صاف شفاف انتخابات 

صاف شفاف انتخابات 
صاف شفاف انتخابات 

  

بالآخر عام انتخابات 2018 ء اپنے انجام کو پہنچے، جس میں 26 تاریخ کی صبح تک غیرسرکاری اور غیرحتمی انتخابی نتائج کے تحت پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی کی 270 میں سے 112 اور مسلم لیگ (ن) کو 64 نشستوں پر برتری حاصل ہو ئی ہے۔ پیپلز پارٹی کو 42، ایم ایم اے 10 اور ایم کیو ایم 8،جی ڈی اے6، جبکہ 18نشستوں پر آزاد امیدوار جیت رہے ہیں۔

مسلم لیگ ق کو 3 اور جیپ کو ایک نشست پر سبقت حاصل تھی۔ ابھی نتائج آرہے ہیں ، لیکن اس کالم کے چھپنے تک تمام نتائج مرتب ہو چکے ہوں گے۔۔۔بہرحال جیسا کہ اندازہ لگایا جا رہا تھا اور مختلف اداروں اور جماعتوں کی طرف سے سروے رپورٹس آرہی تھیں تقریباً ویسا ہی نتیجہ آیا ہے۔ پی ٹی آئی کو ملک گیر فتح حاصل ہوئی ہے اور مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر ہے۔ پیپلز پارٹی اب صرف سندھ کی جماعت ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی بھی ہے جو کامیاب ہوئی ہے۔

مرکز میں یہی نظر آرہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی اور پنجاب میں بھی حکومت سازی کے لئے مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کا سخت مقابلہ ہونے والا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا خان نے انتخابات کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے انتظامات سے 99فیصد مطمئن ہیں۔ اس مرتبہ امن وامان سے متعلق بہتر انتظامات ہیں اور مختلف ایجنسیوں نے حتی الامکان سیکیورٹی خدشات دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

سیاستدانوں کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے لیا ہے۔ سوائے کوئٹہ میں خود کش حملے کے ، جس میں 32 سے زائد جانیں ضائع ہوئیں، باقی تمام ملک میں انتخابات پُرامن رہے۔۔۔نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے عام انتخابات 2018ء کے کامیاب انعقاد پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان، صوبائی حکومتوں، مسلح افواج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انتخابی عملے، ذرائع ابلاغ اور ان تمام اداروں اور افراد کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے انتخابات کے انعقاد میں معاونت کی۔ 

حقیقت یہ ہے کہ انتخابی عمل کو پُرامن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پاک فوج، رینجرز اور سیاسی رہنماؤں کا تعاون بھی لائق تحسین ہے۔پاک فوج نے پولنگ اسٹیشنوں کے علاوہ حساس علاقوں اور شہروں میں بھی اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں اور پُرامن ، صاف شفاف انتخابات کے انعقاد میں نگران حکومت ، الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کا بھرپور ساتھ دیا ۔ ہم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے تین لاکھ سے زائد نوجوانوں کو عوام اور سیاسی رہنماؤں کی حفاظت پر متعین کیا۔

آرمی چیف کے مطابق ہم نے قو می سطح پر دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف متحد ہیں۔ عوام کے پاس اپنی تقدیر بدلنے کے لئے ووٹ ایک بہترین ذریعہ ہے۔

دشمن قوتوں کو ووٹ کے ذر یعے شکست دیں گے۔ ہم پاکستان کے خلاف کام کرنیوالی دشمن قوتوں کا نشانہ ہیں۔ملک دشمن قوتوں کو ناکام بنانے کے لئے طویل سفر طے کیا، لیکن ہم دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لئے متحد اور مضبوط کھڑ ے ہیں۔

آج ہم دشمن قوتوں کو ووٹ کے ذریعے شکست دیں گے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی شفاف الیکشن کے انعقاد میں اپنا اور اپنے ادارے کا حصہ ڈالا۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ مَیں نے بروقت انتخابات کرانے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا۔آج جمہوریت کی مضبوطی کا دن ہے۔ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی قائم رہے گی۔ اچھی قیادت ملک کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ 

جہاں انتخابات کے صاف شفاف ہونے میں کوئی عذر نہیں، وہاں چند ہارنے والی جماعتوں نے دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، ایم ایم اے ، ایم کیو ایم اور دیگر چندجماعتوں نے عوامی مینڈیٹ چرانے اور فارم 45 نہ دیئے جانے پر الیکشن کمیشن اور نگران حکومت سے شدید احتجاج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے میڈیا پر جو وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی ہے، وہ ناقابل فہم ہے۔ لاہور کے حلقوں کے نتائج کا رات 2بجے تک اعلان نہ کیا جانا ناقابل فہم ہے۔

اس کے علاوہ اپنے پولنگ ایجنٹوں کو کمرہ انتخاب سے باہر نکالنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ان جماعتوں کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا ہے کہ فارم 45 کی کوئی کمی نہیں ہے راولپنڈی،کراچی کے ڈی آر او ، ریجنل آفیسر اور صوبائی چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کیا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس فارم 45 موجود ہیں، کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے۔

بعض جماعتوں کی جانب سے شکایات بلا جواز ہیں۔ اگر کسی جماعت کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو ہمیں بتائیں، ان کی شکایت کو دورکریں گے۔ پولنگ سٹیشن پر قانون کے مطابق صرف ایک پولنگ ایجنٹ کو اجازت دی جا سکتی ہے، تین تین یا چار چار کو اجازت نہیں دے سکتے ہیں ۔ بعض علاقوں میں اطلاعات ہیں کہ جن پارٹیوں کے نتائج خراب آ رہے تھے تو وہ خود ہی فارم 45 کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

نتائج میں تاخیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے طریقے سے نتائج کو جمع کرکے جاری کریں گے۔نتائج میں تاخیر کی وجہ یہ ہوئی کہ کراچی میں الیکشن کمیشن کا آر ٹی ایس سسٹم ہینگ ہوگیا جس کی وجہ سے رات گئے تک انتخابی نتائج کے اعلان نہ ہو سکے، امیدواروں کو بھی رزلٹ نہیں دئیے جاسکے ۔

اب جبکہ انتخابات کا انعقاد ہو چکا ہے اور رزلٹس بھی آچکے ہیں تو بظاہر یہ نظر آرہا ہے کہ تمام بڑی پارٹیوں کی مختلف صوبوں میں اکثریت ہے۔ مرکز اور کے پی کے میں پی ٹی آئی، پنجاب میں مسلم لیگ(ن) ، سندھ میں پی پی پی ، بلوچستان میں علاقائی جماعتیں اکثریت میں ہیں۔

اب تمام سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو برداشت کریں۔ بجائے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے، ملک و قوم کی خاطر ایک دوسرے کی مدد کریں۔

صوبائی حکومتیں مرکز ی حکومت کی اور مرکزی حکومت صوبائی حکومتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرے۔ ہم سب نے پاکستان کو آگے بڑھانا ہے۔ تمام جماعتوں کا منشور صرف پاکستان کی ترقی و بقاء ہونا چاہیے۔ میرا تیرا کر کے نفاق نہیں ڈالنا چاہیے۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ جمہوریت کا تسلسل جاری ہے۔

دو بار اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد اب تیسری بار نئی حکومت آئی ہے، اس کو کام کرنے دیا جائے۔ حکمران جماعت بھی عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے پاکستانیت کو مقدم رکھے۔ آئیں ہم سب مل کر دعا کریں کہ جمہوریت کا یہ تسلسل قائم رہے اور نئی حکومتیں پاکستان اور عوام کی بہتری کے لئے دل جمعی سے کام کریں۔ آمین 

مزید : رائے /کالم