت یقیناًا ن کی باضابطہ رہائی کے بعد ہی آسکتا ہے اگر وہ واقعی ضیاء اللہ آفریدی آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو یہ تحریک انصاف خصوصا عمران خان کیلئے شدید دھچکاثابت ہوگا۔

مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے تین بڑوں میں بھی سرد جنگ چلنے کی اطلاعات گردش کررہی ہیں پارٹی کے صوبائی صدر کے انتخاب کیلئے تینوں بڑے اقبال ظفر جھگڑا انجینئر امیر مقام اور پیر صابر شاہ الگ الگ تقریبات اور پروگرام کررہے ہیں کسی بھی تقریب میں ایک سے زائد بڑوں کو اکٹھا نہیں دیکھا گیا قیاس ہے کہ صوبائی صدر کا عہدہ لینے کیلئے تینوں بڑوں میں رسہ کشی ہورہی ہے سابق ورزیر اعلیٰ پیر صابر شاہ 20 برسوں سے صوبائی صدارت کے عہدے پر براجمان ہیں اور اب پارٹی کی بعض شخصیات اس منصب پرتبدیلی کی خواہاں ہیں جبکہ پیر صابر شاہ ایک مرتبہ پھر صوبائی صدر بننے کے خواہشمند نظر آتے ہیں آنے والے وقتوں میں پتہ چل جائے گا کہ پارٹی کی صوبائی قیادت کا تاج کس کے سر سجتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت یعنی بلاول بھٹو بھی خیبر پختونخوا میں متحرک ہوگئے اور پارٹی کی دو اہم شخصیات خانزادہ خان اور رحیم داد خان کو فوری طورپر دبئی طلب کر لیا جسکا مقصد خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کو نئے سرئے سے فعال اور متحرک بنانا ہے اس بات کا قومی امکان ہے کہ دونوں شخصیات کو اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی اور کسی ایک کو صوبائی صدر نامز د کر کے خیبر پختونخوا میں نئی تنظیم سازی کی جائے گی اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں دونوں شخصیات پارٹی کے صوبائی صدر رہ چکی ہیں اور ان کے ادوار میں پارٹی میں شدید اختلافات رہے ماضی میں پارٹی کی مرکزی قیادت کی بعض پالیسیوں سے شدید اختلافات کے باعث پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی بھاری اکثریت سیاسی منظر نامے سے غائب ہوگئی جس کی وجہ سے قومی انتخابات کے علاوہ بلدیاتی انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کو بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا وفاق میں پیپلز پارٹی کی متنازعہ پالیسیوں بارئے اب بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور پارٹی کے کارکن یہ محسوس کررہے ہیں آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر پارٹی کو مسلم لیگ کے مفادات پر قربان کرنے جارہے ہیں ایسے میں کسی بھی شخصیت کو قیادت ملنے کے بعد اسے شدید اختلافات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑئے گا جبکہ دوسری طرف یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ صوبائی سیٹ اپ بناتے وقت پشاور شہر کو اس کا کتنا حق دیاجائے گا کیونکہ ماضی میں نظر انداز کرنے پر پشاور سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے بغاوت کردی تھی۔

خیبر پختونخوا کے اس تمام سیاسی منظر نامے میں لشکر اسلام کے امیر منگل باغ کی ہلاکت کی خبر بھی سامنے آئی جے نیٹو فورسز نے افغانستان کے سرحدی علاقے میں ڈرؤن حملے کا نشانہ بنایا وہ 22 جولائی کے حملے میں زخمی ہوئے اور اسکے اگلے روز زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے منگل باغ کا تعلق خیبر ایجسنی کی تحصیل باڑہ سے ہے ان کی ہلاکت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے ان کی ہلاکت سے لشکر اسلام سمیت تمام جنگجو گروپوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اس سے قبل تحریک طالبان خراسانی گروپ کے سربراہ خالد عمر خراسانی کو بھی ڈرون حملے کے ذریعے ہلاک کیا گیا ان ہلاکتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امریکہ جب چاہیے ہلاک کرسکتا ہے تو پھر دہشتگردوں گروپوں کیخلاف فیصلہ کن کاروائی کیوں نہیں کرتا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -