نااہلی کیس ، جہانگیر ترین سے 5سوالوں کے جواب طلب ، مفروضوں پر کسی کو نا اہل نہیں کر سکتے : سپریم کورٹ

نااہلی کیس ، جہانگیر ترین سے 5سوالوں کے جواب طلب ، مفروضوں پر کسی کو نا اہل ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین سے آف شور کمپنیوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔عدالت نے پوچھا ہے کہ آف شور کمپنی کب بنائی گئی؟ آف شور کمپنی کا قانونی اور فائدہ اٹھانے والا مالک کون ہے؟ آف شور کمپنی کیسے بنائی گئی؟ آف شور کمپنی کتنے میں بنائی گئی؟ آف شور کمپنی بنانے کیلئے بیرونی ملک رقم کیسے منتقل کی گئی؟ان کے وکیل نے تمام معلومات آج فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ، دوران سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ والدین اور بچوں کے درمیان تحائف کے تبادلے میں کوئی غیرقانونی بات نہیں۔ چیف جسٹس میاں ثا قب نثار نے آبزرویشن دی کہ جرمانہ ادا کرنے کے بعد جو معاملہ ختم ہو گیا اس پر بارہ سال بعد آرٹیکل 62 کا اطلاق کیسے کریں؟ غالباً رضاکارانہ رقم واپس کرنے والا صادق ہو تا ہے۔ دیکھنا ہے کہ کمپنی بنانے کیلئے پیسہ قانونی طریقے سے باہر گیا یا نہیں؟ کمپنی کی تمام معلومات فراہم کی جائیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ نااہلی انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، خیالات یا مفروضوں پر کسی کو نااہل نہیں کر سکتے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی،جس میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین پر آف شور کمپنیاں بنانے ،ٹیکس چوری کرنے اور بے نامی جائیدادیں بنانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل عاضد نفیس نے کہا پاناما لیکس اور آف شور کمپنیوں کے باعث کیس یہاں لائے گئے جو عو ا می اہمیت کے حامل ہیں۔ جہانگیر ترین قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154 سے منتخب ہوئے، انہوں نے زرعی اراضی چھپائی،ٹیکس ادا نہیں کیا، جہانگیر ترین کیخلاف 4 آئینی گراؤنڈز ہیں۔ جہانگیر ترین اثاثے ظاہر نہ کرنے پر صادق اور امین نہیں رہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا پاناما کیس میں کسی اور رکن پارلیمنٹرین کا نام آیا ہے؟ حنیف عباسی کے وکیل نے بتایاکہ کوئی اور ایم این اے ، ایم پی اے یا سینیٹر کا پاناما سکینڈل میں ملوث ہونے کا علم نہیں، جہانگیر ترین پر جب شوگر ملز کی ایس ای سی پی میں انکوائری ہورہی تھی اس وقت وہ وزیر صنعت و پیداوار تھے، جہانگیر ترین نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے بچوں کی آف شور کمپنیاں ہیں،جہانگیر ترین نے آف شور کمپنیاں اور لندن اثاثے ڈیکلئر نہیں کیے،انکی کمپنی نے 49 ملین کا قرضہ بھی معاف کرایا، یونائٹیڈشوگر مل کے شیئر جہانگیر ترین نے خریدے،یونائٹیڈشوگر مل کی خر ید ا ر ی کے وقت جہانگیر ترین وزیر انڈسٹری کے عہدے پر تھے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہر پارلیمنٹیرین کیخلاف کیس براہ راست سپریم کورٹ میں لایا جا سکتا ہے، آج جہانگیر ترین ہیں کل کسی اور رکن اسمبلی کیخلاف درخواست آئے گی۔ملک میں دوسرے فورمز کی مو جو د گی میں کیا کیس یہاں لایا جا سکتا ہے؟ جس پر حنیف عباسی کے وکیل نے کہاپانامہ کیس آف شور کمپنیوں کے باعث یہاں لایا گیا۔ چیف جسٹس نے پھر پوچھا کہ کیاہم پانامہ کو بنیاد بنا کر یہاں کیس سنیں، حنیف عباسی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایس ای سی پی ریگولیٹری ادارہ ہے، اگر ایس ای سی پی کوئی فیصلہ دے تو وہ بھی کورٹ آف لا ء کی طرح ہوگا، چیف جسٹس نے پھر پوچھا کہ اگر کوئی شخص جرمانہ عائد ہو نے پر ادا کرے تو کیا اس پر صادق اور امین نہ ہونے کا اعتراض اٹھایا جاسکتا ہے، جہانگیر ترین پر جرمانہ عائد ہونے کے واقعے کو بارہ سال ہوچکے ہیں،کیا آپ صادق اور امین سے متعلق فیصلہ کرسکتے ہیں،اگر کوئی شخص دامن صاف کرنے کیلئے رقم واپس کردے تو وہ صحیح معنی میں صادق ہے، کوئی شخص جھمیلوں سے بچنے کیلئے الزام کے تحت رقم واپس کرے تو وہ سچا ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ 62 ایف ون کو کتنا کھینچنا چاہتے ہیں۔درخواست گزار نے کہا عدالت جہانگیر ترین سے تحفہ میں دی اور وصول کی گئی رقم کی تفصیلات طلب کرے، جہانگیر ترین نے بچوں کو ایک ارب 47 کروڑ روپے سے زائد رقم تحفے میں دی، 2010 میں انہیں بچوں سے 8 کروڑ 75 لاکھ تحفے میں ملے ، بعد ازاں 2015 میں انہیں چھ کروڑ ستانوے لاکھ پچاس ہزار روپے تحفہ ملا۔بعدازاں عدالت عظمیٰ نے درخواست کی سماعت آج تک ملتوی کر دی ۔

جہانگیر ترین کیس

مزید : صفحہ اول