ری پبلکن کا اپنے ہی صدر ٹرمپ کیخلاف ڈیموں کریٹس کیساتھ اتحاد ، روس ایران اور شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا بل منظور

ری پبلکن کا اپنے ہی صدر ٹرمپ کیخلاف ڈیموں کریٹس کیساتھ اتحاد ، روس ایران اور ...

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکی ایوان نمائندگان نے بھاری اکثریت سے ایران، روس اور شمالی کوریا پر وسیع پابندیاں لگانے کا عملاً ’’ویٹو پروف‘‘ منظور کرلیا۔ اس بل کو چونکہ ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک دونوں پارٹیوں کے ارکان نے باہمی مشاورت سے تیار کیا تھا، اسلئے توقع کے مطابق اس کے حق میں 419 ووٹ پڑے اور صرف 3ارکان نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ قبل ازیں گزشتہ ماہ سینیٹ نے دو کے مقابلے میں 98ارکان کی حمایت سے بل منظور کیا تھا،ایوان نمائندگان کے مطابق یہ بل قانونی طور پر پہلے ایوان نمائندگان میں پیش ہونا چاہیے تھا، جس میں شمالی کوریا شامل نہیں تھا جس پر کافی بحث کے بعد مفاہمتی بل ایوان نمائندگان نے تیار کیااور اس میں شمالی کوریا کو بھی شامل کرلیا گیا۔ سینیٹ کا خیال ہے کہ شمالی کوریا کیلئے الگ بل لایا جائے گا۔ عام تاثر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اصل میں روس کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے اور وہ اس کوشش میں ہوگی کہ اس وقت پہلے سے موجود پابندیوں کو نرم کر دے اور مزید پابندیاں نہ لگائے۔ اب ایوان نمائندگان نے اس نئے منظور شدہ بل کو دوبارہ منظوری کیلئے سینیٹ کو بھیج دیا ہے، جہاں اس طرح بغیر رکاوٹ کے بل منظور ہونے کا امکان ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد جب یہ بل وائٹ ہاؤس جائے گا تو صدر ٹرمپ اسے ویٹو نہیں کرسکیں گے، کیونکہ اتنی بھاری اکثریت حاصل ہونے کے بعد قانونی طور پر اسے ویٹو نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بل کانگریس سے منظور ہونے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ روس پر پابند یاں اٹھا سکے گی اور نہ ہی انہیں نرم کرسکے گی۔ کوئی بھی بل صدر کے دستخط ہونے کے بعد جب قانون بن جائے تو اس کیخلاف صدر ایگزیکٹو آرڈر بھی پاس نہیں کرسکتا، لیکن موجودہ بل کے ذریعے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ پر پابندی نہیں لگی بلکہ بین الاقوامی ڈپلومیسی کا ایک راستہ کھولا گیا ہے۔ بل کی ایک شق کے مطابق اگر صدر کو مستقبل میں محسوس ہو کہ یہ ممالک ضروری شرائط پوری کر رہے ہیں تو وہ پابندیاں اٹھانے کیلئے کانگریس سے رجوع کرسکتے ہیں اور کانگریس بھی اپنے اطمینان کے بعد صدر کو پابندیاں اٹھانے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اسوقت کانگر یس کی انٹیلی جنس کمیٹیاں اور ایف بی آئی ٹرمپ کی انتخابی مہم کی روسی حکام کیساتھ ملی بھگت کی تفتیش میں مصروف ہے جس کے پس منظر میں کانگریس کی طرف سے روسی حکومت کو ایک مضبوط سگنل جائے گا۔ ایوان نمائندگان کے سپیکر پال رائن نے رائے شماری مکمل ہونے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں جماعتوں کے اتفاق رائے سے بل کے ذریعے پابندیوں کا ایک انتہائی وسیع اور جامع پیکج منظور کیا گیا ہے جس کی امریکی تاریخ میں بہت کم مثالیں موجود ہیں۔ امریکہ کو محفوظ بنانے کیلئے ہم نے اپنے انتہائی خطرناک حریفوں پر شکنجہ کس دیا ہے۔ ’’ٹرمپ انتظامیہ کانگریس کیساتھ لابی کرنے میں مصروف رہی ہے کہ بل میں صدر کی یہ صوابدید شامل کی جائے کہ وہ اپنے سرد جنگ کے حریف روس کیساتھ مذاکرات کے ذریعے سمجھوتہ کرسکے لیکن کانگریس نے اپنے مسودے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اقتصادی ماہرین کے نزدیک بل کا بڑا حصہ روس کیساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی خواہش رکھنے والے صدر ٹرمپ کے منہ پر ایک تھپڑ ہے۔ ان کے خیال میں اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ روسی صدر پیوٹن ان پابندیوں کے بعد کریمیا کا مقبوضہ علاقہ یوکرائن کو واپس کر دے یا پھر اپنے ہیک کرنے والے حکام کو غیر ملکی انتخابات میں مداخلت سے روک لیں، الٹا روس کچھ معاملات میں امریکہ کیخلاف بھی جواباً اقتصادی پابندیاں لگا سکتا ہے۔ سیاسی ماہرین کہتے ہیں صدر ٹرمپ اپنے اقتدار کے پہلے چھ ماہ میں روس کیساتھ مل کر باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش میں مصروف رہے اور وہ ان پابندیوں کو اٹھانے کے حق میں تھے۔ ان کی کوششوں کو اس بل سے شدید جھٹکا لگا ہے۔ اس بل کے تحت صدر ٹرمپ کو روسی حکومت میری لینڈ اور نیویارک میں عمارتوں کو واپس کرنے کی مجوزہ کارروائی کی تفصیل کانگریس میں پیش کرنی ہوگی، جن پر اوبامہ انتظامیہ نے قبضہ کرلیا تھا۔امریکہ کی دونوں بڑی جماعتوں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک کے اتفاق رائے سے منظور ہونیوالے اس بل ) ایچ آر (3364 ’’امریکہ کے مخالفین کا پابندیوں کے ذریعے انسداد اکا ایکٹ‘‘ روس، ایران اور شمالی کوریا کی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیخلاف خطرناک اور دھمکی آمیز کارروائیوں کا جواب ہے۔ ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین رائس نے فلور پر اپنی تقریر میں کہا ان تینوں ممالک کی حکومتیں دنیا کے مختلف حصوں میں اہم امریکی مفادات کیلئے خطرے کا باعث ہیں اور اپنے ہمسایوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اسلئے ان کا سدباب کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق روس نے کریمیا پر چڑھائی کی اور ہمارے انتخابات میں مداخلت کی اور اگر اسے نہ روکا گیا تو وہ اپنی جارحیت جاری رکھے گا۔

ری پبلکن ، ڈیموکریٹس اتحاد

مزید : علاقائی