امریکا نے پاکستان کو بحرانی صورت حال میں نظر انداز کیا:سینیٹرجان مکین

امریکا نے پاکستان کو بحرانی صورت حال میں نظر انداز کیا:سینیٹرجان مکین
امریکا نے پاکستان کو بحرانی صورت حال میں نظر انداز کیا:سینیٹرجان مکین

  

کراچی( ویب ڈیسک)امریکی سینیٹر جان مکین کا کہنا ہے کہ امریکا نے پاکستان کو بحرانی صورت حال میں نظر انداز کیا۔افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف امریکی مشن پاکستان کے تعاون کے بغیر حیران کن حدسے بھی زیادہ مشکل ہے۔

برطانوی اخبار’فنانشل ٹائمز’ میں اپنے مضمون میں جان مکین نے لکھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے اسٹریٹجیک اہمیت واضح ہے۔ حال ہی میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ صورت حال سے دو چار ہو گئے ہیں۔ دوسری چیزوں کے علاوہ، پاکستان کے لئے امریکی امداد کی حدود اور دفاعی سازوسامان کےلئے سب سڈی کی منظور ی میں کانگریس کی ہچکچاہٹ نے دونوں حکومتوں کے در میا ن کشیدگی میں اضافہ کیا ہے ، ان مشکلات کے باو جود، امریکی اور پاکستانی رہنماو¿ں نے متضاد جذبات اور شک کو بڑھاوا دے کرتلخیوں میں اضافہ نہیں کیا۔ انسداد دہشت گردی، جوہری سلامتی اور علاقائی استحکام میں مشترکہ مفادات بھی اہم اور بہت ضروری ہیں۔ طویل عرصے تک امریکہ نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقا ت کو افغانستان کے تناظر میں دیکھا ہے۔حقیقی ترقی کے حصول کے لئے امریکا کو پاکستان کے استحکام اور معاشی ترقی کے لئے اپنا پائیدار عزم واضح کرنا ضروری ہے۔

جان مکین جو آرمڈ سروسز پر امریکی سینیٹ کمیٹی کے چیئر مین بھی ہیں انہوںچا ر جولائی کو افغانستان اور پاکستان کا دورہ کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ 4 جولائی کو وہ افغانستان میں امریکی فوجیوں اور فوجی کمانڈروں سے ملنے اپنے سالانہ دورے پرافغانستان آئے،اس کے بعد انہوں نے پاکستان کا دورہ بھی کیا اور سول اور فوجی رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں،جس میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دور ے سے ان پر دو چیزیں واضح ہوئیں اول افغانستان میں امریکی مشن آج بھی ویسا ہی ہے جیسا 2001 میں تھا،اس مشن کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کوشکست دینا اور انہیں ختم کرنا تھا، یہ دہشت گرد گروپس امریکا اور اس کے مفادات پر حملہ کرنے کے در پے ہیں، اس مشن کی اسی شد ومدسے ضرورت ہے اور یہ بدقسمتی سے ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔دوسرا، افغا نستا ن میں دہشت گردوں کے خلاف امریکی مشن پاکستان کے تعاون کے بغیر مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعاون ضروری ہے۔ اسی طرح امریکہ اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے اسٹریٹجیک تعاون انتہائی ضروری ہے ،یہ تعاون افغا نستا ن میں امریکی مشن کی کامیابی، اورخطے کے استحکام کے لیے اہم ہے جو پاکستان اور امریکہ دونوں کی قومی سلامتی کے حق میں ہےجان مکین لکھتے ہیں کہ اپنے طور پر پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف سخت کاررو ائی کرنی چاہیے اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا چاہیے ان دہشت گرد گروپوں میں افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ اور جیش محمد شامل ہیں جو ہمسایہ ممالک پر حملہ آور ہوتے ہیں اور امر یکی فورسز کو قتل کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سمیت پاکستانی رہنما ﺅ ں نے ان کے خلاف کاررو ا ئی کا اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔تاہم یہ پاکستان کے لئے مشکل ہو گا اس کےلئے سیاسی عزم کی ضرورت ہوتی ہے اور خون اور پیسے کی قربانی دینی پڑے گی۔یہی وجہ ہے کہ انتہا پسندی کو شکست دینے کا فیصلہ کن کوششوں کی مخالفت میں شک پیدا ہو جائے گا لیکن نواز شریف اور جنرل راحیل شریف نے پہلے بھی تحمل سے اس طرح کی دلیلوں کو سنا ہے۔ پشاور واقعے کے بعد بھی طالبان کے خلاف کارروائی میں مشکلات درپیش آنے کے خدشات کا اظہارکیا جاتا رہا، خوش قسمتی سے نواز شریف اور جنرل شریف نے اس خطرے کو تسلیم کیا جو ان عسکریت پسند وں سے پاکستان کو درپیش ہے اور انہوں نے کارروائی کی۔ ان کوششوں کا شکریہ کہ پشاور اسکول حملے کے مجرم اب پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے لئے خطرہ نہیں رہے۔2014 ءمیں پاکستان نے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا۔ شمالی وزیرستان میںمیرانشاہ کے دورے کے دوران میں نے شہر کے بازار دیکھے جوایک بار بم بنانے کے کارخانوں، اسلحہ ڈیلروں اور دہشت گرد گروپوں کے دفاتر تھے۔

پاکستانی فوجیوں کے اقدامات کی بدولت یہ اب موت کی مارکیٹ نہیں رہے۔ اب فوج شمالی وزیر ستا ن میں سڑکیں، سرحدی چوکیاں، اسکولوں اور صحت کی سہولیات کی تعمیر کر رہی ہے جو اس بات کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں قبائلی علاقوں میں اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے میں ناکامی تھی۔اس آپریشن سے ہر پناہ گاہ ختم نہیں ہوئی اور نہ ہر دہشت گرد پکڑا گیا، اس کے لئے سالوں کی ضرورت ہوگی۔ لیکن اس سے ملک کی سیکورٹی صورت حال بہتر ہو گئی۔ پا کستا ن کے پاس موقع ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارر وائی کر کے ان شکوک کو ختم کرے جو خطے میں بھارت ،افغانستان اور امریکی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستان پائے گا کہ امریکی ہمیشہ تیار ہیں اور اس جنگ میں مدد اور ایک پائیدار اسٹریٹجک شراکت داری کو تیار ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -