ملتان کا مقدمہ ہارنے والے

ملتان کا مقدمہ ہارنے والے
ملتان کا مقدمہ ہارنے والے

  

عجب منظر تھا جب مخدوم صاحب صحافیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے خاموش کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اپنے ہی شہر میں کئی ماہ بعد آئے تو صحافیوں نے آڑے ہاتھوں لیا۔ مخدوم صاحب جو ہمیشہ صحافیوں سے مریدانہ رویے کی توقع رکھتے ہیں، اس بار ا ن کے جارحانہ سوالات پر زچ ہو گئے، معاملہ توتکار تک چلا گیا، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں، جب کہنے کو کچھ نہ ہو اور کہا بھی د لیل کے بغیر جا رہا ہو تو آگے بیٹھے ہوئے جتنا بھی ضبط کر لیں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا کہ ملتان کی بجائے بہاولپور میں جنوبی پنجاب کا سکریٹریٹ کیوں بنایا گیا، یاد رہے کہ صرف دو دن پہلے ایڈیشنل چیف سکریٹری برائے جنوبی پنجاب زاہد اختر زمان بہاولپور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دو ٹوک یہ اعلان کر چکے تھے کہ جنوبی پنجاب سکریٹریٹ صرف بہاولپور میں قائم کیا گیا ہے، ملتان اور ڈیرہ غازیخان میں کیمپ آفس ہوں گے جہاں وہ ہفتے میں ایک ایک دن جائیں گے۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے آفیشل فیس بک پیج پر بھی بہاولپور میں جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کے قیام کی تصویر لگائی گئی، ملتان کا کہیں ذکر تک نہ کیا گیا۔ اب یہ ایسی حقیقت ہے کہ جسے مخدوم صاحب کو تسلیم کر لینا چاہئے تھا اور اہل ملتان سے معذرت کرنی چاہئے تھی کہ وہ باوجود کوشش کے ملتان میں سکریٹریٹ نہیں بنوا سکے۔ مگر اس کی بجائے انہوں نے اپنی لفاظی اور شعبدہ بازی کے ذریعے اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جس پر صحافیوں نے تابڑ توڑ سوالات کئے تو مخدوم صاحب کو جلال آ گیا۔

مخدوم شاہ محمود قریشی جو ملتان کو اب اپنی گدی سمجھتے ہیں، یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک صحیفہ سمجھ کر تسلیم کی جائیں، ان میں مخدوم جاوید ہاشمی جیسا صبر و استقامت تو ہے نہیں کہ تند و تیز سوالات کو برداشت کر سکیں، وہ تو بس جی حضوری چاہتے ہیں جس طرح ان کے مریدین ان کے سامنے اختیار کرتے ہیں، انہیں کیا معلوم کہ جہاں سے سیاست شروع ہوتی ہے، وہاں پر روحانی گدی کے تمام التزامات ختم ہو جاتے ہیں گدی نشینی کی بنیاد پر سیاست کرنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی کی مخالفت برداشت نہیں کر سکتے وہ ہر ایک کو اپنا مرید سمجھتے ہیں جو جوتیاں اتار کے حاضری دیتا ہے اور نذر نیاز بھی پیش کرتا ہے۔ ملتان کو جاگیر سمجھنے والے مخدوم صاحب اسے اس کا حق نہیں دلا سکے۔ ظاہر ہے اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے وہ اب کمزور دلیلیں پیش کر رہے ہیں جب سامنے والا ان کی دلیلوں سے قائل نہیں ہوتا تو وہ طیش میں آ جاتے ہیں، مخدوم صاحب کو کون سمجھائے کہ اب دولے شاہ کے چوہوں کا زمانہ نہیں رہا، اب ہر چیز عوام کے سامنے ہے آپ جھوٹ کی ملمع کاری کر کے حقائق کو جھٹلا نہیں سکتے۔ اب ان کی اس دلیل کو مضحکہ خیز نہ قرار دیا جائے تو اور کیا ہو کہ جب جنوبی پنجاب کی اسمبلی قائم ہو گی تو اپنے دارالحکومت کا فیصلہ خود کرے گی۔ سبحان اللہ کیا منطق ہے، یعنی صوبہ بغیر دارالحکومت کے بن جائے گا، اس کے انتخابات بھی ہو جائیں گے لیکن دارالحکومت کا فیصلہ اسمبلی کرے گی۔ اسے کہتے ہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا، نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ بات آج کی ہو رہی ہے اور مخدوم صاحب اگلی صدی پر ٹال رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کی تین جگہ تقسیم سے عوام کو ریلیف کیسے ملے گا، اُن کے کام کیسے ہوں گے؟ تو انہوں نے ایک سائنسدان کے طور پر جواب دیا کہ اب انفرمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے، پیپرلیس نظام کے تحت کام ہو رہا ہے، اس لئے سکریٹریٹ چاہے ملتان میں ہو یا بہالوپور میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مخدوم صاحب پھر یہ سارا سیاپا کس لئے ہے، لاہور سکریٹریٹ سے ہی انٹرنیٹ کے ذریعے ایسا نظام چلایا جا سکتا تھا۔ یہ طفل تسلیاں کسے دی جا رہی ہیں عوام تو پہلے ہی اس نظام کے ہاتھوں نکونک ہو چکے ہیں اب یہ نئی کہانیاں سنا کر انہیں مزید بے وقوف کیوں بنایا جا رہا ہے۔ آج یہ حال ہے کہ ملتان کا کوئی پرستانِ حال نہیں، جرائم بڑھ گئے ہیں، دفاتر میں رشوت عام ہے، کسی افسر کو احتساب کا کوئی ڈر نہیں کیونکہ مخدوم صاحب کا سایہ ان کے سروں پر سلامت ہے اصل میں شاہ محمود قریشی کی دیرینہ خواہش تو یہ تھی کہ انہیں پنجاب کی چیف منسٹری مل جائے، یہ خواہش پیپلزپارٹی اور اس سے پہلے مسلم لیگ ن کے دور سے ان کے دل میں مچل رہی ہے لیکن شومئی قسمت کہ ہر بار کسی نہ کسی چیز کی کمی رہ جاتی ہے۔

بالکل ملا نصیر الدین کی طرح، جنہیں حلوہ کھانے کا بہت شوق تھا، لیکن خواہش پوری نہیں ہوتی تھی، کسی نے پوچھا ملا آخر ماجرا کیا ہے، تو انہوں نے کہا کبھی چینی ہوتی ہے تو سوجی اور گھی نہیں ہوتے، سوجی اور گھی ہوں تو چینی نہیں ہوتی، اتفاق سے اگر یہ تینوں مل جائیں تو میں نہیں ہوتا۔ مخدوم صاحب کے ساتھ بھی اس بار یہی ہوا۔ حالات بہت ساز گار تھے، کپتان سے بھی اچھے تعلقات اور وزارتِ اعلیٰ کے لئے زمین بھی ہموار تھی کہ درمیان میں سلمان نعیم آ گیا، جس نے انہیں صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست دیدی یوں مخدوم صاحب کے خواب چکنا چور ہو گئے، لیکن انہوں نے نکا وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش اس طرح پوری کی کہ ملتان کا سارا نظام سنبھال لیا، عثمان بزدار سے کہہ دیا کہ ملتان اب میری گدی ہے، اس کے معاملات میں دخل نہ دیا جائے۔

جب کوئی ایک جگہ کا مدارالہمام بن کر بیٹھ جائے تو اسے ساری ذمہ داری بھی اٹھانی چاہئے، ملتان میں تمام ارکانِ اسمبلی شاہ محمود قریشی کا دم بھرتے ہیں، سوائے ایک ایم این اے احمد حسین ڈیہڑ کے، جنہوں نے آواز اٹھاتی تو گویا ایک بھونچال آ گیا۔ مخدوم صاحب نے اسلام آباد بیٹھ کر ملتان کے ارکانِ اسمبلی کو حکم دیا کہ سب مل کر احمد حسین ڈیہڑ کے خلاف پریس کانفرنس کریں پریس کانفرنس تو ہوئی مگر اس سوال کا کسی کے پاس جواب نہیں تھا کہ ملتان کی بجائے بہاولپور میں سکریٹریٹ کیوں قائم ہوا۔ مختلف کہانیاں سنائی گئیں، ایک جعلی نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا، لیکن ایڈیشنل چیف سکریٹری کی پریس کانفرنس نے سارا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی اب ا ور کتنا اسلام آباد میں بیٹھے رہتے۔ وہ ملتان آئے اور حسبِ روایت مخدومی لہجے میں صحافیوں کو قائل کرنے کی کوشش کی مگر معاملہ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا، والا رہا۔ اب ملتان کے صحافیوں نے علیحدہ سکریٹریٹ کا مقدمہ خود لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ تحریک بھی چلائیں گے اور ملتان کا سودا کرنے والوں کا احتساب بھی کریں گے، کیا اب ان کے خلاف بھی مخدوم صاحب طیش میں آئیں گے۔؟

مزید :

رائے -کالم -