مذاکرات کامیاب، آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے ہڑتتال ختم کردی، پٹرول سپلائی بحال

مذاکرات کامیاب، آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے ہڑتتال ختم کردی، پٹرول سپلائی ...

اسلام آباد(اے این این،آن لائن ) آئل ٹینکر ایسوسی ایشن اور اوگرا کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے جب کہ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔اسلام آباد میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا سے مذاکرات کے بعد ایسوسی ایشن کے ارکان نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت سے مذاکرات کامیاب رہے ہیں جس کے باعث ہڑتال ختم کر دی گئی ہے۔ جس کے بعد تیل کی فراہمی اور صورتِ حال معمول پر آنے میں پانچ سے چھ گھنٹے لگیں گے، تاہم ہر شہر میں ضرورت کے مطابق تیل موجود ہے۔پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈرائیور اوگرا کی حفاظتی شرائط پوری نہیں کر رہے ان کے لائسنس معطل کر دیے جائیں اور ان کو گرفتار کر لیا جائے ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین یوسف شاہوانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ہمارے مطالبات مان لیے گئے ہیں اس لیے ہڑتال کی کال ختم کرنیکااعلان کرتے ہیں،ملک بھرمیں پٹرول کی فراہمی شروع ہوجائیگی، صورت حال معمول پرلانے میں 4 سے 6 گھنٹے لگیں گے۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم نہ ملنے سے جومشکل ہوئی اس کی ذمہ داری حکومت کی ہے، ہم نے 20تاریخ کوحکومت کوہڑتال کی کال دی تھی اورہم نے 24تاریخ تک ہڑتال موخرکی۔اس موقع پر ترجمان اوگرا،عمران غزنوی کا کہنا تھا کہ آئل ٹینکرزکے لائسنس کی شرط اوگرا قوانین کے مطابق 2009 سے نافذ ہے،ہم اپنے قوانین پرعمل درآمد کرائیں گے۔ترجمان اوگراکا کہنا تھا کہ کون سے قوانین پر عمل کرانا ہے اورکون سے ختم کرنے ہیں ایک ہفتے میں طے کریں گے،دوہفتوں میں آئل ٹینکرزوالوں کے ساتھ بیٹھ کرمسائل کا جائزہ لیں گے۔آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی پریس کانفرنس میں رکن قومی اسمبلی جمشید دستی بھی پہنچ گئے اورایسوسی ایشن کے نمائندہ بن کراین ایچ اے اور حکومتی اداروں پرتنقید کی۔اس سے قبل آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن اور ٹینکر مالکان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور وزارت پیٹرولیم کے دفتر میں ہوا جس میں سیکریٹری پیٹرولیم اور چیئرپرسن اوگرا عظمی عادل حکومت کی جانب سے مذاکرات میں شریک ہوئیں جب کہ ٹینکرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین یوسف شاہوانی نے ٹینکر مالکان کی نمائندگی کی۔فریقین کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ٹینکرز ایسوسی ایشن کے فریٹ ریٹ بڑھانے پر اتفاق کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ہڑتال کے خاتمے کے لئے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کی گئی شرائط میں این ایل سی سے تیل کی ترسیل کا کام واپس لیے جانے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔اس کے علاوہ ٹینکرز مالکان نے تین ایکسل کا مطالبہ واپس لینے اور ریلوے سے مخصوص روٹس پر تیل ترسیل روکنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔اس سے قبل آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کے تیسرے دن ملک کے مختلف حصوں میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔یہ ہڑتال سانح احمد پور شرقیہ میں ایک آئل ٹینکر میں آگ لگنے کے بعد دو سو سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت کی جانب سے ٹینکروں میں زیادہ حفاظتی اقدامات کے مطالبے کے خلاف کی گئی تھی۔ہڑتال کی وجہ سے ملک بھر میں بیشتر پیٹرول پمپ بند ہو گئے اور جہاں پیٹرول دستیاب ہے بھی، وہاں گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔بعض لوگوں کی گاڑیاں اور موٹر سائیکل سڑکوں پر ہی بند ہو گئے اور وہ بوتلیں ہاتھوں میں تھامے پیٹرول کی تلاش میں سرگرداں رہے۔صورتِ حال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب گذشتہ روز ہڑتالی ڈرائیوروں نے ان ڈرائیوروں کو بھی ٹینکر چلانے سے روک دیا جو ہڑتال میں حصہ نہیں لے رہے تھے۔25 جون کو احمد پور شرقیہ میں ہونے والے حادثے کے بعد اوگرا نے حادثے کی ذمہ داری شیل کمپنی پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والا ٹینکر اوگرا یا کسی بھی سرکاری یا نجی حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔

مزید : صفحہ آخر