کلبھوشن،کشمیر اور انڈیا

کلبھوشن،کشمیر اور انڈیا
کلبھوشن،کشمیر اور انڈیا

  

پاکستان کی حکومت نے رواں برس 20 مئی کو صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے تحت عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق کلبھوشن جادیو کو اپنی سزا کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے۔پاکستان کی وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دی ہے کہ زیر حراست مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادیو کی اپنی سزا کے خلاف نظرثانی اپیل کی پیروی کے لیے وکیل مقرر کیا جائے تاکہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں حکومت اپنی ذمہ داری پوری کر سکے۔ انڈین جاسوس کلبھوشن جادیو کی اپنی سزا کے حوالے سے نظر ثانی اپیل دائر کرنے سے انکار اور انڈین حکومت کا پاکستان کی جانب سے نظر ثانی اپیل کی سہولت کا ابھی تک فائدہ اٹھانے سے گریز کے بعد حکومت نے یہ درخواست دی ہے۔واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے عالمی عدالت انصاف کے احکامات کی روشنی میں پاکستان میں موجود انڈین ہائی کمیشن کے چند سفارت کاروں کی جاسوس و دہشت گرد کلبھوشن جادیو کے ساتھ 15 جولائی کو ملاقات کروانے کا انتظام کیا تھا۔لیکن بھارتی حکام اپنے جاسوس سے ملاقات کی بجائے وہاں سے بھاگ گئے اور اس طرح انڈیا کی اس معاملے میں بدنیتی سامنے آگئی ہے اور وہ یہ قونصلر رسائی ہی نہیں چاہتے تھے۔

انڈین حکام نے اس سے قبل گذشتہ برس ستمبر میں بھی کلبھوشن جادیو سے ملاقات کی تھی جبکہ 2017 میں کلبھوشن کے اہلخانہ بھی ان سے مل چکے ہیں۔مارچ 2016 میں کلبھوشن جادیو کو بلوچستان سے پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے اپریل 2017 ء میں کلبھوشن جادیوکو جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی۔عالمی عدالت انصاف میں بھارت خود یہ کیس لے کر گیا اور اس نے 5 مطالبات کیے تھے جو عالمی عدالت انصاف نے مسترد کردیے گئے۔ بھارتی مطالبہ تھا کہ فوجی عدالت سے کلبھوشن کو ملنے والی سزا کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔فوجی عدالت کی سزا کو ختم کیا جائے۔کلبھوشن کو رہا کیا جائے اور اس کو واپس بھارت بھیجا جائے۔ ان تمام مطالبات پر عالمی عدالت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ بھارتی مطالبہ تھا کہ اگر کلبھوشن کو رہا نہیں کیا جاتا تو فوجی عدالت کی سزا کو ختم کرکے سول کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے۔عالمی عدالت نے انڈیا کی یہ اپیل مسترد کر دی تھی تاہم پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ ملزم کو قونصلر تک رسائی دے اور اس کی سزائے موت پر نظرثانی کرے۔پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر من و عن عمل کرتے ہوئے دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیوں کے مرتکب کلبھوشن جادیو کو جولائی کے اوائل میں قونصلر رسائی کا عندیہ دیا تھا۔

۔مئی 2020 ء میں کلبھوشن جادیو کو 60 روز کے اندر سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی موقع فراہم کیا لیکن بھارتی جاسوس نے اپیل دائر کرنے سے انکار کر دیا۔ کلبھوشن جادیوکے بارے میں پاکستان کا دعوی ہے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس آفسر ہیں، بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا۔ کلبھوشن جادیو کو قانون کے مطابق دفاع کا پورا موقع دیا گیا۔پاکستان ایک عرصے سے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے کا الزام انڈیا پر عائد کرتا رہا ہے۔جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کو پاکستانی خفیہ اداروں نے ایران سے گرفتار کر کے پاکستان پہنچایا تو پھر ابھی تک اتنے سال گزرنے کے باوجود بھارت نے ایران سے احتجاج کیوں نہیں کیا کہ اس کے شہری کو غیر قانونی طور پر ایران سے پاکستان پہنچانے کا انتظام کیسے ہوا۔ بلوچستان میں کیسے یہ انسانیت دشمن بم دھماکوں اور قتل و غارت کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے اجس کا اس نے اپنے اعترافی بیان میں بھی ذکر کیا ہے۔ ایک جانب بھارت دنیا میں سیکولر ہونے اور امن کا دعویدار ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے دوسری جانب اس کے دہشت گرد پاکستان میں تخریب کاری کی وارداتوں میں ملوث پائے جا رہے ہیں،کلبھوشن یادیو اس کی واضح مثال ہے۔

کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے جس پر عالمی برادری کی بے حسی قابل افسوس ہے۔بھارت نے گزشتہ برس اگست میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے مقبوضہ وادی میں کرفیو کا نفاذ ہے اور اس کے علاوہ وہاں مسلسل کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے تا کہ مودی کے ہندواتہ نظریے کو پروان چڑھایا جا سکے۔ کشمیری بہن بھائی اپنے حق خود اداریت کیلئے یکجا ہو کر ان ظالم بھارتی افواج کا مقابلہ کر رہے ہیں اور بندوق اور توپوں کی گولیوں کا جواب لاٹھی اور پتھروں سے دے رہے ہیں جو اس بات کا مظہر ہے کہ آزادی کیلئے کشمیری کسی قسم کی قربانی سے گریز نہیں کریں گے اور پچھلے تیس سالوں میں ہزاروں کشمیری نہ صرف اپنی جان کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں بلکہ عالم اسلام اور اقوام متحدہ کے ضمیر پر تازیانے بھی برسا رہے ہیں کہ کیسے نہتے اورلاچار ہو کر بھی دنیا کی ایک بڑی طاقت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔پاکستان کو اِس وقت کشمیریوں کے معاملے کو دوبارہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کی ضرورت ہے تا کہ دنیا کو کشمیر میں بھارت کے اصلی چہرے سے آگاہ کیا جا سکے اور اس کے علاوہ کشمیریوں کی جدوجہد کے بارے میں عالمی دنیا کو بھی پتہ چلے کہ بھارت سے آزادی مانگنے والے کشمیری مقامی باشندے ہیں اور نسلوں سے کشمیر میں رہ رہے ہیں یہ کوئی غیر ملکی نہیں ہیں، پڑھے لکھے نوجوان بھارت کے ظلم و ستم کی وجہ سے مجبور ہو کر بندوق اٹھانے پر مجبور ہیں۔

برہان وانی اور ریاض نائیکو شہید اس کی واضح مثال ہیں۔ بھارت اگر انہیں بیرونی دہشت گرد یا شدت پسند کہتا ہے تو پھر ابھی تک مقبوضہ وادی کے لوگ کیوں برہان وانی سے اور ریاض نائیکو جیسے شہیدوں کے جنازوں میں لاکھوں کی تعداد میں شریک ہو کر بھارت کے خلاف نعرے لگا تے ہیں۔ آزادی کشمیریوں کا آئینی حق ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں پچھلے ستر سال سے چیخ چیخ کر اپنی بے بسی کا اعلان کر رہی ہیں کہ کیسے ایک ظالم ملک دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کئے ہوئے اور وہاں نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پر حکومت پاکستان کو علامتی مذمتوں سے آگے بڑھتے ہوئے پور ی دنیا میں ایک بار پھر وفود بھیجنے چاہئیں۔

مزید :

رائے -کالم -