پہلوانوں کی داستانیں ۔ ۔۔ قسط نمبر 25

پہلوانوں کی داستانیں ۔ ۔۔ قسط نمبر 25
پہلوانوں کی داستانیں ۔ ۔۔ قسط نمبر 25

  

سلطان پہلوان اونچے لمبے قد کا جوان تھا۔اس کی روزانہ خوراک کا یہ عالم تھا کہ وہ دو سیر گھی ایک دم پی جاتا۔ مرغوب غذا بھنا ہوا گوشت ہوتی۔ جو اگر جی میں آتا تو تقریباً دس سیر تک بھی چبا جاتا۔گوشت کے علاوہ دودھ کثرت سے پیتا تھا۔

سلطان پہلوان بوٹا لاہوری کی وفات کے دو سال بعد 1906ء میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گیا مگر اپنے پیچھے پہلوانوں کی ایک کھیپ درویشانہ تکیہ چھوڑ گیا۔ یہ اسی کا کمال تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں ہی بڑے بڑے پہلوان تیار کر دئیے تھے جن میں سے کریم بخش پہلوان گوجرانوالیہ، گپھا سنگھ، باگھ سنگھ، پنجاب سنگھ اور ان کا اپنا فرزند رحیم بخش قابل ذکر ہیں۔

سلطان پہلوان کے شاگردوں نے ہمیشہ اپنے استاد کی لاج رکھی۔ ان کے شاگرد کریم بخش پہلوان رشتہ میں ان کے بھتیجے بھی تھے۔ یہ پہلوان بڑا وجیہہ اور مردانہ حسن کا نمونہ تھا۔ اس نے کلو امرتسری ایسے کئی شاہ زوروں سے مقابلہ کیا۔ پنجاب سنگھ بھی نامی گرامی پہلوان بنا۔ اس نے بالی پہلوان سیالکوٹی کو گکھڑ میں گرا لیا تھا۔ گپھا سنگھ گوجرانوالیہ بھی کم پایہ کا پہلوان نہ تھا۔ اس نے محمد پہلوان کے بڑے بھائی بوٹا پہلوان کو ایسی پٹھی ماری تھی کہ اس کی گردن کا منکا ٹوٹ گیا اور وہ اکھاڑے میں ہی دم توڑ گیا۔ باگھ سنگھ پہلوان کرمولہ سات فٹ کا کڑیل جواں شاہ زور تھا۔ جوانی کے عالم میں کسی دشمن نے اسے کوئی ایسی چیز کھلا دی کہ وہ سوکھ سوکھ کر پنجر بن کر رہ گیا اور جوانی میں ہی مر گیا۔

پہلوانوں کی داستانیں ۔ ۔۔ قسط نمبر 24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سلطان پہلوان نے جوانی ڈھلتے ہی پیری فقیری اختیار کر لی تھی۔ وہ اکثر اولاد نرینہ کیلئے فقیروں کے ڈیرے پر جایا کرتا تھا۔ اس کی دعائیں سنی گئیں اور رحیم بخش پیدا ہوا جو اس کے بڑھاپے کی اولاد تھا۔ رحیم جس دور میں پیدا ہوا کھیالی کا اکھاڑہ راجوں مہاراجوں کی عنایات سے محروم ہو چکا تھا۔ اس کا سن پیدائش 1864 تھا۔ سلطان نے جس ٹھاٹ بھاٹ سے زندگی گزاری تھی جاگیروں کے واپس جانے کے بعد وہ طرز زندگی نہ رہا تھا اور یوں رحیم بخش کو باپ کی نسبت عسرت زدہ ماحول ملا تھا جبکہ سلطان پہلوان بھی اس دور میں بابا سلطان بن چکا تھا۔

1885ء میں جب رحیم بخش اکتساب پہلوانی کیلئے ایک بڑے پہلوان کے زیر سایہ آ چکا تھا۔ سلطان پہلوان گوجرانوالہ کے ایک مقامی پہلوان خلیل سے گر گیا۔ یہ ایسا صدمہ تھا جس کے بعد سلطان پہلوان نے یہ قسم کھائی تھی کہ جب تک میں خلیل کو گرا نہ لوں تب تک چارپائی پر نہیں سوؤں گا۔سر پر دستار نہیں سجاؤں گا بلکہ پاؤں میں جوتے تک نہیں پہنوں گا۔بدقسمتی سے سلطان پہلوان خلیل کو عمر بھر نہ گرا سکا اور یوں بقیہ ساری عمر زمین ہی اس کا بستر بنتی رہی۔ بس ایک پتھر کی اینٹ سرہانہ تھی اور کھدر کی ایک چادر اوڑھنی ہوتی۔ یہ دونوں چیزیں یعنی اینٹ اور چادر سلطان پہلوان کے خاندان کے پاس آج بھی موجود ہے۔ مشہور ہے کہ آج بھی چھپاکی کے مریض اس چادر کو اوڑھنے سے شفایاب ہو جاتے ہیں۔

***

رت بدل گئی تھی مگر بابا سلطان کے نہ تیور بدلے تھے نہ ارادے۔ خلیل پہلوان نے اس شاہ نشیں پہلوان کو مات دے کر بوریا نشیں بنا ڈالا تھا۔ بابا سلطان اپنی شکست و ہزیمت کو فتح و نیازی مندی میں بدلنے کیلئے اپنے بوڑھے جسم کو پھرسے جواں فولادی جسم میں ڈھالنے کی تیاریوں میں پڑ گیا تھا۔ اس کے اکھاڑے کا ایک خاص پہلوان کھمب پہلوان بابا سلطان کی ان بے چینیوں اور بے قراریوں کا بڑی سنجیدگی سے مشاہدہ کر رہا تھا۔ کھمب پہلوان بابا سلطان کا یار غار بھی تھا۔وہ اس سے اپنے دل کی ہر بات کہہ ڈالتا۔ کھمب پہلوان نہایت پھرتیلا اور عجیب وضع قطع کا پہلوان تھا۔اس کے چاہنے والوں کا بہت بڑا حلقہ تھا۔ نام تو اس کا کچھ اور تھا مگر اس کے جثہ کو دیکھ کر سبھی اسے کھمب کہتے تھے۔ یعنی ایسا دبلا پتلا شخص جس کے جسم پر کھال برائے نام تھی۔ کھمب پہلوان بڑا زندہ دل انسان تھا۔اس کے بدن میں بندروں کی سی پھرتیاں تھیں۔ اکھاڑے میں زور کرتے اور دنگل میں مقابل کے سامنے اترنے سے لے کر مقابلہ کرنے تک وہ انسان کم بندر زیادہ دکھائی دیتا۔ کیونکہ وہ اپنے مقابل پر داؤ لگاتے وقت کچھ اسی قسم کی پھرتیاں دکھاتا تھا۔ وہ صرف پھرپتیلا ہی نہیں بلکہ ایک مکمل فنکار پہلوان تھا۔

بابا سلطان نے جب سے اپنا بچھونا زمین کو بنایا تھا اور اپنے ارادوں سے سب کو باخبر کر دیا تھا کہ وہ جب تک خلیل پہلوان کو شکست نہیں دے گا نہ اچھا پہنے گا نہ بستر پر سوئے گا۔ کھمب پہلوان بابا سلطان کے اس فیصلے کو ہٹ دھرمی قرار دیتا تھا۔

ایک روز اسی بات پر دونوں کے درمیان کافی گرما گرمی بھی ہو گئی۔برسات کے دن شروع ہونیوالے تھے۔ سہ پہر کا وقت تھا۔آسمان پر بادل چھائے تھے۔ بارش کے آثار نمایاں تھا۔ دوپہر تک گرمی ٹوٹ کر پڑی تھی لیکن اب موسم قدرے بدل گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد بارش ہونے لگی۔ بادل کھل کر نہ برسے۔ زمین ذرا سی بارش سے پھولنے لگی اور اس کے اندر سے گرمی پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل پڑی۔ ماحول میں حبس بڑھ گئی جس سے گرمی کا احساس زیادہ ہونے لگا تھا۔ ایسے میں بابا سلطان نے اکھاڑہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس نے رحیم بخش کو ساتھ لیا اور اپنے اکھاڑے اندرون کھیالی دروازہ چلا گیا۔ کھمب پہلوان پہلے ہی سے اکھاڑے میں تھا۔ اس روز اس نے تمام شاگرد پہلوانوں کو زور کرنے سے منع کر دیا تھا۔ بابا سلطان نے وجہ پوچھی تو کھمب پہلوان نے کہا۔

’’بابا جی!سیانوں نے ایسی رت میں ریاضت سے منع کیا ہے۔ گرمی کے ساتھ حبس بڑی خطرناک ہے۔ آج کا پہر ٹل لینے دیں۔صبح اکھاڑہ کر لیں گے تاکہ رات کی ٹھنڈک سے زمین کا کلیجہ بھی ٹھنڈ پڑ جائے‘‘۔

بابا سلطان کی تیوری پر بل پڑ گئے۔ اپنے شاگردوں کو ایک نظر دیکھا اور کھمب پہلوان کو پرے لے جا کر کہا۔ ’’اوئے ذرا یہ بتا تو حکیم کب سے ہو گیا ہے۔ تیرا خیال ہے زور کرنے سے حبس نقصان دے گی اور یہ تجھے کیا سوجھی ہے۔ میں نے تو آج تک نہیں سنا کہ موسم بدل جائے تو زور ریاضت میں احتیاط کرنی چاہئے۔ میرا تو خیال ہے بندے کو ہر موسم کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ اس سے ہی تو مزاج بنتا ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ملتا ہے‘‘۔

کھمب پہلوان نے نرمی سے کہا۔ ’’بابا یہی تو تجھ میں گھاٹا ہے۔ تو ہر بات کو طاقت کے ترازو میں تولتا ہے۔ لوگوں کی ساری عمریں ریاضت میں گزری ہوتی ہیں۔ ان کا تجربہ جب بولتا ہے تو ٹھیک ہی بولتا ہے۔‘‘

بابا سلطان نے ناگواری سے کہا۔ ’’اچھا تو اپنا سیاناپن پاس ہی رکھ۔ ان لڑکوں کو زور کرنے دے اور سن! لڑکوں کا دل باتوں سے نہیں بہلاؤ بلکہ انہیں شاہ زوروں کے قصے کہانیاں سناؤ۔ ان کا جوش بڑھاؤ۔ انہیں جتنی عقل کی ضرورت ہے وہ ان کے پاس پہلے ہی سے موجود ہے‘‘۔

’’بابا تو یہ اچھا نہیں کر رہا۔ ہر کام کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے‘‘ کھمب پہلوان نے تلخی سے کہا۔ ’’میں تو وہی کروں گا جو میرا دل کہے گا‘‘۔

’’تو اپنا دل اپنے پاس ہی سنبھال کر رکھ۔’’بابا سلطان بولا۔ ’’میں خود ان لڑکوں کی رکھوالی کر لوں گا‘‘۔

’’تو تو سٹھیا گیا ہے بابا‘‘۔ کھمب پہلوان نے طنز کیا۔ ’’جوانی تیرا ساتھ چھوڑ گئی اور لگتا ہے عقل بھی ساتھ ہی لے گئی ہے۔ تبھی تجھے خلیل سے لڑنے کا شوق چڑھ آیا تھا۔ دیکھ لیا اس نے تیرے کیسے انجر پنجر ہلا کر رکھ دئیے ہیں۔ میری مان اور اب صرف خلیفہ گیری کر۔لنگوٹ کھول دے۔ اکھاڑے میں شیروں کی طرح اترنا اب ترے اختیار میں نہیں رہا‘‘۔

بابا سلطان طیش میں آ گیا۔ ’’تو میرے بڑھاپے کو للکارتا ہے نامراد۔ تو نہیں جانتا شیر، شیر ہی ہوتا ہے۔ بوڑھا بھی ہو جائے تب بھی اسی کی ہیبت ختم نہیں ہوتی‘‘۔

کھمب پہلوان نے بات کو گرہ لگائی۔ ’’بابا تو نے خود اپنی کمزوری کا اعتراف کر لیا ہے۔ بوڑھا شیر صرف ہیبت پیدا کر سکتا ہے۔ اس کی طاقت اور پھرتی جواب دے جاتی ہے۔ بس کمزور اور لاغر جانوروں کا شکار کر پاتا ہے یا مردار اس کی خوراک بنتے ہیں۔ میری بات مان لے اور اپنا مان وقار اور دبدبہ قائم رکھنے کیلئے پٹھے پیدا کر۔ بس تو اب استاد بن جا‘‘۔

’’اوئے کھمب تو میری رگ رگ سے واقف ہونے کے باوجود میرا مذاق اڑتا ہے۔ چل آ اکھاڑے میں تجھے بتاؤں کہ سلطان کے دم خم کیا ہیں؟‘‘

’’بابا تو خوامخواہ ناراض ہوتا ہے۔ میں تجھے مانتا ہوں تو بڑا شاہ زور ہے بلکہ پہلوانوں کا مان تجھ سے قائم ہے۔ اسی لئے تو کہتا ہوں اتنی جی داری نہ دکھایا کر۔ آج نوجوان اور بڑے ترکھے پہلوان پیدا ہو رہے ہیں۔ہر ایک سے ہتھ جوڑی تجھے زیب نہیں دیتی‘‘۔

بابا سلطان کھمب پہلوان کی بات کی تہہ تک جا پہنچا اور مسکرا کر بولا۔ ’’اؤے یار کھمب تو چیز بڑی نرالی ہے۔ بلکہ لاجواب اور بے مثل ہے۔۔۔ مگر تو اس بات کوذہن میں نہیں لا رہا کہ پہلوانی کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے جب تک دل و دماغ جواں ہے بندہ جواں ہے‘‘۔

’’پہلوان جی! آپ کا کہا سر آنکھوں پر‘‘۔ ۔۔۔ کھمب نے یار غار کے آگے نیاز مندی سے سر جھکایا۔ ’’مگر حضور کو ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہئے کہ بندہ کو اپنے آپ سے دھوکا نہیں کرنا چاہئے۔ خود کو فریب میں رکھنے والا بڑا برا انجام پاتا ہے۔ ہر بندے کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے‘‘۔

’’اچھا، تیری باتوں پر پھر کبھی غور کروں گا۔ اب تو چل اور لڑکوں کو تھوڑا بہت زور کرادے ورنہ ایک دن کی چھٹی کا چسکا انہیں بہانے باز بنا ڈالے گا‘‘۔

کھمب پہلوان نے بابا سلطان کی بات مان لی اور لڑکوں کو زور کرانے لگا۔

سحری کا وقت تھا۔ریاضت کا وقت ہو چلا تھا۔بابا سلطان ابھی تک اکھاڑے میں نہیں پہنچا تھا۔ کھمب پہلوان کا دل تشویش سے بھر گیا۔ ابھی کل سہ پہر کے وقت ان دونوں میں خاصی تو تو میں میں ہوئی تھی اور جب بابا سلطان واپس گھر گیا تو خیر سے تھا۔ صبح کی ریاضت پر اس کا نہ پہنچنا خلاف معمول بات تھی۔(جاری ہے )

پہلوانوں کی داستانیں ۔ ۔۔ قسط نمبر 26 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : طاقت کے طوفاں