پاکستان میں ادویہ ساز کمپنیوں پر بڑی پابندی لگادی گئی ، تفصیلات ایسی کہ جان کرآپ کی خوشی کی انتہاءنہیں رہے گی

پاکستان میں ادویہ ساز کمپنیوں پر بڑی پابندی لگادی گئی ، تفصیلات ایسی کہ جان ...
پاکستان میں ادویہ ساز کمپنیوں پر بڑی پابندی لگادی گئی ، تفصیلات ایسی کہ جان کرآپ کی خوشی کی انتہاءنہیں رہے گی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان’ڈریپ‘ نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ادیات تیاری کا پابند بنانے کی منظوری دے دی ہے اور نئے ضوابط کے اطلاق کے بعد نہ صرف ملک میں شہریوں کوبہترین ادویات فراہم ہوں گی بلکہ بیرون ملک ادویات کی برآمدات کیلئے بھی راہ ہموار ہوگی جس سے ملک کی معیشت کو سہارا ملے گا۔ اس سے قبل انکشاف ہوا تھاکہ پاکستان میں تقریباً 90فیصد فارماسوٹیکل کمپنیاں غیرمعیاری ادویات کے کاروبار سے منسلک ہیں جس کی وجہ سے ایتھوپیا جیسے ملک نے بھی پاکستان کی بیشترکمپنیوں کی ادویات قبول کرنے سے انکار کردیاتھا۔

تفصیلات کے مطابق ڈرگ رجسٹریشن بورڈ مستقبل میں کسی نئی دوائی کو بین الاقوامی فارمولا کے مطابق تیار کرنے کی شرط کے بغیر رجسٹرڈ نہیں کرے گا جبکہ پرانی رجسٹریشن والی ادویات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ادویات تیاری کا پابند بنانے کی منظوری دے دی۔ پرانی رجسٹریشن والی ادویات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرنے کیلئے ایک سال کی مہلت دی جائے گی جس کے بعد فارماسیوٹیکل کمپنیوں کیلئے ادویات تیاری کا فارمولا پیکنگ پر لکھنا لازمی ہوگا بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ڈریپ کے مطابق دواءتیار کرنے کے تین بین الاقوامی معیار ہیں جس میں برٹش فارماکو پیا، امریکن فارماکوپیا اور یورپین فارماکوپیا ہیں۔ دنیا بھر میں مذکورہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ادویات تیار کی جاتی ہیں جس کو مدنظر رکھتے ہوئے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ادویات مذکورہ فارما کوپیا میں سے کسی ایک کے مطابق تیار کرنے کا پابند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈریپ اس حوالے سے آئندہ ہفتے باضابطہ احکامات جاری کرے گا جس کے مطابق رجسٹریشن بورڈ آئندہ کوئی بھی نئی دواءکی رجسٹریشن مذکورہ بین الاقوامی معیار میں سے کسی ایک کے مطابق دوائی تیار کرنے کی منظوری کے ساتھ کرے گا۔ ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر اسلم نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ادویات کے معیار کو یقینی بنانا اور جعلی ادویات کی روک تھام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق دوائیںتیار نہ کرنے والی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ڈریپ کی طرف سے کمپنیوں کو بین الاقومی معیار کی ادویات کی تیاری کا پابند بنائے جانے سے تقریباً ایک سال قبل سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر عبدالحسیب خان نے انکشاف کیاتھاکہ ملک میں 600لائسنس یافتہ فیکٹریاں ہیں لیکن ایتھوپیا جیسے پسماندہ ملک نے بھی صرف 29کمپنیوں کو ادویات برآمد کرنے کی اجازت دی ۔اُن کاکہناتھاکہ غیرمعیاری ادویات دے کرہم اپنی نوجوان نسل کو جیتے جی ماررہے ہیں ، جعلی ادویات کے استعمال سے کئی افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں لیکن ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایاگیا۔ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس ڈاکٹر اے کیوجاوید نے اعتراف کیاکہ ملک میں مشکوک ادویات کا کاروبار پھیل رہاتھا۔

دوسری طرف ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2015ءکی روشنی میں ادویات کی قیمتوں میں سالانہ اضافے کو کنزیومر پرائس انڈیکس سے باہم مربوط کردیاگیاجس کا باضابطہ اعلان پاکستان بیوروآف شماریات کرچکی ہے جبکہ سی پی آئی کی شرح 2.86فیصدمتعین کی گئی ۔

مزید :

بزنس -