کراچی، ڈوب گیا، دوگھنٹے کی بارش سے سڑکیں اور بازار ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے، بیشتر علاقوں میں بجلی غائب،5افراد جاں بحق، آج پھر بارش کا امکان

  کراچی، ڈوب گیا، دوگھنٹے کی بارش سے سڑکیں اور بازار ندی نالوں کا منظر پیش ...

  

 کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) شہر قائد کے متعدد علاقے اتوارکو ہونے والی بارش کے باعث کے پانی میں ڈوب گئے اور بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات اور دیگر حادثات میں دو بچوں سمیت 5 افرادجاں بحق ہوگئے۔کراچی میں مون سون کے تیسرے سپیل کا آغاز اتوارکو گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش سے ہوا۔اتوارکوکراچی میں 2 سے اڑھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی موسلا دھار بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں اور نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے مختلف اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہوگیا جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق بارش کے بعد گلستان جوہر میں سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے بعد مکانات میں داخل ہوگیا، جس کو نکالنے کے لیے عوام اپنی مدد آپ کے تحت کوششوں میں مصروف تھے۔ پولیس اور ریسکیو اداروں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق کراچی میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات اور دیگر حادثات میں دو بچوں سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔ریسکیوذرائع کے مطابق گارڈن فوارہ چوک کے قریب کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا،جس کی شناخت 55 سالہ یوسف کے نام سے کی گئی جن کی لاش کو سول ہسپتال منتقل کردیا گیا۔پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی کے مطابق لانڈھی کے علاقے قذافی ٹاؤن کے گراؤنڈ میں بجلی کی ٹوٹی ہوئی تار سے کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا، جس کی شناخت 22 سالہ عثمان اختر کے نام سے کی گئی۔واقعے میں 18 سالہ اسامہ اقبال شدید زخمی بھی ہوا تھا، لاش اور زخمی کو جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔سٹیل ٹاؤن کے پولیس کے مطابق گلشن حدید فیز ٹو میں طاہر میڈیکل کے قریب کرنٹ لگنے سے 10 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا، متوفی کی شناخت ارباب کے نام سے ہوئی جس کی لاش کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔پاکستان بازار تھانے کے پولیس نے بتایا کہ اورنگی نمبر ساڑھے 11 میں ایک موٹر سائیکل سوار برساتی نالے میں گر گیا، بعد ازاں ریسکیو اداروں نے کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد اس کی لاش برآمد کرلی۔ادھرکورنگی کے علاقے ویٹا چورنگی کے قریب ایک 5 سالہ بچہ ندی میں ڈوب گیا۔کراچی میں سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی، نیو کراچی، ناگن چورنگی، بفر زون، نارتھ ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد، لیاقت آباد، سہراب گوٹھ، گلشنِ اقبال، گلستانِ جوہر، ملیر، شارع فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، صدر، اولڈ سٹی ایریا، اختر کالونی، کشمیر کالونی، ڈیفنس ویو، پی ای سی ایچ ایس سمیت مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش ہوئی ہے۔بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔بارش شروع ہوتے ہی کراچی کے علاقے نارتھ کراچی، سرجانی، بلدیہ، لیاری، ملیرماڈل کالونی، لیاقت آباد، نیو کراچی، نصرت بھٹو کالونی کاٹھورگڈاپ، کیماڑی، ناظم آباد، سائٹ،شاہ فیصل کالونی، سعودآباد، ڈیفنس،پی ای سی ایچ ایس، منظورکالونی اور اخترکالونی میں بجلی غائب ہوگئی۔اسی طرح قیوم آباد، کشمیرکالونی، فرنٹیئرکالونی، ایف بی ایریا، گلستان جوہر، گلشن معمار، گلشن اقبال، بلوچ کالونی، لائنز ایریا، اولڈسٹی ایریا، گرومندر، مارٹن کوارٹرز اور جمشیدروڈ میں بھی بارش کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔بارش کے باعث اسلام آباد سے آنے والی دو پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔ پروازوں کو کراچی ایئرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسلام آباد سے آے والی پرواز 501کو نوابشاہ ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔جبکہ نجی ایئرلائن ایئربلو کی پرواز پی اے201کو واپس اسلام آباد بھجوا دیا گیا ہے۔بجلی معطل ہونے کے حوالے سے ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بارش کے دوران ان چند علاقوں میں بجلی بند کی ہے جو نشیبی ہیں یا پھر وہاں کنڈے لگے ہیں۔ترجمان کیالیکٹرک کا کہنا ہے کہ سڑک پر پانی موجود ہونے کے باعث بجلی کا انفرا اسٹرکچر متاثر ہوتا ہے لہذا حکومتی اداروں سے اپیل ہے کہ نکاسی آب تیزی سے عمل میں لائیں۔ترجمان واٹر بورڈ کے مطابق مینیجنگ ڈائریکٹر واٹر بورڈ خالد شیخ نے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور عملہ برساتی پانی کی نکاس کے لیے تمام تر وسائل بروئیکار لا رہا ہے۔ترجمان کے مطابق ڈی واٹرنگ پمپس نشیبی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔میئر کراچی وسیم اختر نے بارش کے پیش نظر متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ برساتی پانی کی نکاسی فوری نکاسی کو یقینی بنایا جائے۔ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کے زیر انتظام انڈر پاسز پر نظر رکھی جائے، سٹی وارڈنز کو مختلف مقامات پر تعینات کر دیا گیا۔ میئر کراچی نے کہا کہ شہری بجلی کے کھمبو ں اور تنصیبات سے دور رہیں۔علاوہ ازیں صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر واٹر بورڈ میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ مینجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) واٹر بورڈ خالد شیخ نے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردیں۔شہر میں بارش کے آغاز کے ساتھ ہی واٹر بورڈ کے تمام شعبے حرکت میں آگئے، سیورکلینگ مشینیں اور ڈی واٹرنگ پمپس نشیبی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر تعینات کردیا گیا۔ایم ڈی واٹربورڈ خالد محمود شیخ رین ایمرجنسی آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں جبکہ تمام چیف انجینئرز کو فیلڈ میں بھیج دیا گیا۔ایک جاری بیان میں کہا گیا کہ واٹربورڈ کا عملہ برساتی پانی کی نکاس کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لارہا ہے اور واٹربورڈ کا رین ایمرجنسی آپریشن بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔دوسری جانب شہر میں بارش کے ساتھ ہی کمشنر کراچی افتخار شالوانی بھی متحرک ہوگئے اور انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی۔محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کے تیسرے سپیل کے دوسرے روز شہر میں سب سے زیادہ گلستاں جوہر، یونیورسٹی روڈ میں 78.5 ملی میٹر اور سرجانی میں 68.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔اس کے علاوہ جناح ٹرمینل میں 57.6 ملی میٹر، صدر میں 51 ملی میٹر، کیماڑی 48.5 ملی میٹر، نارتھ کراچی میں 47.3 ملی میٹر، فیصل بیس 43 ملی میٹر، کراچی ایم او ایس 41.4 ملی میٹر، ناظم اباد 27.5 ملی میٹر، ماڈل اوزرویٹری 24 ملی میٹر، کلفٹن میں 21.4 ملی میٹر اور پی اے ایف مسرور 18 ملی میٹر جبکہ لانڈھی میں 15 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئیکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا، اتوار کو کوئٹہ، ژوب، لسبیلہ، زیارت، خضدار، قلات، موسیٰ خیل، بارکھان،کوہلو، ہرنائی، نصیر آباد سمیت دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری رہا جس سے ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف ڈیموں میں پانی کی سطح میں بھی اضافہ ہوا تاہم بارشوں سے کسی بھی قسم کے جانی و مالی نقصانات کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، بارش کی وجہ سے صوبے بھر میں جاری گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔دوسری طرف لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی گزشتہ روز شدید بارش ہوئی اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارش کے باعث نالہ لئی میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

بارش

مزید :

صفحہ اول -