جنوبی ایشیا کے لئے مشترکہ خطرہ

جنوبی ایشیا کے لئے مشترکہ خطرہ

  

اقوام متحدہ نے ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں اِس وقت بھی ساڑھے چھ ہزار کے قریب پاکستانی دہشت گرد موجود ہیں۔یہ افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانوں میں پناہ لیتے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ان میں کالعدم تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کے کارندے شامل ہیں۔ اس ہی رپورٹ میں بھارت میں موجود دہشت گرد عناصر کی موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی ریاستوں کیرالہ اور کرناٹکا میں داعش اور القاعدہ کے دہشت گرد بڑی تعداد میں موجود ہیں، دعویٰ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور میانمار میں ڈیڑھ سے دو سو دہشت گرد موجود ہیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ دہشت گرد اپنے رہنما عاصم عمر کی موت کا بدلہ لینے کے لئے دہشت گردی کی کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔افغانستان میں موجود پاکستانی نژاد غیر ملکی دہشت گرد دونوں ممالک کے لئے خطرہ ہیں۔ ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ کے افغانستان میں لگ بھگ 500جنگجو بدخشاں، قندوز اور تخار میں سرگرم ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں موجود عناصر سے بھارت کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک کو بھی خطرہ ہے،داعش اور القاعدہ نے خود کو مختلف علاقائی برادریوں میں شامل کرا لیا ہے، دونوں تنظیمیں اپنے مددگاروں کے ساتھ پُرتشدد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں،افغانستان میں داعش خراسان کے2200، ارکان ہیں۔ سنٹرل ایشیا کے ایک گروپ کے جنگجو بھی افغانستان کے صوبہ فاریاب میں پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے اسلامک موومنٹ آف ازبکستان میں شمولیت اختیار کر لی ہے، افغانستان میں اس کے140 کارندے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی میں غیر ملکی اور غیر قانونی تنظیمیں ملوث ہیں، افغانستان میں مختلف ناموں سے کام کرنے والی تنظیمیں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے اپنے تربیت یافتہ لوگ پاکستان میں بھیجتی ہیں۔پاکستان کے اندر جو وارداتیں ہوتی ہیں،اُن کے ڈانڈے کسی نہ کسی طرح افغانستان سے مل جاتے ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی جو کارروائیاں ہوتی ہیں ان کے بارے میں بھی پاکستان میں ذمے دار حکام بار بار اس کی نشاندہی بھی کر چکے ہیں کہ تربیت یافتہ دہشت گرد افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں۔افغان حکومت کو ان کارروائیوں میں افغانستان میں مقیم گروہوں کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی متعدد بار فراہم کئے جا چکے ہیں۔آرمی پبلک سکول پشاور اور دوسرے تعلیمی اداروں میں جو دہشت گردی ہوئی اس کی نگرانی بھی افغانستان سے کی جاتی رہی، افغانستان میں جاری ہونے والی موبائل ٹیلی فون سمیں اس کے لئے استعمال ہوئیں۔یہ سب وارداتیں ایسی ہیں جن کے سہولت کار تو مقامی لوگ تھے،لیکن ان کی تمام تر منصوبہ بندی افغانستان میں بیٹھے گروہ کر رہے تھے، جن میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اس وقت کسی نہ کسی طرح فرار ہو گئے، جب سوات اور دوسرے مقامات پر آپریشن ہو رہے تھے۔حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اب اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی پاکستانی موقف کی تائید کی گئی ہے۔ تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ داعش شام اور عراق سے پسپائی کے بعد جنوبی ایشیاء میں ازسر نو منظم ہو رہی ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس امر کی تصدیق ہو گئی کہ یہ بھارت میں بھی سرگرم ہے۔

ان دہشت گردوں کی کارروائیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بھی پاکستان ہے، دوسری جانب بھارت میں کوئی بھی واقعہ ہو جائے بھارت آدھے گھنٹے کے اندرا ندر اس میں پاکستان کا ہاتھ تلاش کر کے میڈیا کے ذریعے الزام تراشی شروع کر دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ سے یہ واضح ہے کہ یہ دہشت گرد خطے کے تمام ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں اور بھارت اور پاکستان دونوں کے خلاف کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ دونوں ممالک محض ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے مل کر دہشت گردوں سے نمٹنے کی حکمت ِ عملی بنائیں۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں متعدد بار یہ عہد کیا گیا کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔پاکستان افغانستان کو بار بار یقین دہانی کرا چکا ہے کہ علاقائی امن کے لئے افغانستان میں امن بہت ضروری ہے اور اسے اتنی ہی اہمیت دیتا ہے جتنی اپنے ہاں قیام امن کو، لیکن افغانستان میں کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف وہاں کوئی کارروائی نہیں ہوتی،افغانستان سے تعلقات معمول پر رکھنے اور اُنہیں بہتر بنانے کی جو بھی کوششیں پاکستان نے کیں اُن کا ویسا مثبت جواب نہیں ملا،جیسا ملنا چاہئے تھا، اب اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اِس امر پر مہر تصدیق ثبت کر دی گئی ہے کہ دہشت گردی کی جو کارروائیاں ہوتی ہیں اس کے لئے کارندے اسی سرزمین پر تربیت پاتے اور پھر روایتی خفیہ راستوں کے ذریعے پاکستان پہنچ جاتے ہیں،سرحد پر باڑ لگانے کا مہنگا منصوبہ بھی اسی لئے شروع کیا گیا تھا تاکہ دہشت گردوں کی آمد روکی جا سکے، قانونی آمدو رفت کو دستاویزی بنانے پر بھی زور دیا گیا، اس کے باوجود افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد نہیں رک سکی تو اس کی وجہ یہی ہے کہ طویل سرحد کے ساتھ ایسے خفیہ راستے موجود ہیں،جہاں سے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے اور کارروائیاں کرنے میں کامیاب رہتے ہیں،اب ضرورت ہے کہ ان راستوں کی بہتر نگرانی کی جائے،اسی مقصد کے لئے افغان حکومت کے تعاون کی بھی ضرورت ہے،دہشت گردی سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -