آن لائن ایپلی کیشنز: فوائد اور نقصانات

آن لائن ایپلی کیشنز: فوائد اور نقصانات
آن لائن ایپلی کیشنز: فوائد اور نقصانات

  

میرا ایک نواسہ کلاس فائیو کا سٹوڈنٹ ہے اور ایک نواسی کلاس فور کی طالبہ ہے۔دونوں لاہور گرائمر سکول میں پڑھتے ہیں جس کی ایک برانچ کا سیکنڈل گزشتہ دنوں وائرل ہو گیا تھا۔ جو اساتذہ اس میں ملوث تھے ان کو سیک کر دیا گیا تھا۔ لیکن اگر تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے تو کسی میڈیا پر یہ خبر نہیں دی گئی کہ اس گھناؤنے کھیل میں ملوث طالبات کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ اس کے بعد گویا چُپ چُپاں سی ہو گئی جو ابھی تک جاری ہے۔لاہور گرائمر سکول کی شہرت کو خاصا نقصان پہنچا اور میں بھی سوچ رہا ہوں کہ اگر ٹاپ کلاس انگلش میڈیم تدریسی اداروں کا یہ حال ہے تو ان کا وجود معاشرے کے لئے مفید ہو گا یا نقصان دہ۔ ان سکولوں میں پڑھنے والی بچیوں کے والدین خاصے پریشان ہیں کہ کیا کریں۔ روٹس، بیکن ہاؤس اور ایل جی ایس وغیرہ کی طرح کے دوسرے تعلیمی ادارے بھی ہیں۔ اگر ایک ادارے کا یہ حال ہے تو باقیوں کے بارے میں قیاس کیا جا سکتا ہے۔ اس پرابلم کا ایک سادہ ساحل یہ بتا دیا گیا کہ او (O) اور اے (A) لیول کی طالبات جن اداروں میں پڑھتی ہیں وہاں مرد اساتذہ کو سٹاف میں نہیں ہونا چاہیے۔ بادی النظر میں یہ حل آسان نظر آتا ہے لیکن کیا یہ اس ’دکھ‘کا واحد علاج ہے؟

پچھلے دنوں جب یہ سیکنڈل منظرِ عام پر آیا تو حسبِ معمول سارے نیوز چینل باجماعت اس موضوع پر ٹاک شوز کرنے لگے۔

میں اس مباحثے میں کسی جانب داری سے کام نہیں لینا چاہتا۔ لیکن ایک سوال جو رہ رہ کر ذہن کے دریچوں کو کھٹکھٹاتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا ہماری بچیوں نے سکولوں اور کالجوں سے فارغ ہو کر فوراً شادی کے بندھنوں میں بند جانا اور گھر گرہستی کو چلانا ہے یا ماڈرن معاشروں کا ساتھ دے کر ایسے اداروں میں انٹر ایکشن کرنا ہے جن میں خواتین اور مرد مل کر کام کرتے ہیں؟پاکستانی معاشرہ جوں جوں آگے کی طرف جا رہا ہے میل اور فی میل ”اجناس“ کا باہمی میل جول ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ چنانچہ ہائی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر مرد و زن کی آئسولیشن اگر ہو بھی جائے تو حصولِ تعلیم کے بعد حصولِ روزگار کی سرگرمیوں میں یہ تفریق ممکن نہیں ہوگی…… تو پھر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟کیا جواں سال طلباء و طالبات کو ایسا گھریلو ماحول فراہم کیا جائے کہ جس میں اخلاقی اقدار کا سکیل وہی ہو جو صحیح معنوں میں پاکستانی مذہبی اور ثقافتی روایات کا پیروکار ہو؟…… یہ سوال بہت ادق ہے اور اس کا جواب آنے والے ایام میں ادق تر ہوتے جانے کا امکان ہے۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج کل مواصلاتی ٹیکنالوجی روبہ عروج ہے۔ سکول کا لیول کوئی بھی ہو ہر طالب علم اور طالبہ کی جیب میں 3انچ بائی 5انچ کا ایک مواصلاتی آلہ موجود ہے۔ اول اول دیہاتوں کے تعلیمی اداروں میں یہ آلہ خال خال دیکھا جاتا تھا لیکن اب خال خال سٹوڈنٹ ایسا ہوگا جو اس سے محروم ہو۔ اب سکولوں میں طلباء اور طالبات کی پاکٹ منی، ٹک شاپس پر کھانے پینے کی اشیاء خریدنے پر صرف نہیں کی جاتی بلکہ موبائل کارڈ خرید کر اسے اپنے موبائل فون میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے کام آتی ہے۔

اس سلسلے میں، قارئین کی توجہ ایک اور پہلو کی طرف بھی مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ گزشتہ دو ماہ سے ایل جی ایس والوں نے آن لائن ٹیچنگ کا اہتمام کر رکھا ہے۔ میرا نواسہ اور نواسی دونوں صبح 8بجے سے لے کر 12بجے تک اپنے سامنے ٹیبلٹ رکھے اور کانوں میں ہیڈفون لگائے آن لائن لیکچر سن رہے ہوتے ہیں۔ واٹس آپ کے طفیل سوال و جواب بھی ایک معمول ہے۔ یہ طریقہ ء تدریس کورونا وائرس سے کئی برس پہلے ترقی یافتہ ممالک میں عام تھا۔ یہ ایک قسم کی وڈیو کانفرنس ہے جو ہفتے میں پانچ روز ٹیچر اور ٹاٹ کے درمیان ایک وقتِ مقررہ پر منعقد ہوتی ہے۔

لیکن یہ سہولت پاکستان کے ہر سکول اور ہر سٹوڈنٹ کو فراہم نہیں۔ انٹرنیٹ، ہیڈفون اور ٹیبلٹ ہر پاکستانی سٹوڈنٹ کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ لیکن چونکہ انگلش میڈیم اداروں میں تعلیم پانے والے بچوں اور بچیوں کا تعلق کھاتے پیتے گھرانوں سے ہوتا ہے اس لئے وہاں یہ مواصلاتی سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ فیس بک، یو ٹیوب اور واٹس آپ اس دور کی تین ایسی جدید مواصلاتی سہولیات ہیں کہ ان سے پاکستان کے کروڑوں افراد استفادہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ مواصلاتی سہولیات آج پاکستان (اور پاکستان جیسے دوسرے ملکوں) میں معرضِ خطر میں ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) ایک وڈیو ایپلی کیشن (Bigo) پر پابندی لگا چکی ہے۔ اور ایک دوسری مقبولِ عام ایپلی کیشن ٹِک ٹوک (Tik Tok) کو آخری نوٹس بھیج چکی ہے کہ وہ مخرّب اخلاق وڈیوز وائرل کرنے سے اجتناب کرے۔ وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس ایپلی کیشن پر اخلاق کُش، واہیات، فحش اور خلافِ تہذیب وڈیو آن ائر کی جاتی ہیں جن سے پاکستان کی نوجوان نسل کا اخلاق تباہ ہو رہا ہے۔آپ کو یاد ہو گا ہماری سپریم کورٹ بھی یوٹیوب پر دکھائے جانے والے کئی ”قابلِ اعتراض“ مناظر اور مواد کا نوٹس لے چکی ہے اور کہہ چکی ہے کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ بعض لوگ یوٹیوب کے ذریعے ”عدلیہ، مسلح افواج اور حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسانے پر کمربستہ ہیں۔ ہم فی الحال برداشت سے کام لے رہے ہیں لیکن اس سلسلے کو ختم ہونا چاہیے“۔

شائد قارئین کو اس گھناؤنے کاروبار کا پوری طرح اندازہ نہ ہو۔ اس ”ٹک ٹوک“ کے ذریعے فحاشی، برہنگی اور کمر عمر لڑکوں اور لڑکیوں کی ایسی وڈیوز وائرل کی جا چکی ہیں کہ جن کو کوئی بھی شریف آدمی دیکھنے کی تاب نہیں لا سکتا۔ سپریم کورٹ کی اس وارننگ کے بعد ”ٹِک ٹوک“ اب تک 37لاکھ سے زیادہ ایسی وڈیوز اس ایپلی کیشن سے ہٹا چکی ہے جو ہماری نوجوان نسل کا اخلاق تباہ کررہی تھیں!

قارئین کو یاد ہو گا 2012ء میں یوٹیوب پاکستان میں بلاک کر دی گئی تھی اور یہ چار سال تک بند رہی تھی۔ اب پھر اس کے لچھن ایسے ہی نظر آ رہے ہیں لیکن حکومت فی الحال تحمل سے کام لے رہی ہے۔

یہ یو ٹیوب، انسٹاگرام، وا ٹس آپ اور فیس بک وغیرہ دو دھاری مواصلاتی تلواریں ہیں۔ مغربی معاشروں میں برہنگی (Nudity)کا مفہوم اور ہے اور پاکستان جیسے معاشرے میں اس جنسی بے راہ روی کا مطلب اور ہے۔ آن لائن ٹیچنگ اور لرننگ کے لئے ہر سٹوڈنٹ کے سامنے ایک ٹیب (Tablet) رکھی ہوتی ہے۔ (یہ مواصلاتی آلہ جس کا طول 10انچ اور عرض 8انچ ہے ایک طرح کا ایک بڑا موبائل فون یا چھوٹا ٹیلی ویژن ہے)

اس کو جب انٹرنیٹ سے منسلک کیا جاتا ہے تو اس پر گوگل کی ہر سائٹ اور ہر وہ ایپلی کیشن آ سکتی ہے جس کو اس پر لوڈ کیا جا سکے…… یہی ایک ایسا خطرہ ہے جو موبائل اور ٹیب کو دو دھاری تلوار بناتا ہے۔ اس سے ٹیچنگ اور لرننگ (Learning) کا کام بھی لیا جا سکتا ہے اور ایسی فحش وڈیوز بھی اَپ لوڈ کی جا سکتی ہیں جو حد درجہ اخلاق کُش ہیں۔

اگر آپ نے خود اس کا تجربہ کرنا ہو تو یوٹیوب سے کسی فلمی گیت کو ڈاؤن لوڈ کیجئے۔ اگلے روز آپ کے موبائل پر کئی فلمی گیت ایسے موجود ہوں گے جو آپ کے اُس ذوق کے مطابق ہوں گے جو پہلے فلمی گیت کے عین ہم معنی ہو گا۔ میں نے کئی بار کسی ایسے معروف فلمی گیت کو ڈاؤن لوڈ کیا جو نورجہاں، محمد رفیع یا لتا نے گایا تھا۔ اگلے روز ان تینوں گلوکاروں کے درجنوں گیت یوٹیوب پر موجود پائے گئے جو میرے ذوق کے عین مطابق تھے…… یہی تجربہ میں نے ایک اور زاویے سے دہرایااور یوٹیوب پر لکھا: Lion mating…… بس پھر کیا تھا۔ شیروں اور شیرنیوں کی جفتی کا ایک میلہ لگ گیا۔ میں نے اگرچہ اسے فوراً Delete کر دیاتاکہ کسی بچے کی نظر اس پر نہ پڑ جائے۔ لیکن اگلے تین چار روز تک اسی طرح کے ”نظر سوز مناظر“ یوٹیوب پر آتے رہے!

اسی طرح اگر آپ کسی قرآنی سورہ کو یوٹیوب سے ڈاؤن لوڈ کریں توکافی دنوں تک کئی قرآنی سورتیں آپ کے موبائل پر نظر آکر آپ کی مذہبی پیاس بجھانے کا سامان کرتی رہیں گی…… اسی لئے تو میں نے عرض کیا ہے کہ آپ کا موبائل (سمارٹ موبائل) اور ٹیبلٹ وغیرہ دو دھاری تلواریں ہیں۔

جب آپ اپنے کسی بیٹے، بیٹی، پوتے، پوتی، نواسے اور نواسی کو ٹیبلٹ خرید کر دیتے اور اس کے لئے آن لائن ٹیچنگ / لرننگ کی سہولت کا اہتمام کرتے ہیں تو یاد رکھئے اس کے نقصانات بھی ہیں۔

تو پھر آخری سوال یہ ہے کہ کیا جائے؟

اس کا سادہ اور سمپل جواب یہ ہے کہ گھر کا ماحول ایسا بنایا جائے کہ جس میں بداخلاقی، کج روی اور فحاشی کی اقدار کی شدید حوصلہ شکنی کی جائے۔ بچہ یا بچی جوں جوں بلوغت کی منزل کی طرف گامزن ہو اس کی نگرانی (Oversight) بڑھا دی جائے اور گھر میں نماز روزے اور تلاوت کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ دوسرے فنونِ لطیفہ مثلاً شاعری، موسیقی، مصوری، سنگ تراشی وغیرہ سے بھی بچوں کو آشنائی دی جائے۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ لکھے پڑھے اور کھاتے پیتے شریف گھرانوں کی خواتین اس کا چارج سنبھال سکتی ہیں …… جس دیوار کی بنیاد ٹیڑھی ہو گی وہ ثریا تک جا کر بھی ٹیڑھی رہے گی اور اگر سیدھی ہو گی تو آسمان کے دوسرے ستاروں تک جا کر بھی سیدھی رہے گی!

مزید :

رائے -کالم -