ہائیکورٹ ملتان بنچ بحال، 31جولائی سے مقدمات کی سماعت کا حکم

ہائیکورٹ ملتان بنچ بحال، 31جولائی سے مقدمات کی سماعت کا حکم

ملتان (خبر نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ منصورعلی شاہ نے ملتان بینچ کو بحال کرکے سوموار31 جولائی سے مقدمات کی سماعت کرنے جبکہ مقدمات دائرکرنے کے لئے دفاترآج سے کھولنے کا حکم دیاہے۔نیز لارجربینچ نے صدربارسمیت 2 وکلاء کو توہین عدالت کانوٹس جاری کرتے ہوئے31 جولائی کو پیش ہونے کاحکم دیاہے۔یادرہے کہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں 24 جولائی کو مقدمہ کی سماعت کے دوران صدر ہائیکورٹ بارشیر زمان قریشی اورسینئر جج کے مابین تلخ کلامی کے بعدبارکی ہڑتال اوراحتجاجی ریلی کیدوران عدالت کے باہر لگی نام کی تختی کو اتارکرتوڑنے کے واقعہ پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے نوٹس لیا اور رجسٹرار سید خورشید انور رضوی سے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملتان بنچ پر تعینات 4 ججز کو پرنسپل سیٹ لاہورپر کام شروع کرنے کی ہدایت کی اور سائلین کومقدمات پرنسپل سیٹ اور بہاولپور بنچ پر دائرکرنے کی ہدایت کی گئی نیزفاضل چیف جسٹس کی ہدایت پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد یاور علی اورجسٹس علی اکبر قریشی پر مشتمل 2 رکنی کمیٹی بنائی گئی تاہم ملتان بنچ کے وکلاء کی جانب سے معاملے کے حل کیلئے کمیٹی سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ جس پررجسٹرار سید خورشید انور رضوی کی جانب سے مذکورہ واقعہ کی روپورٹ پیش کی گئی جس پر قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے فاضل چیف جسٹس نے لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم دیا اس ضمن میں گزشتہ روزچیف جسٹس سید منصور عل شاہ کی سربراہی میں قائم لارجربینچ کے جسٹس محمد انوارالحق،جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد امیر بھٹی اور جسٹس شمس محمود مرزا نے سماعت کے بعدصدر ہائیکورٹ بارشیر زمان قریشی اور قیصر عباس کاظمی ایڈووکیٹ کو توہین عدالت کا شوکازاور ہائی کورٹ رولز اینڈ آرڈرز کے تحت ہائیکورٹ کی پریکٹس سے معطلی اور ریموول کے نوٹسز جاری کرتے ہوئے 31 جولائی بروز پیر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ پیر سے لارجر بنچ مذکورہ کیس کی باقاعدہ سماعت کرے گا۔دریں اثناء چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی ہدایت پر لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں دائری برانچ آج سے کام شروع کرے گی جبکہ ملتان بنچ پر مقدمات کی باقاعدہ سماعت پہلے سے جاری کردہ موسم گرما کی تعطیلات کے روسٹر کے مطابق پیر سے شروع ہو جائے گی۔

مزید : ملتان صفحہ اول