بُک شیلف:’’امام الکلام‘‘ (2)

بُک شیلف:’’امام الکلام‘‘ (2)
 بُک شیلف:’’امام الکلام‘‘ (2)

  

شہنشاہِ الفاظ و سلطان المعانی و تاجدارِ سخن علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ نے امام الکلام کا دیباچہ خود تحریر فرمایا ہے جو گیارہ صفحات پر مشتمل ہے۔ ان صفحات میں چودھری صاحب نے عربی زبان میں علمِ عروض کی ابتدا خلیل بن احمد بصری کے نام معنون کی ہے۔ لیکن یہ بھی کہا ہے کہ عربی میں اس دور میں 16بحور مستعمل تھیں جو اہلِ عرب نے ایجاد کیں، جبکہ باقی تین بحور ایران والوں نے ایجاد کیں۔رباعی کے24 اوزان بھی ایرانیوں کی ایجاد ہیں۔لیکن ایرانی شعرا نے کسی ایرانی بحر کی بجائے عربی زبان کی بحر ہزج سے 24اوزان نکالے۔ اوران کو پھر دو شجروں میں تقسیم کیا جن کے نام ’’اخرب‘‘ اور ’’اخرم‘‘ ہیں۔

چودھری صاحب نے اس کے بعد ان 24اوزان کی تفصیل دی ہے جن کو اگر یہاں درج کردوں تو پاکستان کے99.99قارئین کا اگر سارا ’’ٹبرّ‘‘ بھی کوشش کرے تو ان کو سمجھ نہیں آئے گی۔۔۔یہ سرا سر ایک فنی مشق ہے۔ ۔۔۔اور پھر آگے چل کر چودھری صاحب نے خود ہی فرمایا ہے کہ رباعی کے چار مصرعوں میں چار مختلف اوزان کو ملا جلا کر استعمال کرنے کی اجازت بھی ہوتی ہے۔باالفاظ دیگر رباعی کے چاروں مصرعوں کو اگر مختلف اوزان میں موزوں کر کے کہہ دیا جائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔پھر مزید آگے چل کر دعویٰ کیا ہے کہ بھارت، ایران اور افغانستان کے فارسی گو شعرا میں سے کسی نے بھی آج تک اخرب واخرم کے24 اوزان میں سے ہر وزن میں رباعی کہنے کی روایت تخلیق نہیں کی اور پھر اس ’’حقیقت‘‘ کو بھی فاش کر دیا ہے کہ یہ اعزاز صرف چودھری صاحب کے حصے میں آیا ہے۔ انہوں نے ہر وزن میں الگ الگ رباعیات بھی نظم کی ہیں اور چاروں مصرعوں کو الگ الگ اوزان میں موزوں کر کے زیورِ شعر سے آراستہ کیا ہے!

اس کے بعد چودھری صاحب نے اُردو زبان کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ سے لے کر خود چودھری کوثر وڑائچ تک مختلف اساتذہ کا ذکر کِیا ہے اور آخر میں فرمایا ہے:’’اور اب میں یعنی علامہ چودھری اصغر علی کوثر وڑائچ اس میدانِ رباعیات میں جلوہ گر ہوا ہوں اور امام الکلام کی تجلیاتِ فکرو فن سے دُنیائے شعر و ادب میں چراغاں کرنے آیا ہوں!۔۔۔دیکھئے امام الکلام کی درخشندگی و تابندگی کہاں تک پہنچتی ہے!!۔۔۔‘‘

شاباش! چودھری صاحب!!۔۔۔ ایں کار از تو آئد و مرداں چنیں کنند۔۔۔ حضرت اقبال نے خودی کے تین مدارج مقرر کئے تھے۔اول اپنے آپ کو پہچاننا،دوم دوسروں کو پہچاننا اور سوم خدا کو پہچاننا۔۔۔ ان کے نزدیک اپنے آپ کا شعور پانا ایک نہایت سخت اور دشوار مرحلہ ہے۔اپنی تمام جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور روحانی توانائیوں کو اوجِ کمال پر پہنچانا ایک ادق اور دشوار کام ہے لیکن تفہیم خودی کا دوسرا مرحلہ، مرحلۂ اول کی تکمیل کے بغیر سر نہیں کیا جا سکتا جبکہ تیسرا مرحلہ پہلے دو مراحل کو طے کئے بغیر ممکن نہیں۔۔۔ پہلے اقبال کے یہ تین اشعار دیکھ لیجئے جو اقبال کے فلسفۂ خودی اور رموزِ بے خودی کی اساس ہیں اور جن کو سمجھے بغیر اقبال اور ان کے فلسفۂ خودی کو سمجھا نہیں جا سکتا:

شاہدِ اول، شعورِ خویشتن

خویش را دیدن بہ نورِ خویشتن

شاہدِ ثانی شعورِ دیگرے

خویش را دیدن بہ نورِ دیگرے

شاہدِ ثالث شعورِ ذاتِ حق

خویش را دیدن بہ نورِ ذاتِ حق

پہلا مقصد اپنی ذات کا شعور پانا اور اپنی ذات کو اپنے نور سے مشاہدہ کرنا ہے۔۔۔دوسرا مقصد دوسروں کا شعور پانا اور خود کو دوسروں کے نور کے تناظر میں دیکھنا ہے۔۔۔ تیسرا مقصد ذاتِ باری تعالیٰ کا وہ شعور ہے جو ذاتِ وحدہ لاشریک کے تناظر میں اپنے آپ کو رکھ کر دیکھنا ہے۔

مَیں اقبال کے فلسفۂ خودی یا تصور خودی پر زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتا۔حقیقت یہ بھی ہے کہ مَیں خود کو اس کا اہل بھی نہیں سمجھتا۔لیکن اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ چودھری صاحب خودی کی پہلی منزل یعنی شعورِ ذات پر آ کر اٹک گئے ہیں۔ اس لئے اپنی انا کے اسیر ہیں۔۔۔ اور شدت سے اسیر ہیں۔ دوسروں کے ممکناتِ جسم و جاں کے تناظر میں اپنے آپ کو دیکھنا وہ دوسرا مرحلہ ہے جس کی ہوا بھی چودھری صاحب کو نہیں لگی۔۔۔تیسرے مرحلے کا تو ذکر ہی کیا!

امام الکلام کے دو حصے ہیں۔۔۔ پہلا حصہ 143 صفحات اور 286ء رباعیات پر مشتمل ہے اور دوسرا حصہ 72 رباعیات پر پھیلا ہوا ہے۔۔۔۔ پہلے حصے میں مختلف عنوانات کے تحت286 رباعیات نظم کی گئی ہیں اور دوسرے حصے میں شجرۂ اخرب کے 12 اوزان میں سے ہر وزن میں تین تین رباعیات اور اسی طرح شجرۂ اخرم کے12 اوزان میں سے بھی ہر وزن میں تین تین رباعیات مختلف عناوین کے تحت موزوں کی گئی ہیں۔ یعنی اخرب و اخرم کے دونوں شجروں کے 24اوزان میں سے ہر وزن میں تین تین رباعیاں کہی گئی ہیں۔۔۔ اور سچی بات یہ ہے کہ کمال کر دیا ہے!

پہلے عرض کر چکا ہوں کہ رباعی کی بحور اور اس کے اوزان مترنم نہیں۔کسی بھی معروف بحر اور وزن میں کہی گئی رباعی کو گنگنا کر دیکھیں تو آپ کو اپنی ’’نغمگی‘‘ پر خود ہی واہ واہ کرنی پڑے گی، کوئی دوسرا آپ کا ساتھ نہیں دے گا۔ دراصل عربی زبان کی تمام بحور کا یہی عالم ہے۔حتیٰ کہ اقبال نے جس عربی بحر میں شکوہ اور جوابِ شکوہ نظم کی تھی اس کو بھی ترنم میں سنانے سے انکار کر دیا تھا اور انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں اسے تحت اللفظ ہی سنایا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا:

عجمی خُم ہے تو کیا مَے تو حجازی ہے مری

نغمہ ہندی ہے تو کیا لَے تو حجازی ہے مری

حجازی لے برصغیر، ایران، افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں میں مروج موسیقی کے سازوں میں کسی بھی ساز پر بجائی اور سنائی تو جا سکتی ہے لیکن کانوں میں رس نہیں گھولتی اور وہ جو غالب نے کہا تھا۔۔۔ مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے۔۔۔ اس کسوٹی پر پوری نہیں اترتی۔ کسی کو شک ہو تو کسی صاحبِ فن سازندے یا موسیقار سے رابطہ کرکے میری بات کی تصدیق کر لی جائے۔۔۔ لیکن چودھری صاحب نے کمال یہ کیا ہے کہ مختلف بحور میں رباعی کہتے ہوئے روانی، سلاست، برجستگی اور صوتی بہاؤ کا از حد خیال رکھا ہے۔ یہ کام کوئی ایسا شخص نہیں کر سکتا جو موسیقی کارمز آشنا نہ ہو۔

چودھری صاحب کے دیباچے کے گیارہ صفحات کا اسلوبِ بیان بھی نہایت گرانبار ہے اور عام قاری اس کو پڑھ کر غالب کے عہد سےُ پہلے کی مشکل خطوط نویسی کے اسلوب کو یاد کرنے لگتا ہے لیکن یہی چودھری صاحب جب ’’لاہوریات‘‘ لکھتے ہیں تو ان کا قلم بالکل تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس لئے ان کے کالموں کی زبان ان کے اس دیباچے سے یکسر مختلف ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اس کتاب کے دیباچے کی تحریر آورد ہے اور لاہوریات کے کالم آمد کی ذیل میں آتے ہیں۔ لیکن کالموں میں بھی انہوں نے خودی کے مرحلہء اول تک رسائی ہی کا ثبوت دیا ہے، دوسرے مرحلے تک پہنچنا شائد ان کے نصیب میں نہیں!

اب ذیل میں ان کی چند رباعیات دیکھئے اور سلاستِ زبان اور بلاغتِ معانی کا لطف اٹھایئے۔۔۔ پہلے حصہ اول سے چند رباعیات:

سودائے فزوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گر جذبِ دُرُوں ساتھ نہیں دیتا ہے

سَودَائے فزوں ساتھ نہیں دیتا ہے

تسخیرِ مَہ و مِہر نہیں ہو سکتی

جب تک کہ جُنُوں ساتھ نہیں دیتا ہے

وجہِ مُلاقات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب وجہِ مُلاقات نہیں ہے باقی

ہے رات مگر رات نہیں ہے باقی

وہ آئے بھی، ٹھہرے بھی، گئے بھی کوؔ ثر

اب اور کوئی بات نہیں ہے باقی

قُطب وقلندر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہے عشق سمندر سے زیادہ گہرا

ہے قطب قلندر سے زیادہ گہرا

باہر سے نہ گہرائی کا اندازہ کر

ہر شخص ہے اندر سے زیادہ گہرا

بہارِ گلشن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لہرائی تری زلف تو رات آئی ہے

بِکھرا ترا گیسو تو گھٹا چھائی ہے

چٹکی ہے کلی تیرا تبسم بن کر

تُو آیا تو گلشن میں بہار آئی ہے

رحمتِ خدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ممکن ہے کہ سُن لے وہ دعائیں میری

ممکن ہے نہ دیکھے وہ خطائیں میری

ممکن ہے کہ رحمت ہو خدا کی مجھ پر

بخشے وہ سرِ حشر سزائیں میری

کلفتِ سفر

۔۔۔۔۔۔

آغاز کا انجام خدا ہی جانے

اے صبح تری شام خدا ہی جانے

ہو ختم کہاں جا کے سفر کی کلفت

اے گردشِ ایام خدا ہی جانے

قندیلِ احساس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احساس کی قندیل جلائے رکھنا

فانوسِ خِرد سر میں سجائے رکھنا

ہے عقل کا رستہ ہی نویدِ منزل

جذبات کو یہ بات بتائے رکھنا

اب چند رباعیات اخرب اور اخرم کے شجروں سے:

مقبولِ زمانہ(اخرب)

اے دل تُو زمانے میں اِک پھول نہ بن

بے کار تو لوگوں میں مقبول نہ بن

دنیا کے بدلنے کا ہے طور عجب

ہے قدر کا خواہاں تو انمول نہ بن

زُلفِ مُعطر (اخرب)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھ کو تو مِری جان یہ اندازہ ہے

پھولوں کو ترا حسنِ نظر غازہ ہے

دراصل تری زلفِ معطر ہی سے

گلزارِ محبت کی مہک تازہ ہے

زُلفِ رواں (اخرم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیری ہی جانب سب بادل ہیں چلے

میری ہی جانب کب بادل ہیں چلے

تیرے مُکھ پر جوہے اک زلف، بھلا

ٹھہرے کیسے وہ، جب بادل ہیں چلے

صحرائے محبت(اخرم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجنوں کب ہے مرا محبت کرکے

صحرا بھی ہے ہرا محبت کرکے

مجھ پر تو بھی اگر نظر کر لیتی

جی لیتا دل ذرا محبت کرکے

کتاب مجلد ہے۔ کاغذ تقریباً 80گرام کا سفید نیوز پرنٹ ہے جو بیرون ملک سے درآمد شدہ نہیں بلکہ کسی پاکستانی پیپر مل میں ری سائیکل شدہ مواد سے تیار کیا گیا ہے۔ رباعیات کا فانٹ اتنا زیادہ رکھا گیا ہے کہ اس پر بظاہر کسی قرانی پارے کا گمان گزرتا ہے۔ایک صفحہ پر دو کی بجائے چار رباعیات آ سکتی تھیں جس سے صفحات کی تعداد 192سے آدھی یعنی 96رہ جاتی اور یہ ایک قسم کا کتابچہ بن جاتا۔ شائد اسی لئے اس کا حجم بڑھانے کی خاطر فانٹ بڑا رکھا گیا ہے جو طبیعت اور ذوق پر گراں گزرتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کی قیمت 1000روپے رکھی گئی ہے۔ مجھے خبر نہیں اس کی وجہ کیا ہے۔ چودھری صاحب کو دشتِ صحافت کی سیاحی میں زمانہ گزرا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ اس موضوع پرایسی کم حجم کتاب پر کوئی قاری 1000روپے خرچ کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا۔ ایسا کرکے چودھری صاحب نے خود کتاب کی سرکولیشن کو محض سرکاری اداروں تک محدود کر دیا ہے۔وہ ادارے بھی 50%رعائت مانگتے ہیں۔ لیکن پھر بھی 500روپے فی کتاب کسی غیر سرکاری تعلیمی یا تدریسی ادارے اور عام قاری کے لئے زیادہ ہیں!

مزید : کالم