" اب ہم برطانیہ میں بھی یہ کام کریں گے" ریحام خان فاونڈیشن نے اعلان کردیا

" اب ہم برطانیہ میں بھی یہ کام کریں گے" ریحام خان فاونڈیشن نے اعلان کردیا

لندن (ویب ڈیسک) ریحام خان فاﺅنڈیشن برطانیہ میں بھی گھریلو تشدد سے متاثرہ افراد کی مدد کرے گی۔ اس بات کا اظہار پارلیمنٹ کی عمارت میں منعقد ریحام خان فاﺅنڈیشن کے اجراءکے موقع پر کیا گیا۔ تقریب میں اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ مختلف چیرٹی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ روزنامہ جنگ کے مطابق ریحام خان نے کہا کہ پاکستان میں فاﺅنڈیشن باضابطہ طور پر2015ءسے کام کررہی ہے جیسا کہ گھریلو تشدد متاثر خواتین اور بچوں کو مدد فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے باہر بسنے والی ہماری کمیونٹی میں گھریلو تشدد کا مسئلہ موجود ہے اور اکثر پاکستان، بنگلہ دیش یا دیگر ممالک سے شادی کرکے آنے والی لڑکیوں اور بعض اوقات لڑکوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں انہیں اس طرح سے تحفظ نہیں ملتا جیسا کہ مقامی افراد کو دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ فاﺅنڈیشن، اراکین پارلیمنٹ اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر نئے ڈومیسٹک وائلنس بل میں مائیگرنٹس کے حقوق کیلئے کمپین چلائے تاکہ ایسے لوگ جن کو برطانیہ میں مستقل قیام کی اجازت نہیں خواہ وہ سپاوز ہوں، اسٹوڈنٹس ہوں یا ریفیوجیز انہیں بھی وہ سب حقوق ملیں جو مقامی افراد کو حاصل ہیں۔ ریحام خان نے کہا کہ برطانیہ میں ڈیڑھ دو برس قبل پہلی مرتبہ ڈومیسٹک وائلنس کا بل ڈرافٹ ہوا ہے اور سابق وزیراعظم تھریسامے نے اس ضمن میں کافی دلچسپی لی تھی، یہ بل ابھی چونکہ زیرغور ہے اس لئے فاﺅنڈیشن کی یہ کوشش ہوگی، اس بل میں مائیگرنٹس کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی اکثریت والے علاقوں میں وہ خود جاکر کمیونٹی کو بتائیں گی کہ خاموش رہ کر تشدد نہ برداشت کریں اور مدد کی ضرورت میں کہاں اور کس طرح سے رابطہ کرنا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ مرد بھی گھریلو تشدد کا شکار ہوتے ہیں اب تو پاکستان میں بھی اس حوالے سے آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں اور اس میں کوئی آنر کی بات نہیں کہ آپ تشدد کو چھپائیں، متاثر ہونے والی عورت آپ کی بہن اور بیٹی بھی ہوسکتی ہے۔ روزینہ خان ایم پی نے ریحام خان فاﺅنڈیشن کے اجراءکا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو تشدد کے خلاف ہمیں مل کر آواز بلند کرنا ہوگی، نئے ڈومیسٹک وائلنس بل میں اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ متاثرہ افراد کو مناسب مدد اور ظلم کرنے والے کا احتساب ہو۔ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ متاثرہ خاتون آواز بلند کرسکے۔ رکن پارلیمنٹ خالد محمود نے کہا کہ ڈومیسٹک وائلنس افسوسناک ہے عموماً متاثرہ افراد خاموش رہ کر ظلم برداشت کرتے ہیں جوکہ ناقابل قبول ہے۔ آج کے جدید دور میں ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں اور نہ ہی کوئی مذہب اس قسم کا رویہ اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تقریب سے اراکین پارلیمنٹ افضل خان اور محمد یٰسین کے علاوہ مختلف چیرٹی نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور گھریلو تشدد کے خاتمے کیلئے تجاویز بھی پیش کیں۔

مزید : برطانیہ