پلاٹوں کی سیاست

پلاٹوں کی سیاست
پلاٹوں کی سیاست

  

ہمارے معاشرے میں دولت کا کردار بہت بڑھ گیا ہے اس رحجان کے ہماری معاشرت اور سیاست غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے میں بڑے مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں تمام طبقے کسی نہ کسی سطح پر کرپشن میں مبتلا ہو چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کرپشن شاید ہمارا مسئلہ نمبر ون بن گیا ہے۔ کرپشن کی کئی قسمیں ہیں۔ کمیشن لینا یا براہ راست کسی خدمت کے لئے پیسے لینا کرپشن ہے۔ اپنی پوزیشن سے ناجائز فائدہ اُٹھانا کرپشن ہے، اپنے رشتہ داروں کو جاب دلوانا پھر اُن کی جائز ناجائز ترقی کروانا کرپشن ہے، لیکن کرپشن کے کئی پہلو ایسے بھی ہیں بظاہر جن میں کوئی برائی نظر نہیں آتی ،رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ بھی کرپشن کی ایک ایسی شکل ہے جسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ سیاست دان اور بیورو کریٹ اپنی کلاس کے فائدے کے لئے قاعدے قانون بنانے اور حسب ضرورت ان میں ترمیم کرنے سے بالکل نہیں جھجھکتے۔

رہائش یوں تو ہر آدمی کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن اس ضرورت کو بنیاد بنا کر کچھ طاقتور طبقے ریاست کے وسائل کا بری طرح غلط استعمال کر رہے ہیں۔ فوج میں پلاٹوں اور زمینوں کی الاٹمنٹ پر تبصرہ کرنے سے تو سب کے پَر جلتے ہیں، لیکن سول بیوروکریسی بھی کسی طرح اِس معاملے میں پیچھے نہیں۔ سول میں عام سرکاری افسروں کو اُن کی سرکاری حیثیت کے مطابق ایک پلاٹ الاٹ کیا جاتا ہے پھر گریڈ 22 کے لئے شوکت عزیز صاحب نے دو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی۔ بیورو کریسی کو خوش کرنے کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہو سکتا ہے ۔یا د رہے کہ اُن کی حکومت کرپشن اور بیڈگورننس کے الزام پر سیاستدانوں کو نکال کر گڈگورننس قائم کرنے کے دعوے کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس ، جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس بیجا Favouritism کو ختم کر دیا،لیکن اُن کے جانے کے بعد پھر یہ پالیسی بحال ہو گئی،معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔اگر کسی سیکرٹری کی بیوی بھی گریڈ 22 میں پہنچ گئی تو یہ فیملی کیٹگری ون کے چار پلاٹوں کی حقدار ہو گئی۔ اگر کوئی صاحب ایک سال تک سی ڈی اے کے چیئرمین رہ جائیں تو وہ ایک مزید پلاٹ کے حقدار ہو جاتے ہیں۔ گویا انہوں نے سی ڈی اے کا چیئرمین بن کر قوم پر بڑا احسان کیا،لہٰذا انہیں انعام میں تنخواہ اور دوسری مراعات کے علاوہ پانچ چھ کروڑ روپے ادا کرنا ضروری ہے، جن افسروں کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے بورڈ کا رکن نامزد کیا گیا انہوں نے بھی ایک ایک پلاٹ الاٹ کرا لیا،جو وزیراعظم نے منسوخ کر دیا۔ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے اگر کسی نئے سیکٹر کے لئے زمین قابضین سے خالی کرانی ہوتی ہے تو ذرائع کے مطابق متعلقہ ایس پی، ڈی سی کو ایک ایک پلاٹ پیشگی الاٹ کر دیا جاتا ہے۔ یہ سرکاری تعاون اور فرائض کی قیمت ہے۔ ڈی سی ، ایس پی جن جن ضلعوں میں تعینات رہتے ہیں وہاں سرکاری سکیموں میں بھی اُن کا حصہ ہوتا ہے۔ پولیس سروس کے لوگ اپنی سرکاری حیثیت میں پلاٹ کے حقدار ہونے کے علاوہ پولیس فاؤنڈیشن کی سکیموں میں بھی فیض کے سزاوار ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج صاحبان بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہے۔ پھرصرف پلاٹوں پر بس نہیں پی ایچ اے انہی افسروں کے لئے جو پہلے ہی کئی پلاٹ الاٹ کرا چکے ہیں، لگژری فلیٹ تعمیر کرتی ہے۔ ہر وہ طبقہ جس کی کچھ Nuisance ویلیو ہے پلاٹوں کی اس لاٹری میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔ اب وکلاء کے لئے اسلام آباد میں خصوصی سیکٹر تیارکیا جا رہا ہے۔ صحافی تو پہلے ہی اس سرکل میں شامل ہیں ،چند سال پہلے پی ٹی وی کا شعبۂ نیوز صحافیوں کے کوٹے میں شامل ہو گیا۔ غرضیکہ پلاٹوں کی اِس لوٹ سیل میں سب شامل ہیں۔ کیا یہ سب کچھ پاکستان کو ویلفیئر اسٹیٹ بنانے کے عمل کا حصہ ہے، جس کا نعرہ اکثر سننے میں آتا ہے اور جس کا وعدہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کیا تھا۔

اسلام آباد میں آپ جہاں بیٹھیں وہاں پلاٹوں کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ضرورت اِس بات کی ہے کہ اِس پلاٹ کلچر سے نجات حاصل کی جائے۔ اِس قسم کی پالیسیاں جمہوریت کی روح کے خلاف ہیں، مخصوص طبقوں کو نوازنا اور تمام فوائد انہی تک محدود کرنا تو ڈکٹیٹر شپ کا خاصہ ہوتا ہے جمہوریت تو عام آدمی کی بھلائی اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے دعوے پر قائم ہوتی ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر لوگوں کا ایمان جمہوریت پر متزلزل رہتا ہے،چونکہ ان نوازشات میں عام آدمی کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ سرکاری افسروں کی رہائش کے مسئلے کا منصفانہ حل یہ ہے کہ ان کے لئے فلیٹس بنائے جائیں اوراس مقصد کے لئے افسروں کی تنخواہ سے کچھ رقم ماہانہ کاٹی جائے اور باقی حکومت ادا کرے اور جب کوئی افسر ریٹائر ہو تواسے رہائش کے لئے فلیٹ تیار ملے۔اسلام آباد میں اِس مقصد کے لئے جی سکس سیکٹر بہترین جگہ ہے خصوصاًآبپارہ مارکیٹ اور ستارہ مارکیٹ کے اردگرد کا علاقہ کچی آبادی کا منظر پیش کرتا ہے اِسے گرا کر فلیٹس بنائے جائیں، یہاں رہنے والوں کو بھی وہیں فلیٹس دیئے جا سکتے ہیں۔

ایک زمانے میں وزیراعظم نوازشریف ایسے آئیڈیاز کے لئے بڑا جوش و جذبہ رکھتے تھے۔ انہوں نے 1991ء میں سنگاپور کے سینئر وزیر مسٹر لی کوان یو (جو وزیراعظم رہ چکے تھے اور جنہیں سنگاپور کا معمار سمجھا جاتا ہے) سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ اُن کی حکومت کو مشورے دیں۔ مسٹر لی کے مطالبے پر پاکستان کے سیکرٹری جنرل خزانہ سعید قریشی کی قیادت میں تین رکنی وفد نے سنگاپور کا دورہ کیا اور انہیں پاکستان کی پالیسیوں پر بریف کیا۔ ٹیم کے دوسرے ارکان سیکرٹری خزانہ معین افضل اور چیف اکانومسٹ فصیح الدین تھے۔ 1992 ء میں لی کوان یو پاکستان آئے اور ایک ہفتے کے دورے کے بعد انہوں نے اپنے مشوروں پر مبنی ایک رپورٹ بھیجی، کچھ عرصے کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلی توڑ دی اور یوں نوازشریف صاحب فارغ ہو گئے۔ لہٰذا وہ رپورٹ داخل دفتر ہو گئی کیونکہ بعد میں محترمہ بینظیر بھٹو نے اُس میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ نواز شریف نے اِس دورے میں سنگاپور میں فلیٹس دیکھے، واپس آ کر انہوں نے اسی طرز پر فلیٹس بنانے کا پروگرام شروع کر دیا، لیکن اقتدار سے اُن کی رخصتی کے ساتھ یہ پروگرام بھی دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اِس دفعہ اُن کی توجہ غالباً سی پیک اور پھر اپنی بقاء پر مرکوز رہی ہے، لہٰذا ایسی کسی سکیم کا ذکر سننے میں نہیں آیا۔

مزید : کالم