18 سالہ لڑکی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پرڈی پی او پاکپتن سے تفصیلی جواب طلب

18 سالہ لڑکی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پرڈی پی او پاکپتن سے تفصیلی جواب ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس قاضی امین نے دو برس قبل اغواء ہونے والی 18 سالہ لڑکی کی بازیابی کے لئے دائر درخواست پرڈی پی او پاکپتن سے تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے جبکہ فریقین کے وکلاء کو آئندہ تاریخ سماعت پر لازمی پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت28جولائی تک ملتوی کر دی۔درخواست گزار بزرگ خاتون شیماں بی بی کی درخواست پرخاتون نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ اس کی بیٹی اٹھارہ سالہ نسرین کو ستمبر2015میں اغواء کیا گیا۔، چک بیدی پاکپتن پولیس نے حنیف، رفیق اور علی شیر سمیت دیگر ملزموں کے خلاف نامزد مقدمہ درج کیا لیکن ملزم گرفتار نہیں کئے،۔ وزیر اعلی ہاؤس کے احکامات کے باوجود چھ ماہ بعد مقدمہ درج ہوا، اب عدالتوں میں وکیل پیش نہیں ہوتے، بیٹی کی بازیابی تاخیر نہیں ہو رہی ہے، درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی نوٹسز اور مقدمہ درج ہونے کے باوجود درخواست گزار خاتون کی بیٹی ابھی تک بازیاب نہیں کرائی جاچکی۔ مغویہ کے بھائی نواز نے بتایا کہ عدالتوں اور تھانوں میں پیسے دے دے کر تنگ آ چکے ہیں، پولیس والے ہر مرتبہ پیسے لے لیتے ہیں لیکن نسرین کی بازیابی پر کچھ نہیں بتاتے۔، لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او پاکتین سے لڑکی کے اغوا کے معاملے پر ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی اور ہدایت کی کہ یہ بتایا جائے کہ لڑکی اب تک بازیاب کیوں نہیں ہوئی اور کتنے ملزم گرفتار کئے گئے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -