منشیات کا عالمی مافیا سرگرم، بڑے شہروں میں رنگین محفلیں، نوجوان نسل تباہی سے دوچار

منشیات کا عالمی مافیا سرگرم، بڑے شہروں میں رنگین محفلیں، نوجوان نسل تباہی سے ...

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی منشیات مافیا نے اسلام آباد، لاہور، کراچی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالا، گجرات، سیالکوٹ اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں نوجوان نسل کو تباہ کرنے کیلئے مہنگے، نایاب اور خطرناک نشہ کا عادی بنانا شروع کر دیا ہے۔ بگڑے ہوئے رئیس زادے، رئیس زادیوں، اعلیٰ سرکاری افسروں کے بچوں اور مختلف بیوروکریٹس کو بڑے بڑے فارم ہاؤسز، ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں پارٹیوں اور میوزیکل نائٹس کے نام پر بلا کر انہیں کوک ٹیل ، پارٹی ڈرگ ٹیبلٹس، کولمبین کوکین، ای ٹیلبٹس اور دیگر نشہ آور ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ حساس ادارے کی اس حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مافیا اپنا اثر آہستہ آہستہ بڑھا رہا ہے۔ اب پارٹیوں میں کئی اعلیٰ شخصیات بھی نظر آتی ہیں۔ خدشہ ہے کہ منشیات کے عادی بنائے جانے والے لوگوں سے حکومت اور ملک کیخلاف کوئی کام لیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں یہ کام عام ہو رہا ہے۔ اسلام آباد، کراچی اور لاہور اس دھندے کے گڑھ بن چکے ہیں۔ لاہور میں جوہر ٹاؤن، ستوکتلہ، برکی روڈ، مناواں،گجومتہ اور بیدیاں روڈ پر واقع فارم ہاؤسز، ڈیفنس، شادمان، گلبرگ اور نصیر آباد کی کوٹھیوں اور گیسٹ ہاؤسز میں ہر ویک اینڈ پر ہوشربا پارٹیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان پارٹیوں کے انٹری کارڈ کی قیمت 10 سے 20 ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ ان پارٹیوں کی حفاظت کیلئے مقامی پولیس باقاعدہ سیکیورٹی فراہم کرتی ہے۔ ان پارٹیوں میں بھارت اور یورپ سے برآمد کردہ 3 سے 35 ہزار مالیت کی کوک ٹیل، پارٹی ڈرگ ٹیبلٹ، 12 سے 30 ہزار فی گرام والی کولمبین کوکین اور انگلش شراب کی بوتلوں میں مقامی طور پر تیار کی گئی نشہ آور شراب فراہم کی جاتی ہے۔ مافیا بڑے اور پاور والے گھرانوں کو اپنی پارٹیوں میں مدعو کرتا ہے اور ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر انھیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔ ان پارٹیوں میں بے حیائی کی انتہا ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ان پارٹیوں میں نشہ کرنے والے کئی افراد اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ ڈیفنس کے ایک بلاک میں ان پارٹیوں میں استعمال ہونے والا نشہ سرعام فروخت جا رہا ہے جبکہ فردوس مارکیٹ کے علاقہ میں پرویز نامی ایک شخص انگلش شراب کی بوتلوں میں زہریلی شراب ان پارٹیوں میں سپلائی کر رہا ہے۔ اعدادوشار کے مطابق تین سے چھ ماہ کے دوران ان پارٹیوں میں نشہ آور ادویات استعمال کرنے والے 472 افراد ہسپتال پہنچے جن میں سے 32 دم توڑ گئے۔ آل پاکستان فیملی فزیشن کے صدر معروف مالج ڈاکٹر میاں نے روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان پارٹیوں میں استعمال ہونے والا نشہ سیدھا دماغ اور دل پر اثر کرتا ہے، خون کی گردش انتہائی تیز ہو جاتی جس سے برین ہیمرج ہو جاتا ہے اور ہارٹ اٹیک کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم نے ایسی کئی پارٹیوں پر چھاپہ مارا اور متعدد افراد کو گرفتار کیا، کارروائی جاری رہے گی۔

رنگین محفلیں

مزید :

صفحہ آخر -