عدالت عظمیٰ کا خصوصی افراد کو ملازمتیں دینے کا حکم!

عدالت عظمیٰ کا خصوصی افراد کو ملازمتیں دینے کا حکم!

  

چیف جسٹس مسٹر جسٹس گلزار احمد کی صدارت میں عدالت عظمےٰ کے سہ رکنی بنچ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خصوصی افراد(معذور) کی ملازمتوں کے حوالے سے مختص کوٹے پر مکمل عمل درآمد کریں اور ان کو ملازمتیں دیں۔سہ رکنی بنچ نے بیرسٹر کامران شیخ کی وساطت سے دائر درخواست پر فیصلہ دیا جو سات سال بعد ہوا، فیصلہ تحریر کرنے والے فاضل رکن بنچ مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے یہ بھی ہدایت کی کہ ان خصوصی افراد کو ترجیحاً ان کی رہائش کے نزدیک خالی آسامی پر تعینات کیا جائے، یا پھر اسی شہر اور ریجن میں ملازمت دی جائے۔ یہ صائب فیصلہ ہے اور اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کی وجہ یہ تھی کہ خصوصی افراد کے لئے مقررہ کوٹے پر عمل نہیں ہو رہا تھا اور آسامیاں خالی پڑی تھیں۔ اگرچہ ایسے خوش قسمت بھی ہیں جن کو ملازمتیں ملیں اور وہ اپنے فرائض بھی خوش اسلوبی سے ادا کر رہے ہیں، خصوصی افراد کو بھی عام شہری کی طرح بحال کرنے کے لئے رفاہی ادارے بھی قائم ہیں، جہاں ان کو معاشرے میں کارآمد شہری بنانے کے لئے تعلیم اور تربیت دی جاتی ہے۔ ان میں سے اکثر ہنر مند بھی بن جاتے ہیں وفاقی اور صوبائی حکومت نے ان کی بحالی کے پروگرام ہی کے حوالے سے مختلف محکموں میں کوٹہ رکھا ہوا ہے،اس پر عمل نہیں ہوتا،حتیٰ کہ نابینا افراد تو کئی بار مظاہرے بھی کرتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -