پنجاب میں نئی جیلوں کی تعمیر اور تکمیل کی نگرانی کیلئے ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں 7رکنی کمیٹی تشکیل

پنجاب میں نئی جیلوں کی تعمیر اور تکمیل کی نگرانی کیلئے ایڈووکیٹ جنرل کی ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان نے پنجاب میں نئی جیلوں کی تعمیر اور تکمیل کی نگرانی کیلئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان کی سربراہی میں 7رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔کمیٹی کے دیگر ارکان میں ڈی آئی جی جیل خانہ جات ،ہوم ڈیپارٹمنٹ کاایڈیشنل سیکرٹری ،محکمہ مواصلات و تعمیرات کا چیف انجینئر یا سپرنٹنڈنٹ انجینئر ،محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا ایڈیشنل سیکرٹری ،فنانس ڈیپارٹمنٹ کا ایڈیشنل سیکرٹری اور درخواست گزار کے وکیل سید معظم علی شاہ (جو کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے بھائی ہیں )شامل ہوں گے ۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ اگر نئی تعمیر کی جانیوالی جیلوں کو بجلی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے گی۔ فاضل جج نے یہ احکامات درخواست گزار ردا قاضی کی طرف سے دائرایک متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے جاری کئے ۔فاضل عدالت نے 18 اکتوبر تک کمیٹی سے جیلوں کی تعمیر کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ طلب کرلی اور کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ ہر ماہ اجلاس منعقد کرے گی اور اس کی رپورٹ فاضل جج کو پیش کرے گی ،عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے توسط سے کمیٹی اپنی پراگریس رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی پیش کرے گی تاکہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے ۔فاضل جج نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ کمیٹی پنجاب میں نئی جیلوں کے قیام کو عدالتی حکم کے مطابق مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنائے گی۔سماعت کے دوران ایدووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ نئی جیلوں کی تعمیر کے حوالے سے تمام متعلقہ محکمے مکمل تعاون کررہے ہیں اور مقررہ وقت میں جیلوں کی تعمیر کرلی جائے گی۔عدالت کو بتایا گیا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کئے جانے کے باوجود گیپکو کی طرف سے حافظ آباد کی زیرتعمیر جیل کے لئے تاحال بجلی کا کنکشن فراہم نہیں کیا گیا تاہم گیپکو حکام کی طرف سے 31جولائی تک بجلی کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا ہے ،اس پر فاضل جج نے میپکو کے وکیل کو ہدایت کی کہ متعلقہ حکام کو عدالتی ناراضی سے آگاہ کردیا جائے اور متعلقہ حکام کی عدالت میں موجودگی یقینی بنائی جائے تاکہ توہین عدالت درخواست پر کاروائی شروع کی جائے۔متعلقہ محکموں کی جانب سے حافظ آباد ، نارووال ،راجن پور ، سب جیل شجاع آباد اور خانیوال اضلاع میں نئی جیلوں کی تعمیر اور ممکنہ تکمیل کی تاریخ سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔اس کیس کی مزید سماعت

مزید :

صفحہ آخر -