نصف سے زائد پی ٹی آئی ارکان (ن) لیگ ٹکٹ کی امید وار ہیں: احسن اقبال

  نصف سے زائد پی ٹی آئی ارکان (ن) لیگ ٹکٹ کی امید وار ہیں: احسن اقبال

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ آئین کی حکمرانی اور ملک کو ٹیک آف کی پوزیشن پر لے جانے کیلئے سیاستدانوں، ججز،جرنیلوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو کم از کم دس سالہ ضابطہ اخلاق پر اتفاق کرنا ہوگا،کورونا وائرس کی وباء ختم ہونے کے بعد بھرپور عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا جائے گا، جب بھی پارٹی کو ضرورت ہو گی مریم نواز موبلائزیشن کیلئے اپنا کردار ادا کریں گی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پارٹی قائد محمد نواز شریف کی پلیٹ لیٹس کی صورتحال بہتر ہے، ان کے دل کی سر جری ہونی ہے اور انہیں جب ڈاکٹروں کی جانب سے تاریخ ملے گی توان کا آپریشن ہوگا۔ ڈاکٹروں سے روبصحت ہونے کا سر ٹیفکیٹ ملتے ہی نواز شریف بغیر کسی تاخیر کے وطن واپس پہنچ جائیں گے۔ احسن اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر سے پاکستان تحریک انصاف کے آدھے اراکین اسمبلی ان کی پارٹی سے رابطے میں ہیں تاکہ ان کی جماعت اگلے الیکشن میں انہیں ٹکٹ دے سکے۔ اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کی ٹکٹ جنت کی نہیں، جہنم کی ٹکٹ ہو گی اس لیے وہ سب اس کشتی سے چھلانگ لگانا چاہتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ آدھی تحریک انصاف اب کسی نہ کسی طرح رابطے کرتی ہے کہ ہمارے لیے کوئی جگہ بنائیں اگلے الیکشن میں اگر ہم شامل ہوں، ہمیں ٹکٹ کی گارنٹی دیں لیکن ہم ابھی کسی کو ہاتھ نہیں پکڑا رہے۔انہوں نے کہاکہ اتنی قربانی دینے کے بعد اگر ہم دوبارہ لوٹوں کو پاک صاف کر کے اپنی جماعت میں شامل کریں گے، ان کے سر پر ہاتھ رکھیں گے تو یہ بہت غیرمناسب بات ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) سے رابطہ کرنے والے تحریک انصاف کے رہنما جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا، وسطی پنجاب سمیت پورے ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ آزادی مارچ ہوا تھا تو اس وقت اپوزیشن جماعتوں میں وقت پر اختلاف ہوا تھا تاہم اب اپوزیشن کی تمام جماعتیں وقت کے لحاظ سے متفق ہیں کہ اب اس حکومت کو جلد از جلد رخصت کرنا ہی ملک اور عوام کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہاکہ تمام جماعتیں متفق ہیں کہ ہم اس وقت شدید بحرانی صورتحال سے دوچار ہیں اور کوشش کریں گے کہ اپوزیشن کے مشترکہ دباؤ کے نتیجے میں کوئی ایسی صورت پیدا ہو جس سے ہم انتخابات کی طرف جا سکیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ اگر کورونا نہ آتا تو مجھے یقین تھا کہ بجٹ کے بعد حالات تیزی سے بدلتے اور ہم اس سال ستمبر سے دسمبر کے درمیان انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنا سکتے تھے لیکن جوں ہی ہم کورونا سے نکلیں گے تو مجھے یقین ہے کہ اس سال کے اختتام تک نہیں تو اگلے سال کے شروع میں ضرور کوئی بہتری کے حالات پیدا ہوں گے۔

احسن اقبال

مزید :

صفحہ آخر -