پاناما کیس کا فیصلہ آتے ہی وزارت اور اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہو جاﺅں گا :چوہدری نثار

پاناما کیس کا فیصلہ آتے ہی وزارت اور اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہو جاﺅں گا ...
پاناما کیس کا فیصلہ آتے ہی وزارت اور اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہو جاﺅں گا :چوہدری نثار

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پانامہ کیس کا فیصلہ آںے کے بعد وزارت اور اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کردیا ہے، تاہم بعد ازاں ترجمان وزارت داخلہ نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری نثار کا یہ فیصلہ کل رات تک کا تھا۔ اسلام آباد میں  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ گذشتہ شب تک پارٹی کے کچھ افراد کے رویوں کے باعث میں نے انتہائی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کر لیا تھا ، میں نے فیصلہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ سے پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وہ وزارت اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دوںگا، مگر دوستوں کے جبر کی وجہ سے میں اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور ہواہوں ، میں 33سال سے ایک ہی ٹرین میں مسافر ہوں حالات جیسے بھی ہوں اس ٹرین کو کبھی نہیں بدلا یہ ٹرین چلے یا نہ چلے اسے بدلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ، آوارہ ٹرین شیخ رشید ہی کو مبارک ہو ۔ گذشتہ کچھ عرصے سے میرے حوالے سے لوگوں نے کہا کہ چوہدری نثار پارٹی کو چھوڑ نہیں سکتا، میرے بدترین سیاسی مخالفین نے میرے حوالے سے یہ بات کہی جو میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے، مشکل حالات میں پارٹی قیادت کو تنہا چھوڑنا میرے خمیر میں شامل نہیں ۔ 

نوازشریف سے پچھلے دو ماہ سے ون ٹو ون ملاقات نہیں ہوئی :چوہدری نثار

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میں نے سیکڑوں پریس کانفرنسز کی ہیں لیکن یہ میری زندگی کی سب سے مشکل پریس کانفرنس ہے۔ یہ پریس کانفرنس میرے لئے وبال جان بن گئی ہے، وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران انہوں نے جو کہا تھا تھا ان میں کچھ باتیں صحیح طریقے سے باہر گئیں جب کہ کچھ کا تاثر غلط دیا گیا۔ میں کسی سے نارض نہیں ہوا۔ میں 35 سال سے مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں، نوازشریف اور (ن) لیگ کے ساتھ اپنی ساری زندگی داو¿ پر لگائی لیکن کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ مجھے اس پارٹی سے پیار ہے، اس پارٹی کو نواز شریف نے اپنی محنت اور ثابت قدمی سے کھڑا کیا لیکن ان کے ساتھ اور بھی لوگ تھے اور ان میں سے ایک وہ بھی ہے، انہیں اس پر فخر ہے کہ وہ ان میں ایک ہیں جو اگلی صفوں میں کھڑے ہیں۔شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ دوسری ٹرینیں انہیں مبارک، وہ کسی اور ٹرین کی سواری نہیں، خواہ وہ رکی یا چلی، جب سے سیاست کا آغاز کیا اس وقت سے ایک ہی ٹرین پر بیٹھے ہیں۔ ان کے خلاف ہر مقام پر پراپیگنڈا ہوا لیکن جس نے بھی کہا کہ نثار پارٹی نہیں چھوڑے گا اس سے بڑا ان کے لیے کوئی تمغہ نہیں۔ وہ 33 سال سے ہر میٹنگ میں موجود ہوتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ کے دوران انہیں 3 میٹنگز کے لیے بلایا گیا لیکن اہم ترین مشاورتی اجلاس میں نہیں بلایا گیا اور وہ بن بلائے کہیں نہیں جاتے۔ انہوں نے تمام عمر نواز شریف کے سامنے سچ کہنے کی جسارت کی، ان کا کردار نواز شریف کے ساتھ یہی ہے کہ اکثر نواز شریف سے کہہ دیتے تھے کہ رومن شہنشاہ اپنے ارد گرد لوگوں کو کھڑے رکھتے ہیں۔

پانامہ کیس کا فیصلہ اگر وزیر اعظم کی حمایت میں آئے تو عاجزی، خلاف آنے کی صورت میں قوم کو متحد رکھیں : چوہدری نثار

وزیر داخلہ نے کہا کہ فوج سے قربت کے حوالے سے مجھ پر الزامات لگے، میرے دادا ، باپ ، بھائی اور چار بہنوئی پاک فوج میں اور میں اس پر فخر کرتا ہوں ، میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ سول ملٹری تعلقات ملک کے مفادات میں ہیں لیکن یاد رکھیں جب جنرل بیگ نے گلف وار پر بیان دیا تو میں نے پارلیمنٹ کھڑے ہو کر ان کے خلاف بیان دیا جس پر جنرل صاحب چار سال تک مجھ سے ہم کلام نہیں ہوئے ہمارے اچھے تعلقات خراب ہوگئے لیکن میں نے یہ سب کچھ پارٹی ، نواز شریف اور ملک کے مفاد کے لئے کیا۔جنرل مشرف جب کرنل تھے تب سے میں انہیں جانتا ہوں مگر ان کے اقدامات کے خلاف پارٹی کے وقار کے لئے میں کھڑا ہوگیا، میری ان سے حد تک مخالفت کی کہ ہمارے تعلقات دشمنی کی حد تک پہنچ گئے تھے۔یہ سب میں نے اپنے لئے نہیں کیا بلکہ ملک اور پارٹی کے مفاد کے لئے کیا۔ اسی طرح جنرل پاشا نے سیاسی معاملات میں دخل اندازی کو کوشش کی تو میں نے کہا کہ ان اقدامات کے خلاف میں سپریم کورٹ میں جاﺅں گا۔

ملک میں خطرات کے بادل چھائے ہیں ، قوم کو متحد رکھنا ہوگا : چوہدری نثار

ملک کی تازہ سیاسی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ لوگ ہم سیاست دانوں کو رول ماڈل سمجھتے ہیں لیکن ہم کہاں کے رول ماڈل ہیں ہم نے سیاست کو گند بنا کر رکھ دیا ہے۔ گالم گلوچ ہمارا پیشہ بن چکا ہے ، یہ کون کر رہا ہے اور ان سے ایسا کون کروا رہا ہے۔ نواز شریف اب بھی شریف آدمی ہیں ، نوجوانوں کا کیا قصور ہے، نواز شریف نے انہیں بار بار سمجھایا۔میں سیاست سے باز آیا، یہ ایک عذاب بن چکا ہے۔ مجھے بطور انسان شرمندگی ہوتی ہے۔میرا اس سیاست سے دل اچاٹ گیا ہے،مجھے کسی عہدے کی لالچ نہیں ہے مجھے تو ایم این اے شپ سے محبت ہے لوگوں کی محبت ہے کہ وہ مجھے33سالوں سے منتخب کر رہے ہیں۔میرے حوالے سے طرح طرح کی باتیں کی جارہی ہیں میں کہاں کہاں وضاحتیں دیتا رہوں گامیں نے قیادت سے کہہ دیا ہے کہ یہ سب کچھ مجھ سے نہیں ہوتا۔ میں نے ہمیشہ عزت کے لیے سیاست کی ہے، میں اپنے کردار کے حوالے سے بہت حساس ہوں ،میرے خون میں سازش نہیں ہے، میںکسی عہدے کے خواہشمند نہیں اور پاناما کیس کے فیصلے کے بعد سیاست ہی چھوڑ دوں گا۔

وزیر داخلہ نے اشاروں کنایوں میں واضح کر دیا کہ نواز شریف کی کہانی ختم ہو چکی :ایاز امیر

وزیر داخلہ چوہدری نثار کا مزید کہنا تھا کہ ملک اس وقت شدید خطرات سے دو چار ہے، چاروں طرف سے ملک کو گھیرا جا رہا ہے اس ملک اور قوم کو متحد رکھ کر اتحاد کا مقابلہ کرنا ہوگا، کہ ملک میں شدید خطرے ہیں اور یہ بات ہم 4لوگ جانتے ہیں ان میں سے 2فوج سے ہیں جبکہ2سیاست دان ہیں ، تاہم ان کے نام میں نہیں بتاﺅں گا۔اگر پانامہ کیس کا فیصلہ حمایت میں آتا ہے یا مخالفت میں آتا ہے وزیر اعظم اور پاکستانی سیاست دانوں کو خیال رکھنا ہوگا، خطرے کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں سیاست دانوں کو قوم کو متحد رکھ کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

چوہدری نثار اب نواز لیگ کو ٹوٹ پھوٹ سے نہیں بچاسکتے: وفاقی وزیر شیخ رشید

پانامہ کیس کے متوقع فیصلے کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ حمایت آئے تو وزیر اعظم کو عاجزی و انکساری کا مظاہر ہ کریں وہ یقینا ایسا ہی کریں گے کیوں کہ نواز شریف شریف النفس شخصیت ہیں مگر دوسری جانب اگرفیصلہ مسلم لیگ یا وزیر اعظم کی مخالفت میں آتا ہو تو یہ وزیر اعظم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قوم کو متحد رکھیں اور نادان مشیروں کے حکم پر لوگوں کی گردنیں اتارنا شروع نہ کردیں۔ نواز شریف اسے برا سمجھے یا نہ سمجھیں وہ صاف بات کررہے ہیں، قوم اور پارٹی نے انہیں جتنا کچھ دیا ہے کسی اور نہیں دیا۔ انہیں صرف اپنا نہیں بلکہ ملک کا تحفظ کرنا ہے۔ میاں صاحب اگر ہم ہارے بھی تو قوم کو یکجا کریں اور آپ اس میں کسی قسم کے انتشار کا موجب نہ بنیں، میرا سب سے بڑا مقصد پارٹی کو قائم و دائم رکھنا ہے جب کہ اس وقت گہرے بادل پاکستان کے ارد گرد منڈلا رہے ہیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم کو یکجا ہونا پڑے گا۔ سیاسی پارٹیوں اور قوم سے درخواست کرتا ہوں کہ ہمیں سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کو قبول کرنا ہوگا۔ نواز شریف فیصلہ آنے پر اپنے آس پاس موجود ساتھیوں کے مشورے پر عمل نہ کریں۔

مزید : قومی /اہم خبریں