کوروناکے امدادی سامان میں غبن، بے ضابطگیوں پر محکمہ صحت سندھ متحرک

  کوروناکے امدادی سامان میں غبن، بے ضابطگیوں پر محکمہ صحت سندھ متحرک

  

کراچی (این این آئی) صوبائی محکمہ صحت سندھ نے محکمہ صحت کراچی میں انسدادکوروناکے امدادی سامان میں مبینہ غبن،غیر معیاری اشیاکی مقررہ تعداد سے کم سپلائی،سنگین بے ضابطگیوں اور محکمہ کے احکامات پر عمل درآمدنہ کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صحت مافیا کے خلاف ڈنڈا اٹھا لیا،مافیا کے سرغنہ خلیل بھٹو سمیت نیب زدہ افسر ڈاکٹر نصر اللہ میمن لپیٹ میں آگئے،کراچی محکمہ صحت کے اسٹور کیپر شاہنواز باجوہ خود کو بچانے کیلئے متحرک ہو گئے جبکہ محکمہ صحت کراچی کی خالی اسامیوں پر تقرری کے منتظر افسروں کی تعیناتی کے احکامات،وزیر اعلی سندھ اور وزیر صحت کی جانب سے کوروناپی پی ای کی درست خریداری نہ کرنیوالوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے محکمہ صحت کی سفارش پر ڈاکٹر نصر اللہ میمن بی پی ایس19ڈپٹی ڈائریکٹر کریٹوہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کراچی کو محکمہ صحت میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر نصر اللہ میمن کو دیئے گئے دس خلاف قانو ن اضافی چارج مذکور ہ حکم کے مطابق خود بخود ختم ہو گئے۔محکمہ صحت سندھ کے ایک اور نوٹیفکیشن کے مطابق ڈائریکٹر ہیلتھ آفس کراچی میں تعینات بحیثیت اکاوئنٹنٹ افسر بی پی ایس 17خلیل بھٹو کو انکے مذکورہ منصب سے ہٹا کر ان کا تبادلہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس سکھر میں کر دیا گیا ہے جبکہ حکومت سندھ کے ایک اور حکم کے مطابق ڈاکٹر نصر اللہ میمن کو ہٹانے کے بعد خالی ہونیوالی اسامیوں پر ڈاکٹر آفتاب علی جو کھیو بی پی ایس 19 کو 36 بسترو ں پر مشتمل ہسپتال دنبہ گوٹھ ضلع ملیر کا میڈیکل سپریٹنڈنٹ اور دوسرے نوٹیفکیشن میڈیکل سپریٹنڈنٹ اور دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر محمد حسین شیخ بی پی ایس 19کلو 50بستروں پر مشتمل گڈاپ ٹان کے ہسپتال کا میڈیکل سپریٹنڈنٹ مالی اختیارات مقرر کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت

مزید :

صفحہ آخر -