چارسدہ ،جماعت اسلامی یوتھ نے 21 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈپیش کردیا

چارسدہ ،جماعت اسلامی یوتھ نے 21 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈپیش کردیا

  

چارسدہ (بیورورپورٹ)جماعت اسلامی یوتھ نے چارسدہ ہسپتال کو حقیقی معنوں میں علاج گاہ بنانے کیلئے 21 نکاتی چارٹر آف دیمانڈ پیش کردیا ۔ ہسپتال کو ایکسپریس لائن سے بجلی کی فراہمی ،ہسپتال کو خود مختاری دینے ، سات سپیشل ڈاکٹروں سمیت 25ڈاکٹرو ں کی کمی پورا کرنے ، سولر سسٹم کی تنصیب ، ڈائیلاسز مشین چالو کرنے ، ہسپتال سے ٹاؤٹ ختم کرنے ، گائنی یونٹ میں گائنا کالوجسٹ کی موجودگی یقینی بنانے اور بائیو میٹرک سسٹم سے عملہ کی حاضری یقینی بنانے کے مطالبات ۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارسدہ کو حقیقی معنوں میں علاج گاہ بنانے کیلئے جماعت اسلامی یوتھ کے زیر اہتمام چارسدہ ہسپتال میں ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے تحصیل ممبر ہارون خان اور جماعت اسلامی یوتھ کے کارکن بھی بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی یوتھ کے ضلعی صدر محمد نعمان اورپی کے 19کے صدرنوید خان نے صوبائی حکومت ، محکمہ صحت اور ذمہ داراداروں سے مطالبہ کیا کہ1988سے قائم ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ میں عوام کے علاج معالجہ کیلئے سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے چارسدہ کے عوام کو علاج کیلئے دیگر شہروں کو جانا پڑتا ہے اور ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ کی افادیت ختم ہورہی ہے ۔ اُنہوں نے چارسدہ ہسپتال کو حقیقی معنوں میں علاج گاہ بنانے کیلئے 21نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جس میں چارسدہ ہسپتال کو ایکسپریس لائن سے بجلی کی فراہمی ،ہسپتال کو خود مختاری دینے ، سات سپیشل ڈاکٹروں سمیت 25ڈاکٹرو ں کی کمی پورا کرنے ، سولر سسٹم کی تنصیب ، ڈائیلاسز مشین چالو کرنے ، گائنی یونٹ میں گائنا کالوجسٹ کی موجودگی یقینی بنانے ، ہسپتال میں موجود بائیو میٹرک سسٹم سے عملہ کی حاضری یقینی بنانے ، جنریٹر کی مرمت ، ان ڈو ر اور آوٹ ڈور ہسپتال میں خراب آئر کنڈیشن ٹھیک کرنے ،صفائی کا نظام بہتر کرنے ، نجی کلینکس میں اپریشن کے بعد مریضوں کا ہسپتال میں ایڈمشن بند کرنے ، پروموشن کے ادویات تجویز کرنے پر مکمل پابندی ، ایمرجنسی یونٹ میں کم از کم دو ڈاکٹروں کی 24گھنٹے موجودگی یقینی بنانے ، ایمر جنسی آنے والے مریضوں کو تمام ادویات مفت فراہم کرنے ، نان پریکٹس الاؤنس لینے والے ڈاکٹروں کی پریکٹس پر پابندی لگانے، لیبارٹری ایکسرے اور بلڈبینک میں ٹیکنیکل سٹاف کی ڈیوٹی یقینی بنانے ، او پی ڈی سے مریضوں کو پرائیویٹ کلینکس بھیجنے والے ڈاکٹروں اور ٹاؤٹس کے خلاف بھرپور کاروائی ، خواتین کے الٹرا ساؤنڈ کیلئے فی میل سٹاف کی تعیناتی ،ڈاکٹروں کیلئے مختص رہائشی کمروں کو قبضہ مافیا سے واگزار کرنے ، ایمرجنسی آنے والے گاڑیوں سے پارکنگ فیس کی وصولی بند کرنے اور قانون کے مطابق پارکنگ کا ٹھیکہ ٹینڈر کے ذریعے یقینی بنانے کے مطالبات شامل ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -