’میں پاکستانی مردوں سے ملی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ تو دراصل خود۔۔۔‘ پاکستان آئی فرانسیسی خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ سن کر تمام پاکستانی مَردوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں

’میں پاکستانی مردوں سے ملی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ تو دراصل خود۔۔۔‘ پاکستان ...
’میں پاکستانی مردوں سے ملی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ تو دراصل خود۔۔۔‘ پاکستان آئی فرانسیسی خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ سن کر تمام پاکستانی مَردوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دیگر مشرقی معاشروں کی طرح پاکستانی معاشرے کو بھی ’مردوں کا معاشرہ‘ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ پدر سری (مردانہ) معاشرے میں عورتوں کا استحصال ہوتا ہے لیکن شاید حقیقت یہ ہے کہ اس معاشرے کے مرد بھی کچھ کم مظلوم نہیں ہوتے۔ ویب سائٹ مینگو باز کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی خاتون آریلی سالویئر، جو کہ ایک کاروباری شخصیت اور سماجی محقق ہیں، کا یہی کہنا ہے کہ جب وہ پاکستان آئیں اور یہاں کے مردوں سے ملیں تو وہ بیچارے عورتوں سے بھی زیادہ مظلوم نظر آئے۔

آریلی یہ جاننے کے لئے پاکستان آئیں کہ یہاں کی مردانگی حرکیات کیا ہیں اور یہ کہ ایک پدرسری معاشرے میں مرد کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی مردوں سے بات چیت کی تو پتا چلا کہ وہ جذباتی طور پر خواتین سے بھی زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور پدرسری ذمہ داریوں کی وجہ سے ان کی آزادی پر بھی زد پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر پاکستانی مرد اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ معاشرے میں پائے جانے والے مردانگی کے تصور کے ان پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ اس طرز معاشرت کے کچھ فوائد ہیں لیکن اس کی وجہ سے آپ وہ بننے پر مجبور ہوجاتے ہیں جو دراصل آپ نہیں ہوتے۔ آپ پر دباﺅ ہوتا ہے کہ آپ اپنے جذبات کو دبا کر رکھیں۔ نہ کسی کے سامنے اپنے دکھ درد بیان کریں اور نہ کبھی آنسو بہائیں، کیونکہ یہ تو عورتوں کے کام ہیں۔ مردانہ معاشرے میں مردوں کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ ایسے جذبات کا اظہار نہ کریں جو انہیں کمزور ظاہر کریں۔ 

آریلی کہتی ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں مرد ہونے کے فوائد حقیقی نہیں ہیں، کیونکہ اصل آزادی تو یہی ہے کہ آپ جو ہیں وہ نظر بھی آ سکیں۔ خود کو مرد ثابت کرنے کے لئے آپ اپنی فطرت کے خلاف خود پر جبر کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں ۔ پاکستانی معاشرے میں خواتین اپنے بیٹوں کو شروع سے یہ تربیت دیتی ہیں کہ وہ مردوں جیسا رویہ اختیار کریں تاکہ انہیں معاشرے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

آریلی کا کہنا ہے کہ اس نوع کی پابندیاں نہ ہوں تو مرد بہتر اور زیادہ صحت مند سماجی تعلقات استوار کرسکتے ہیں اور ان کی ازدواجی زندگی بھی بہتر ہوگی۔ وہ کہتی ہیں کہ بطور معاشرہ ہم نے مردانگی کو انسانیت سے بالا تر سمجھ لیا ہے، جس کی ہمیں قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے۔ اگر ہم اس صورتحال کو بدل سکیں تو بحیثیت قوم زیادہ خوش رہ سکیں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس