اعلیٰ عدلیہ کے لئے نئے ججوں کے تقرر کی سفارش

اعلیٰ عدلیہ کے لئے نئے ججوں کے تقرر کی سفارش

یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ جوڈیشل کمیشن نے اپنے اجلاس میں فیڈرل شریعت کورٹ، بلوچستان ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے لئے مجموعی طور پر آٹھ جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔جوڈیشل کمیشن کا اجلاس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی صدارت میں ہُوا۔ اجلاس میں وزیر قانون زاہد حامد، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی اور بار کونسلوں کے متعلقہ نمائندے بھی شریک ہوئے۔

اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار رہتی ہے۔خصوصی نوعیت کے مقدمات کی سماعت بھی وقفے وقفے سے اعلیٰ عدالتوں کے فاضل ججوں ہی کو کرنا پڑتی ہے۔اِس دوران معمول کے مطابق مقدمات کی سماعت متاثر ہوتی ہے۔ ویسے بھی اعلیٰ عدلیہ میں عام طور پر ججوں کی تعداد کم ہی رہتی ہے۔اِن حالات میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں میں نئے ججوں کی بھرتی سے مختلف اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کو جاری رکھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ نئے ججوں کی بھرتی کے لئے مقررہ معیار کا خیال رکھا جاتا ہے،جبکہ بعض ایڈیشنل اور ایڈہاک ججوں کی کنفرمیشن بھی جوڈیشنل کمیشن کے اجلاس میں ہی ہوتی ہے۔حالیہ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن نے فیڈرل شریعت کورٹ کے لئے دو نئے جج شامل کرنے کی سفارش کی ہے، جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ کے لئے چار ایڈیشنل ججوں کو تعینات کرنے کی منظوری دی ہے اور پشاور ہائی کورٹ میں دو ایڈیشنل جج مقرر کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ فیڈرل شریعت کورٹ میں اہم اور مخصوص مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔ اس اعلیٰ اور اہم عدالت میں بعض اوقات ججوں کی کمی کافی عرصے تک پوری نہیں ہوتی ۔ دو نئے جج مقرر ہونے سے مقدمات کی سماعت کرنے اور اُنہیں نمٹانے میں مدد ملے گی۔اسی طرح بلوچستان ہائی کورٹ میں چار ایڈیشنل ججوں کی تعیناتی سے بھی وہاں صورتِ حال بہتر ہو گی۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے چار ججوں کی تقرری سے بہت بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔ جوڈیشل کمیشن کی طرف سے پشاور ہائی کورٹ کے لئے دو ایڈیشنل جج لگانے کی سفارش سے بھی مقدمات کو بہتر طریقے سے نمٹایا جا سکے گا۔توقع ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی مطلوبہ تعداد کا خیال رکھا جائے گا اور ججوں کی کمی کو فوری طور پر دُور کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔یہ عمل عام لوگوں کو بروقت انصاف مہیا کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔اس مقصد کو کسی بھی مرحلے پر فراموش نہیں ہونا چاہئے۔

مزید : اداریہ