جامعہ بلوچستان میں خفیہ کیمروں سے نازیباویڈیوز بنانے کا الزام ثابت

جامعہ بلوچستان میں خفیہ کیمروں سے نازیباویڈیوز بنانے کا الزام ثابت

  

کوئٹہ (آئی این پی) ہراسگی اسکینڈل میں جامعہ بلوچستان میں خفیہ کیمروں سے ویڈیوز بنانے کا الزام ثابت ہونے پر سابق وی سی یونیورسٹی کے خلاف جوڈیشل کارروائی کا سفارش کردی گئی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرشفیق الرحمن کی زیرصدارت جامعہ بلوچستان کا 88 واں سینڈیکٹ اجلاس ہوا،اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کی روشنی میں جامعہ بلوچستان میں خفیہ کیمروں سے ویڈیوز بنانے کا الزام ثابت ہوا،جس پر انتظامیہ نے دو ملازمین کو برطرف جبکہ دو کی انکریمنٹ روکنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ سابق وی سی یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید اقبال کے خلاف گورنر بلوچستان سے جوڈیشل کارروائی کا سفارش کی گئی جبکہ سابق وائس چانسلر سے ایوارڈز اور ٹائیٹلزبھی واپس لینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اجلاس کے شرکا کو بتایا گیاکہ مبینہ طور پر 2خفیہ کیمروں سے جامعہ بلوچستان میں خفیہ اور نازیبا ویڈیوز بنائی گئیں،ہراسگی کیس اس وقت بلوچستان ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔

الزام ثابت

مزید :

صفحہ آخر -