انگو ٹھے کے نیچے مستقبل!

انگو ٹھے کے نیچے مستقبل!
انگو ٹھے کے نیچے مستقبل!

  

25 جو لا ئی کو انتخا بات کا مرحلہ ختم اور اور اب حکومت سا زی کا مر حلہ شروع ہو نے کا لمحہ آ ن پہنچا،اس انتخاب میں اختیار کا نعرہ تھا، احتساب کی خواہش تھی ، جب انتخاب ، اختیار اور احتساب کی بات ہو تو نہا یت احتیاط کی ضرورت ہو تی ہے ووٹر کے لیے بھی اور سیا سی جما عتوں کی قیا دت کے لیے بھی۔

اس میں کتنی احتیاط ہم نے اختیار کی اس کا آ ئندہ چند دنوں میں اندازہ ہو جا ئیگا وگر نہ اندیشہ یہی ہے کہ قو می سطح پر پھیلا انتشار مزید بڑ ھے گا۔ اس الیکشن میں متعددسیا سی جما عتوں کی انتخا بی مہم اور پو لنگ کے دن کو قریب سے دیکھا اور رپورٹ کیا، متعدد ووٹروں کے سیا سی رحجانات، ووٹ کے لیے کو ئی کیوں تر جیح ہے؟ اب تک ان کا اپنا انتخا بی تجر بہ کیا کہتا ہے؟ ما ضی میں دئے گئے ان کے مینڈیٹ کے سا تھ کیا ہوا؟ اور ہربا ر یہ اپنے کام کاج چھو ڑ کر کیوں دیوا نہ وار انتخا بی کیمپس اور ووٹ ما نگنے اور ووٹ کاسٹ کر نے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

بڑ ے بڑے دلچسپ لو گو ں سے ملا قاتیں رہیں اور انو کھی نو عیت کے جوا بات ملے ۔چرا غ دین ایک عمر رسیدہ ووٹر ہیں، پسینے میں شرا بور اور اپنی پارٹی کا جھنڈا تھا مے، اپنے قا ئد کا فوٹو سینے پر سجا ئے بہتر مستقبل کے نعرے اور ملکی ترقی کے ترانے گا رہا تھا،حلیے سے ایک دیہا تی آ دمی لگتا تھا اور سر پر با ندھی پگڑی کے بل کھل رہے تھے ایسے جیسے سول با لا دستی کی پگ طا قتوروں کے پا ؤں تلے رُ ل رہی ہے اور اب الجھے ہو ئے دھا گے کی طرح اس کا کوئی سرا ہما رے ہا تھ نہیں لگ رہا۔

اس کی میلی کچیلی پگ کی طرف اس کے سویلین حا کم کبھی کو ئی توجہ دیتے تو آ ج طاقتوروں کو جرا ت بھی نہ ہو تی جو اس طرح ووٹ سے منتخب حکمرا نوں کو ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے۔ اس کے گہرے حلقوں میں دھنسی ہو ئی آ نکھوں میں مجھے کئی بیتے ہو ئے الیکشن نظر آ ئے ۔

تا ریخ کے اوراق میں محفوظ ایک ایسا ہی الیکشن میری نظرمیں گھوم گیا جب جیتنے وا لے امیدوار کو قبول نہ کیا گیا اور فیصلہ کیا گیاکہ حکو مت وہ بنا ئے گا جو زیا دہ ہما رے تا بع رہے گا، جس پر ہما ری مر ضی زیا دہ چلے گی، جو عوام سے زیادہ ہما را بندہ بنے گا وہی قتدار کا امین ٹھہرے گا مگر اقتدار کے اس کھیل میں ملک دو لخت ہو گیا تھا، اب بھی اس الیکشن میں ووٹنگ کے دن تک سب سے ز یا دہ جو سوال زیرِ بحث رہا وہ صرف عمران خان کی ذات کا احا طہ کر تا رہاکہ آ یا اسے ملکی اسٹیبلشمنٹ وزیر اعظم کے طو ر پر قبول کر ے گی یا نہیں؟ یا شہبا ز شریف اسٹیبلشمنٹ کے لیے کتنے ’’ یس مین ‘‘ ہو نگے؟کیا ہم ملک ٹو ٹنے کے بعد بھی اس حقیقت کو نہیں پا سکے کہ اقتدار اس کے حوا لے ہو نا ہے جسے بیلٹ میں عوام نے سر خرو کر نا ہے؟ اس بو ڑ ھے دیہا تی ووٹر سے بات کرنے کے بعد میں نے کئی اور ووٹروں سے بات کر نے کی کو شش کی ان میں سے کئی بے رونق چہرے لگے ووٹ کسی مقصد اور منشور کو ڈا لنے کی بجا ئے ان کے پو لنگ اسٹیشن پر آ نے کا مقصد صرف اپنی ذات برادری کا علم بلند کر نا تھا۔

ان کے بے رونق چہروں میں مجھے 1985 کے غیر جما عتی الیکشن بھی نظر آ ئے جس کے بعد ملک کی جمہو ریت کو غیر جما عتی اور بے رونق چہرہ دیا گیا ۔قو می جما عتوں کا کر دار کم کیا گیا، صو با ئیت اور لسا نیت کے نام پر سیا سی عصبیت کی بنیا د رکھی گئی اور سب سے بڑ ھ کر ذات بر ادری کی بنیا د پر ووٹ کا سٹ کر نے کا کلچر فروغ دیا گیا۔

یہی وہ الیکشن تھا جس میں ایشوز کی بجائے ذات بر ادری کی بنیا د پر ووٹ دینے کی بنیا د پڑی۔ان تمام اقدا مات سے پیپلز پا رٹی کو تو محدود کیا گیا مگر اس سے قیا دت کا ایک نیا برانڈ متعا رف ہواجو مڈل کلاس کے تاجروں کی نما ئندگی کر تا تھا اور قو می سیا ست میں اس قیادت نے کئی مر تبہ چھا نگا ما نگا ئی سیا ست کی اور سیا سی گھو ڑوں کی خرید و فروخت کے جو ہر دکھا ئے۔ایک ن۔

لیگی ووٹر کے چہرے پر بھی مجھے انجا نے خوف سے ہو ائیاں اڑتی نظر آ ئیں۔اس کو دھڑ کا لگا ہوا تھا کہ اس کا ووٹ چو ری نہ ہو جا ئے، جہا ندیدہ آ دمی معلوم ہو تا تھا ، اسے ما ضی کے ہر الیکشن کی خبر تھی کیسے کیسے ووٹ کی پر چی ڈبے سے نکال کر کسی اور کے کھاتے میں شما ر کر لی گئی۔ مگر اس با راسے مکا فا تِ عمل کا ڈر تھا۔ پی ٹی آ ئی کے ووٹروں سے بھی بات ہو ئی جو اپنی آ خری امید عمران کو اب ہر صورت اقتدار میں دیکھنا چا ہ رہے تھے، مگر یہ بھی تحریک انصاف سے بطور جما عت ما یوس نظر آ ئے۔ اس جما عت میں بڑ ے سیاسی گھرا نوں سے جو پرانا خون شا مل ہو ا ہے اس سے یہ تا ثر مزید پختہ ہو ا ہے کہ عمران اپنی جما عت کو ایک سیا سی ادارہ بنا نے میں نا کام رہے ہیں۔ عمران خان اب اگر نا کام ہو ئے تو نہ صرف امیدکا خا تمہ ہو گا بلکہ ملک ایک نئی ابھر تی ہو ئی جما عت سے بھی محروم ہو جا ئیگا۔

بہت سے ووٹرز کی یہ بھی را ئے تھی کہ انتخا ب اور احتساب کی ٹا ئمنگ محض اتفا قیہ نہیں اور اسے واضح انداز میں انتخا بات کے اندر مدا خلت اور جا نبداری قرار دے رہے تھے۔میں ان کے تبصروں میں سو چ رہا تھا کہ کو نسا ایک الیکشن ہما ری تا ریخ میں ہو ا ہے جہاں انتخا ب کے وقت احتساب کی افا دیت کے استعمال سے فا ئدہ نہ اٹھا یا گیا ہو؟ سا را دن لا ہور کے پو لنگ اسٹیشنوں کی خاک چھا ننے کے بعد میرے سا منے یہ سوال تھا کہ آ ج کے دن پاکستان کے سیا سی افق پر کس کا سورج طلوع ہو گا؟ اس سوال کا جواب مجھے ن۔لیگ کے جو ش و جذبہ سے خا لی انتخا بی کیمپس اور ووٹروں کی لمبی لمبی قطا روں میں بہ آ سا نی مل گیا۔

پو لنگ ڈے شروع ہو نے پر مجھے عوام کے ایک جمِ غفیر کے گھروں سے نکلنے کی امید تھی جن سے نواز مخا لف سیا سی جماعتوں کی منصو بہ بندی کو الٹنے کی امید تھی مگر لا ہور کی 14 سیٹوں پر مجھے یہ نظا رہ کہیں نہ مل سکا، لا ہور مجھے واضح طور پر تقسیم نظر آ یا (انتخا بی نتا ئج اس کی تو ثیق کر دیں گے) ،اگر مسلم لیگ کی جنم بھو می لا ہو ر میںیہ عالم تھا تو جنو بی پنجاب، شما لی پنجاب اور وسطی پنجاب میں اندازہ لگا نا نہا یت آ سان تھا۔

اب سکہ را ئج الوقت سیاست اورقیادت عمران خان صا حب ہیں اب میرے ذ ہن میں اچا نک اڈیا لہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم نواز شریف کا خیال آ یا، زما نہ فقط تین دنوں پر مشتمل ہے گذرا ہو ا کل، آ ج اور آ نے والا کل۔نواز شریف اپنی بیشتر اننگز کھیل چکے ہیں ان کے لیے صرف آ نے والا کل بچاہے۔کہاں پیر چنگی اور کہاں خدا دوستی، قربان جا ئیے قدرت کے بھید نرا لے ہیں،کہاں میاں نواز نواز شریف اور کہاں جمہو ر دوستی۔

مگر اب جب تک ان کے ہا تھوں میں دم ہے انہیں یہ گریبان چا ک کرتے رہنا چا ہئے شا ید اس سے کچھ چرا غ اور محفل میں جل اٹھیں۔ویسے بھی کل ہونے و ا لے انتخا بات میں انہیں جیت کی خوا ہش نہیں ہو گی ویسے جیسے کسی کٹی ہو ئی شا خ کوبہا ر سے کو ئی سروکار نہیں ہو تا۔اب آ خری عمر میں نو از شریف نے جس عشق کا پیشہ اختیار کیا ہے مجھے امید ہے یہ شریف فن دوسرے ہنروں کی طرح محرو می کا با عث نہیں بنے گا اور انہیں ملکی سیا سی تا ریخ میں زندہ ضرور رکھے گا۔

اسفند یار ولی خان کہتے ہیں ولی خان نے انہیں کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آ خری لڑا ئی پنجاب سے لڑی جا ئیگی، کیا یہ لڑا ئی شروع ہو چکی؟اس وقت اہل دانش نے ان سے کنا رہ کشی نہیں کی اور سول ملٹری لڑا ئی میں ہزار ہا قسم کے سوالات اٹھا رہے ہیں اور عا لمی میڈیا بھی گو یا اس وقت نوا ز مخا لف سیا سی قوتوں اور انتخا با ت کی ساکھ پر پل پڑا ہے، الیکشن سے ایک دن پہلے جو آرٹیکلز لکھے گئے ہیں محض ان کے عنوا نات کو ذ ہن میں لا ئیے بی بی سی نے لکھا ’’ پا کستا نی تا ریخ کے گندے ترین الیکشن‘‘ الجزیرہ نے لکھا ’’خان کی شخصیت اور پالیسی پو زیشن میں کافی کچھ ہے جو اسے آ رمی کا لاڈلہ ثا بت کر تی ہے‘‘ فارن پا لیسی نے لکھا کہ ’’ ووٹ خواہ کو ئی بھی جیتے مگر ہا رے گی صرف قوم‘‘ یہ اور اس طرح کے درجنوں مو ضو عات جو الیکشن میں غیر جا نبداری اور شفا فیت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -