خدا خدا کرکے قومی انتخابات تو ہوئے

خدا خدا کرکے قومی انتخابات تو ہوئے
خدا خدا کرکے قومی انتخابات تو ہوئے

  

پاکستان کی گیارویں عام انتخابات مکمل ہوئے۔ نتائج جمعرات کی دوپہر تک آ رہے تھے۔ابتدائی غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں برتری حاصل ہے۔ اور یہ برتری کیوں نہ حاصل ہو، عمران خان نے 14 اگست 2014ء کو لگائے گئے پہلے دھرنے کے وقت سے ہی ایک طرح سے اپنی غیر اعلانیہ انتخابی مہم جاری رکھی ہوئی تھی۔ یہ دھرنا 126دن بعد اس سیاہ ترین دن ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس روز پاکستان کی تاریخ کا ایک اندوہناک واقعہ پشاور میں پیش آیا تھا۔

آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں نے داخل ہو کر نہتے بچوں اور ان کی اساتذہ کا قتل عام کیا تھا۔

ایک سو سے زائد بچوں کو قتل کردیا گیا۔ ایک طرح سے دھرنا تو ختم کر دیا گیا تھا، لیکن عمران خان نے اپنے جلسوں کی مہم جاری رکھی ہوئی تھی۔ یہ غیر اعلانیہ مہم تھی۔ اتنی طویل مہم اور وزیراعظم نواز شریف کے نااہل ہونے، سزا اور قید کے بعد تو انتخابی نتائج کسی کے لئے بھی حیران کن نہیں ہونے چاہئیں۔

دوسری بات جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ طرز حکمرانی کیا ہوتا ہے اور عوام سے رابطہ کس طرح رکھا جاتا ہے۔ دیگر تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ عوام کے ساتھ رابطہ کیوں کر رکھا جاتا ہے۔

جلسے میں تقاریر اور ٹی وی چینلوں پر گفتگو عوام سے رابطہ کا کسی صورت نعم البدل نہیں ہوا کرتے ہیں۔ عمران خان کو بھی اس پر اپنے بھلے میں عمل کرنا ہوگا۔ برصغیر کے تمام سیاسی رہنماؤ ں کے عوام سے رابطوں کے طریقے ہی مختلف ہوا کرتے تھے جو ان کی عوام میں مقبولیت کا سبب بھی ہوتا تھا۔ 

انتخابی مراحل پر کئی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں، پہلا سوال یہ ہی ہے کہ نتائج میں تاخیر کیوں ہوئی ہے۔ صوبہ سندھ کے ان شہروں میں جہاں پولنگ سٹیشن شہری حدود میں واقع تھے، نتائج مکمل نہیں دئے گئے،حالانکہ پولنگ سٹیشن پر گنتی تو رات کے وقت ہی مکمل ہوچکی تھیں۔

پھر تاخیر کی کیا وجہ تھی۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آر او) کی ذمہ داری میں زیادہ سے زیادہ قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی چھ نشستیں دی گئی ہیں۔ پھر فارم 45 جاری کرنے میں تاخیر کیوں ہوئی۔ بعض ڈی آر او نے یہ وضاحت لکھی ہے کہ آر ٹی ایس ( وہ الیکٹرانک نظام جس کے ذریعے نتائج کی ترسیل ہونا تھا) میں فنی خرابی کے باعث تاخیر ہوئی ۔

فارم 45 الیکشن کمیشن کی وہ دستاویز ہے جو گنتی مکمل ہونے کے بعد ڈی آر او جاری کرنے کے پابند ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس مرتبہ تو پریذائیڈنگ افسران کو بھی پابند کیا تھا کہ وہ نتائج کو براہِ راست ڈی آر او اور کمیشن کو واٹس اپ کریں گے۔ ہر پریذائیڈنگ افسر کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اسمارٹ فون کا استعمال کریں گے۔

یہ شکایات بھی وضاحت طلب ہیں کہ کئی پولنگ اسٹیشنوں سے گنتی کے عین موقع پر پولنگ ایجنٹوں کو سٹیشن سے نکال باہر کیا گیا۔ پولنگ ایجنٹوں کو پریذائیڈنگ افسران نے گنتی مکمل ہوتے ہی الیکشن کمیشن کو فراہم کردہ وہ فارم کیوں نہیں دیا جو قانونی تقاضہ تھا۔

ان شکایات کو کسی طرح بھی یہ درجہ نہیں دیا جاسکتا ہے کہ کسی سطح پر کوئی مداخلت ہوئی ہے یا دھاندلی کی گئی ہے۔ ووٹروں کی کئی شہروں میں عدم دلچسپی کی کیا وجہ تھی جس کے سبب ووٹ نہیں ڈالے گئے، وجہ تلاش کرنا ضروری ہے۔

صوبہ سندھ میں کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف یا دیگر جماعتوں کو ووٹروں نے جسے چاہا ووٹ دیا۔ پیپلز پارٹی،جی ڈی اے، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) ، متحدہ مجلس عمل، وغیرہ کے امیدوار میدان میں تھے ۔

کئی حلقوں میں پیپلز پارٹی مخالف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ وہ منتشر رہنے پر ہی یقین رکھتے ہیں اور انہیں متحد ہونا دشوار لگتا ہے۔ جی ڈی اے کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو اپنا وزن، بھرم اور ساکھ کے بارے میں تو اپنے حاصل کردہ ووٹ دیکھ کر ہی اندازہ ہو چکا ہوگا۔

حیدرآباد کے کئی علاقوں میں سندھی اور مہاجر ووٹروں نے اپنا ووٹ پی ٹی آئی کے امیدواروں کے حق میں استعمال کیا ۔ ایسے ایسے علاقے جہاں سے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو بھاری تعداد میں ووٹ ملا کرتے تھے اِس مرتبہ لوگوں نے نئے رجحان کا مظاہرہ کیا اور تحریک انصاف کے امیدواروں کو ترجیح دی۔ اندرون سندھ بھی کئی حلقوں میں ایسے ایسے امیدواروں کو ووٹ ڈالا گیا، جنہوں نے اپنی انتخابی مہم بھی ڈھنگ سے نہیں چلائی تھی۔

یہ تبدیلی اس لحاظ سے اچھی نظر آتی ہے کہ عام ووٹر وں نے لسانیت کے بجائے ایسی قومی سیاسی جماعت کے امیدواروں کو ترجیح دی جس کے ہاں لسانیت کا عنصر نہیں پایا جاتا ہے۔

یہ بھی حیران کن امر ہے کہ پاک سر زمین پارٹی ، متحدہ مجلس عمل، تحریک لبیک ، ملی مسلم لیگ، اللہ اکبر تحریک کے امیدواروں کو ووٹ تو ڈالے گئے، لیکن بڑی پزیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ حیدرآباد کے ایک صوبائی حلقے سے تو پیپلز پارٹی کے اُردو بولنے والے امیدوار جبار خان کامیاب ہوئے۔ یہ 1970ء کے بعد اردو بولنے والے پہلے امیدوار ہیں، جنہیں کامیابی ملی ہے۔ 

بہر حال اس تماش گاہ میں انتخابات مکمل ہوئے۔ وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کس کے حصے میں آتی ہے، اس کے لئے تھوڑا وقت مزید درکار ہوگا۔ دیکھتے ہیں کہ آئندہ چند روز میں کیا کیا ہوا جاتا ہے۔ 

مزید : رائے /کالم