2کروڑ پاکستانی ہیپاٹائٹس سے متاثر، لاکھوں افراد مرض سے بے خبر، سکر یننگ ضروری

      2کروڑ پاکستانی ہیپاٹائٹس سے متاثر، لاکھوں افراد مرض سے بے خبر، سکر یننگ ...

  

لاہور(این این آئی) لاہور جنرل ہسپتال میڈیکل یونٹ ون کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر اسرار الحق طور نے کہا کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی معاشرے میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے جس کے بارے میں لوگوں کی لاپرواہی،عدم معلومات اور پرہیز علاج سے بہتر ہے کے اصول کو نہ اپنانے کی وجہ سے صورتحال کنٹرول سے باہر ہونے لگی ہے جبکہ کالے یرقان کی وجہ سے شرح اموات میں تیزی سے اضافہ لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انجیکشن کی بجائے ہیپاٹائٹس سی کا علاج ادویات سے زیادہ کامیاب ہے اور مضر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کی مناسبت سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام طور پر لوگ شعور و آگاہی نہ ہونے کی بناء پر اپنا بلڈ ٹیسٹ نہیں کرواتے اور ہیپاٹائٹس کے مرض کو ایک سٹگما سمجھتے ہوئے اپنے مرض کو پوشیدہ رکھتے ہیں جو آہستہ آہستہ مہلک صورتحال اختیار کرلیتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہیپاٹائٹس کے مریض کی بر وقت تشخیص اور علاج کو ممکن بنایا جائے۔دریں اثناء میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر اسرار الحق طور نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں تقریبا 2کروڑ افراد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہیں۔انہوں نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ جگر سکڑنے کی صورت میں نیند کی دوائی اور کھانسی کے شربت سے اجتناب برتیں وگرنہ بڑے نقصان میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔پروفیسر اسرار الحق طور نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس اے کی علامات میں بھوک کم لگنا چڑ چڑاپن، تھکاوٹ،آنکھوں و جسم کی رنگت پیلی اور بے چینی ہونا شامل ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حاملہ خواتین میں ہیپاٹائٹس بی کا ٹیسٹ مثبت ہو تو زچگی کے وقت یہ مرض بچوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے لنہوں نے بتایا کہ اگر خدانخواستہ ٹیسٹ مثبت آئے تو بیماری کا بر وقت ابتداء سے ہی علاج شروع کیا جا نا چاہیے بیماری کے لگنے کی وجوہات کا سد باب کرنا بھی ضروری ہے جس کے لئے ڈسپوزل سرنج کا دوبارہ استعمال قطعی طور پر ترک اور مریض کو ہمیشہ سکریننگ شدہ خون لگایا جائے۔انہوں نے کہا کہ آپریشن،دانتوں کے علاج اور حجاموں کے اوزار باقاعدہ طور پر انفیکشن سے پاک ہونا ضرور ی ہیں ڈاکٹراسرار الحق طور نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں۔

ڈاکٹر اسرارا لحق

مزید :

صفحہ آخر -