’ابھی 300 ارب روپے ادا کردو ورنہ۔۔۔‘ ترک صدر طیب اردگان نے یورپ کو ایسی سنگین ترین دھمکی دے دی کہ مغربی ممالک کی راتوں کی نیندیں اُڑادیں

’ابھی 300 ارب روپے ادا کردو ورنہ۔۔۔‘ ترک صدر طیب اردگان نے یورپ کو ایسی سنگین ...
’ابھی 300 ارب روپے ادا کردو ورنہ۔۔۔‘ ترک صدر طیب اردگان نے یورپ کو ایسی سنگین ترین دھمکی دے دی کہ مغربی ممالک کی راتوں کی نیندیں اُڑادیں

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپ نے شامی و عراقی پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں ہی روکنے کے حوالے سے ترکی کے ساتھ 5ارب ڈالر کا ایک معاہدہ کر رکھا ہے۔ اب ترکی نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد مغرب کے ساتھ تعلقات میں کھنچاﺅ آنے پر یورپ کو اس حوالے سے ایک ایسی دھمکی دے دی ہے کہ جس سے مغربی ممالک سخت پریشانی میں مبتلاءہو گئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے یورپ سے کہا ہے کہ ”معاہدے کے 3ارب ڈالر(تقریباً 3کھرب روپے) ہمیں فوری طور پر ادا کرو، ورنہ ہم پناہ گزینوں کو یورپ کا راستہ دکھا دیں گے۔“جرمنی کے نشریاتی ادارے اے آر ایم سے گفتگو کرتے ہوئے رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ”ان سے پوچھو کہ کیاانہوں نے رقم ادا کی ہے؟ہم رقم نہ ملنے کے باوجود 30لاکھ مہاجرین کو اپنے ملک میں رکھے ہوئے ہیں۔ اگر ہم نے ان تمام مہاجرین کو یورپ جانے کی اجازت دے دی تو پھر یورپ کیا کرے گا؟“

’یہ کام ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کریں گے‘ ایران نے ایسا اعلان کردیا کہ پاکستانیوں کو خوش کردیا

اے آر ایم سے گفتگو کے دوران رجب طیب اردگان نے یورپی ممالک پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ”یورپی حکومتیں ایماندار نہیں ہیں۔ وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہیں اور معاہدے کے مطابق ہمیں رقم ادا نہیں کی۔“واضح رہے کہ شام اور عراق میں جاری جنگ کے باعث لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہجرت کرکے ترکی سے بحیرہ روم کے راستے یورپی ممالک یونان اور اٹلی پہنچ رہے تھے اور وہاں سے دیگر یورپی ممالک میں جا رہے تھے جس سے ان یورپی ممالک میں ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہو چکا تھا۔ ترکی نے معاہدے کے بعد لاکھوں پناہ گزینوں کو واپس ترکی بھیجنے کی اجازت دی تھی اور نئے لوگوں کے بحیرہ روم کے راستے یونان اور اٹلی نہ پہنچنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ اس کے بدلے میں ان پناہ گزینوںکے انتظام و انصرام کے لیے یورپ نے 5ارب ڈالر ادا کرنے تھے جس میں سے اب تک انہوں نے معمولی رقم ہی ترکی کو ادا کی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -