حکمران دہشتگردی ختم کرنے کے دعوؤں سے قوم کو گمراہ نہیں کرسکتے، طاہر القادری

حکمران دہشتگردی ختم کرنے کے دعوؤں سے قوم کو گمراہ نہیں کرسکتے، طاہر القادری

  

لاہور(خبر نگار خصوصی)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اور دہشت گردی ختم کرنے کے فرضی اعداد و شمار جاری کر کے حکمران قوم کو گمراہ کررہے ہیں۔کرپشن اور دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق سول حکومتوں نے مجرمانہ کردار ترک نہ کیا تو قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ حیرت ہے 9 کروڑ سمز کو بند اور 11 کروڑ کی تصدیق کرنے کی اہلیت رکھنے والے حکمران مردم شماری ،مدارس کی رجسٹریشن اور غیر ملکی فنڈنگ کے خاتمہ میں مکمل طور پر بے بس ہیں؟ 14 لاکھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر نے کے دعویدار بتائیں انہیں کون سی جیلوں، حوالاتوں میں رکھا گیااور کتنی ٹیمیں تفتیش پر مامور ہیں؟ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلاسگو میں پارٹی عہدیداروں اور اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کل تک جو نیکٹا اپنے لیے فنڈز، عملہ اور دفتر مانگ رہا تھا آج وہی نیکٹا جادوئی کارکردگی کے قصے سنارہا ہے۔ حکمرانوں نے قومی ایکشن پلان کی بریفنگ کی ذمہ داری اب ایک سرکاری افسر کو سونپ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے 20 نکات میں سے 80فیصد آج بھی عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ فرضی کارکردگی سے عوام اور ملک کے مستقبل سے کھیلا جارہا ہے۔ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی کی وجہ آپریشن ضرب عضب ہے۔ اگر سول حکومتوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو ضرب عضب ہے اگر سول حکومتوں نے ایکشن پلان پر سنجیدگی نہ دکھائی تو آپریشن ضرب عضب کے ثمرات اور اثرات کے ضائع ہو جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ 31 جولائی کو قومی مشاورتی اجلاس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -