میں بھی کلینک نہیں کھولوں گا۔ ۔ ۔ ۔

میں بھی کلینک نہیں کھولوں گا۔ ۔ ۔ ۔
میں بھی کلینک نہیں کھولوں گا۔ ۔ ۔ ۔

  

ایک کلینک کے باہر لوگوں کا رش تھا۔

ایک صاحب اس رش میں رستہ بناتے آگے بڑھتے لوگ انہیں دھکیل کے پیچھے پھینک دیتے۔

بار بار کی کوشش کے بعد وہ صاحب فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ہانپتے ہوئے بولےنہ دیورستہ

میں بھی کلینک نہیں کھولوں گا۔

مزید : لافٹر