طاقت کی زبان

طاقت کی زبان
طاقت کی زبان

  

تقریباً تین سال پہلے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا تھاکہ شمالی وزیرستان کو ملک سے الگ کرنے کا منصوبہ بن رہا ہے، یہ امریکی جنگ ہے، آرمی چیف سے انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان علاقوں کے معززین سے مذاکرات کریں،ان علاقوں میں مختلف رسم و رواج ہیں، بہر حال امریکہ اپنے مفادات کے لئے کبھی ہندوستان میں دراندازی کرنے کا الزام لگا رہا ہے اور کبھی افغانستان میں دہشت گردی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کا الزام لگارہا ہے یہ سب کچھ امریکہ ہندوستان کو اس خطے کی چودھراہٹ دینے کے لئے کررہا ہے۔

امریکہ کے موجودہ صدر نے تو سابقہ تمام کرداروں سے بڑھ کر ہندوستان کی سپورٹ شروع کی ہے اور پاکستان کے خلاف ایک نیا محاذ کھلوادیا ہے، حالانکہ پاکستان خودکئی سال سے دہشت گردی کا شکار ہے، خصوصاً ایک صوبہ خیبر پختونخوا۔ ہندوستان نے افغانستان میں ضرورت سے زیادہ قونصل خانے کھول رکھتے ہیں، جن کے ذریعے وہ پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کروا رہا ہے، پاکستان آرمی نے شمالی علاقوں میں جو آپریشن شروع کررکھے ہیں، ان دہشت گردوں کو پاکستان کے دشمنوں کی حمایت حاصل تھی اور ہے۔ کئی سال سے بلوچستان کو مشرقی پاکستان کی طرح پاکستان سے الگ کرنے کی سازشیں ہو رہی تھیں، وہاں کئی لوگ بغاوت پر آمادہ تھے،ان پر بھی پاکستانی فوج نے کنٹرول کیا ہے، ہمارا کردار پاکستان کے تسلیم شدہ دشمنوں سے بالکل مختلف ہونا چاہئے،مثبت طاقت اچھے اثرات پیدا کرتی ہے، جبکہ بے مہار طاقت معاشرتی اقدار، خاندان اور بسااوقات ممالک کے خاتمے کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز ایک فریم ورک کے اندر ہونی چاہئے۔

پاکستان کے وسیع علاقے زندگی کی ضروریات سے محروم ہیں، ان علاقوں کی طبی، سماجی پسماندگی، مہذب معاشرے پر کلنک کاٹیکہ ہے، مگر صدافسوس کہ ضروری امور پر توجہ دینے کی بجائے ہمارا ملک ناگہانی مصیبتوں کا شکار ہو رہا ہے یہ ضرور ہے کہ معاشرے میں برائی بدعنوانی ، وطن دشمنوں کے خلاف مزاحمت پیدا ہو چکی ہے، مگر اس سوچ کو ایک منظم صحیح لائن پر لانے کے لئے کوئی موثر تنظیم نظر نہیں آرہی۔ حالات متقاضی ہیں کہ ہر فرد، ادارہ، سنجیدہ خود احتسابی کا آغاز کرلے حد سے تجاوز، پریشان کن، اڑیل پن، ضد کو چھوڑدے۔ ہم سب ہی کچھ معاملات میں یکسو، پُرعزم، متفق ہیں، مگر شرارتی عناصر کی کارستانی شیطانی کھیل کو وسیع کررہی ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے لیڈروں ، حکومتی عہدے داروں کو اپنے اپنے ملکوں کے عوام کی بھلائی کے منصوبے مکمل کرنے پر توجہ دینی چاہئے، مگر موجودہ حالات میں ہندوستان امریکہ کی حمایتکی وجہ سے پاکستان پر اپنا دباؤ بڑھا رہا ہے تاکہ پاکستانی حکومت اور عوام کشمیر کا ایشو بھول جائیں یا چھوڑ دیں، لیکن پاکستان کے کسی بھی حکومتی سربراہ کے لئے یہ بہت مشکل ہے ، چونکہ پاکستان کے عوام ہر حال میں ہر صورت میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ افغانستان کے سابق حکمران اور موجودہ حکمران پاکستان کے خلاف ہیں، ان کو ہندوستان اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے اور غیر ملکی حکمرانوں کا پاکستان پر دباؤ پاکستان کی قیادت کی کمزور پوزیشن بھی ہو سکتی ہے، جب کسی بھی ملک کے اندرونی حالات خراب ہوں گے، قیادت کا فقدان ہوگا ، حکمران بادشاہت کا نظام قائم کرنے کی کوشش کریں گے تو لامحالہ ملک میں عوام اپنے حقوق کے لئے حکومتی قیادت کے خلاف آواز اٹھائیں گے جیسا کہ آج کل حکمران کا احتساب ہور ہا ہے، جس کی وجہ مراعات یافتہ طبقہ( چند سیاسی اور مذہبی رہنما) ایک طرف اور باقی سیاسی رہنما اور مذہبی پارٹیاں ایک طرف ہیں، حکمران اپنی حکومت بچانے کی کوشش میں ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں، باقی احتساب کے لئے کوشش کررہے ہیں۔

ہندوستانی حکمرانوں کے لئے کشمیری ایشو گلے کی ہڈی ہے جو ہندوستان کے ہر حکمران کے گلے میں پھنسی ہوئی ہے، بے شک کشمیر ایشو پر پاکستان بہت نقصان برداشت کررہا ہے پاکستان کا ہندوستان کے ساتھ کشمیر کے ساتھ ساتھ اب پانی کا ایشو بھی شروع ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے دونوں ملکوں میں دن بدن حالات خراب ہو رہے ہیں، مگر آگ اور خون کے دریا سے گزر کر دو حصوں میں تقسیم ہونے والے 70سالوں کے تسلیم شدہ دشمنوں میں ایسی باتیں وقت اور وسائل دونوں کا ضیاع ہے۔ دونوں ملک ایٹمی قوت سے لیس ہیں، ہندوستان تو شاید ایٹم سے کوئی دوسرا فائدہ حاصل کررہا ہے یا کوشش کررہا ہوگا، لیکن پاکستان نے ایٹمی قوت ( ایٹم بم) صرف سرحدی حفاظت کے لئے رکھا ہے، اس لئے عددی قوت رقبہ اب یاد کروانے کی چیز نہیں رہا، طاقت کے فلسفے کو ماننے والوں سے طاقت کی زبان میں ہی بات کرنا زیب دیتا ہے، پاکستان امن کا دشمن نہیں تحریریں گواہ ہیں، مگر یہ ضرور چاہتے ہیں کہ ہندوستان پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم کرے پھر بھی مسائل کا حل ممکن ہے، اس حقیقت کو سب تسلیم کرچکے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لئے پاکستان مخالف طاقتیں ملوث ہیں۔ پاکستان کو طاقت ور دشمنوں سے طاقت سے جواب دینے کی ضرورت ہے، حکمران قرضوں کی وصولی کے لئے ملک کو گروی نہ رکھیں، ملکی اداروں کو کمزور کرنے کی روش چھوڑنے کی ضرورت ہے، ملکی سلامتی کے لئے اب احتساب سب کا ہونا ضروری ہے جو حکمرانوں سے شروع ہوا ہے ، اس کو اب نیچے کی طرف لانا انصاف فراہم کرنے والوں کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

مزید : کالم