مجید نظامی۔۔۔ہر دور میں محترم

مجید نظامی۔۔۔ہر دور میں محترم
مجید نظامی۔۔۔ہر دور میں محترم

  

مجید نظامی26جولائی2014ء کو وفات پا گئے تھے۔ جب مجید نظامی کے انتقال پُرملال کی خبر مجھ تک پہنچی تو مجھے بے اختیار اثر صہبائی کا یہ شعر یاد آ گیا:

اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کِشتئ عمر

مَیں کسی اور سمندر میں اُتر جاؤں گا

اثر صہبائی کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔انہوں نے یہ شعر 1923ء میں کہا تھا۔احمد ندیم قاسمی نے بھی تقریباً 46سال بعد اثر صہبائی کے اِس خیال اور مضمون کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے ایک شعر میں دہرایا ہے:

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

مَیں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاؤں گا

مجید نظامی زندہ تھے تو ایک دریا تھے،وفات پا گئے ہیں تو اب ایک سمندرہیں۔اُن کی کِشت ئ عمر ٹوٹی نہیں صرف ہماری نظروں سے اُوجھل ہوئی ہے۔ویسے بھی موت میں اتنا دم خم کہاں کہ وہ مجید نظامی ایسے سُورما کو شکست دے سکے۔ مجید نظامی ایسی بہادری اور اپنے نظریات کے حوالے سے مستقل مزاجی مَیں نے بہت کم لوگوں میں دیکھی ہے۔ مجید نظامی کے قدموں میں(اپنے اصولوں پر ڈٹ جانے کے اعتبار سے) کبھی مَیں نے لغزش پیدا ہوتے نہیں دیکھی۔وہ ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی رائے تبدیل کر لینے والے آدمی نہیں تھے،بلکہ ہواؤں کا رخ تبدیل کرنے کا بے پناہ جذبہ، ہمت اور حوصلہ اُن کے اندر موجود تھا اِسی لئے وہ دُنیا کے پیچھے نہیں،بلکہ ایک دُنیا اُن کے پیچھے چلتی تھی۔شاید ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی وہ قائداعظمؒ اور اس پاکستان جو ابھی قائم بھی نہیں ہُوا تھا، کی محبت میں مبتلا ہو گئے تھے۔قتیل شفائی نے شاید یہ شعر مجید نظامی ہی کے لئے کہا تھا:

ایک یہی پہچان تھی اپنی اس پہچان سے پہلے بھی

پاکستان کا شہری تھا مَیں پاکستان سے پہلے بھی

پاکستان عطائے ربِ جلیل ہے۔ مجید نظامی اکثر کہا کرتے تھے کہ پاکستان جیسی غیر معمولی نعمت ہمیں منتقل کرنے کے لئے قائداعظمؒ کا انتخاب خدا نے خود کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے قائداعظمؒ کو ایسے تدبر و فراست سے نواز رکھا تھا کہ قائداعظمؒ ایک بکھری ہوئی قوم کی شیرازہ بندی ایک جماعت کے جھنڈے تلے کرنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر آزادی کا ایک ایسا سرچشمہ پھوٹا کہ ہمارے کارواں نے قیام پاکستان پر پہنچ کر ہی دم لیا۔ مجید نظامی نے زندگی بھر اِس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا کہ اسلام ہی وہ راستہ تھا،جس نے ہمیں پاکستان کی منزل تک پہنچایا۔ اسلام پاکستان کی اساس ہے۔اسی کو مجید نظامی نظریۂ پاکستان کہتے تھے۔ مجید نظامی کی نظریۂ پاکستان کے حوالے سے حد درجہ حساس ہونے کی وجہ بھی یہی تھی کہ مجید نظامی کے نزدیک نظریۂ پاکستان اور اسلام دو ہم معنی الفاظ تھے۔

قیام پاکستان کے دو ماہ بعد قائداعظمؒ نے پنجاب یونیورسٹی سٹیڈیم لاہور میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ہر شخص جس تک میرا یہ پیغام پہنچے وہ اپنے دِل سے یہ عہد کرے کہ ہم پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اور اسے دُنیا کے عظیم ترین ممالک میں شامل کرنے کے لئے وقت آنے پر اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے۔ہمارا مذہب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اپنا حوصلہ بلند رکھیں اور موت کے استقبال کے لئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ہمیں پاکستان اور اسلام کا وقار بچانے کے لئے موت کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہو گا،کیونکہ ایک مسلمان کے لئے شہادت سے بہتر اور کوئی رتبہ نہیں ہو سکتا‘‘۔

مجید نظامی قائداعظمؒ کے اسی پیغام کو پھیلانے اور فروغ دینے کے لئے مردانہ وار جہاد میں مصروف رہے۔ مجید نظامی کی کسی کے ساتھ اپنی ذات کے حوالے سے نہ دوستی تھی،نہ دشمنی۔جو اسلام اور پاکستان کا دوست تھا وہ مجید نظامی کا دوست تھا اور جو اسلام اور پاکستان کا دشمن تھا وہ مجید نظامی کا دشمن تھا۔ مجید نظامی کی ساری زندگی اِسی مقدس مشن میں گزر گئی کہ وہ ہمیشہ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کے خلاف سینہ سپر رہے۔انہوں نے زندگی بھر قوم کو اور ایوان اقتدار میں بیٹھے ہوئے افراد کو بھی قائداعظمؒ کا یہ مشن بار بار یاد دِلایا کہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی مملکت بننا تھا۔ایک ایسا پاکستان جس میں مساوات، عدل اور سماجی انصاف کے سرچشموں سے تمام پاکستانی شہری یکساں فیض یاب ہوں۔

جمہوریت کو بھی مجید نظامی اس لئے پاکستان کے لئے ناگزیر سمجھتے تھے،کیونکہ وہ قائداعظمؒ کی پیروی میں یہ کہا کرتے تھے کہ جمہوریت کا حکم ہمیں اسلام نے دیا ہے، جس طرح پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے معاملے میں مجید نظامی نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا تھا۔اِسی طرح جمہوری اقدار کے تحفظ کے لئے ہر فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف مجید نظامی نے جنگ بڑی پامردی سے لڑی اور مارشل لاء کی بادِ مخالف میں بھی اپنے خونِ جگر سے شمع جمہوریت کو روشن رکھنے کی پوری کوشش کی۔نظریۂ پاکستان کے بعد مجید نظامی نے جن روایات و اقدار کو مستحکم رکھنے کے لئے ہمیشہ جستجو اور جدوجہد کی ہے تو وہ جمہوری اقدار تھیں اور آئینِ پاکستان کی پاسداری۔ مجید نظامی کہتے تھے کہ ہماری بدقسمتی صرف یہ نہیں کہ یہاں فوجی آمروں نے ملکی آئین کی حرمت کو نقصان پہنچایا، بلکہ ہمارے نام نہاد منتخب حکمران بھی آئین اور جمہوری روایات کے پاسدار ثابت نہیں ہوئے۔اس حوالے سے مجید نظامی ذوالفقار علی بھٹو کے دور کو آمریت کا بدترین زمانہ قرار دیتے تھے۔ مجید نظامی نے پاکستان میں سول اور فوجی ہر طرح کی آمریتوں کا انتہائی پامردی سے مقابلہ کیا اور اُنہیں اپنی اس جرأت اظہار کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔حکومتوں کا آزاد اور خود دار صحافیوں کے خلاف سب سے موثر ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے مردانِ حُر کے اخبارات کے سرکاری اشتہارات بند کر دیتے ہیں۔ مجید نظامی کو ایسی مشکلات اور آزمائشوں سے کئی بار گزرنا پڑا،لیکن وہ بڑی خندہ پیشانی سے بڑے سے بڑا نقصان برداشت کرنے کے لئے اس وجہ سے ہمیشہ آمادہ رہتے،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر کلم ۂ حق کہنا ترک نہیں کرتا تو پھر اس کے لئے قربانی تو دینا پڑے گی۔جب آپ ایثار و قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو پھر دُنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی آپ کو حق و صداقت اور دیانت داری کے راستے سے ہٹا نہیں سکتی۔ مجید نظامی کا اِس بات پر بڑا پختہ یقین تھا کہ جب تک کوئی صحافی خود بکنے کے لئے تیار نہ ہو کسی مائی کے لال میں یہ جرأت نہیں ہو سکتی کہ وہ آپ کی آواز کو دبا سکے اور آپ کی تحریر کو خرید سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہر دور کے حکمران مجید نظامی سے خوفزدہ رہتے تھے،لیکن مجید نظامی کو کوئی حکمران کبھی بھی مرعوب نہیں کر سکا۔ مجید نظامی اپنے ان ہی اوصاف کے باعث ایک غیر متنازعہ قومی شخصیت تھے اور وہ لوگ بھی مجید نظامی کی بلندئ کردار کے معترف تھے جن کو مجید نظامی اپنے اخبار میں سخت تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔اسلام اور نظریۂ پاکستان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کے باعث اور اپنی صاف ستھری، ذمہ دارانہ اور نظریاتی صحافت کی وجہ سے مجید نظامی کا نام ہر دور میں محترم ہی رہے گا۔کاش ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل سکیں۔

مزید : کالم