معروف مزاحیہ شاعر پر فیسر عنایت علی خا ن ٹونکی 85برس کی عمر میں انتقال کر گئے

  معروف مزاحیہ شاعر پر فیسر عنایت علی خا ن ٹونکی 85برس کی عمر میں انتقال کر گئے

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف مزاحیہ شاعر پروفیسرعنایت علی خاں ٹونکی کراچی میں انتقال کرگئے، ان کی عمر85 برس تھی اور وہ کئی ماہ سے علیل تھے۔برصغیر پاک وہند کے مقبول ترین مزاح نگار اور برجستگی میں اپنی مثال آپ پروفیسر عنایت علی خان کا خاندان ہجرت کرکے حیدرآباد میں آباد ہوا۔پروفیسر عنایت علی خان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ آپ کے والد اور والدہ دونوں ہی ادب اور شاعری کا ذوق رکھتے تھے۔ بلکہ پروفیسر عنایت علی خان کے والد ہدایت اللہ خان ناظر ٹونکی باقاعدہ مزاح نگار تھے۔ پروفیسر عنایت علی خان 1935 میں بھارتی ریاست ٹونک میں پیدا ہوئے،نومبر 1948 میں ہجرت کے بعد حیدرآباد میں سکونت اختیار کی۔ 1962 میں سندھ یونیورسٹی ایم اے کے امتحان میں ٹاپ کیا۔ اردو کی درسی کتب برائے مدارس صوبہ سندھ مقابلہ کی بنیاد پر لکھیں اور چھ کتابوں پر انعام حاصل کیا۔پروفیسر عنایت علی خان کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں، جن میں ازراہِ عنایت، عنایات اور عنایتیں کیا کیا، عنایت نامہ اس کے بعد کلیات عنایت شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ دو کتابیں بچوں کی نظموں اور کہانیوں پر مشتمل ہیں۔پروفیسر عنایت علی خان چالیس سال سے زائد درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ پروفیسرعنایت علی خان کی نظم بول میری مچھلی کئی مزاحیہ قطعات زبان زد عام ہوئے۔ حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا، لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر، یہ مشہور شعر بھی انہی کا ہے۔ان کی شاعری کے موضوعات میں طبقاتی منافرت، سماجی مسائل نمایاں رہے۔ وہ ہلکے پھلکے طنز و مزاح کی صورت میں سماج و معاشرے کے سنجیدہ اور دکھتے ہوئے مسائل کو اجاگر کرتے تھے۔ طنزومزاح کی تاریخ میں آپ کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔پروفیسرعنایت علی خان کی نمازجنازہ بعد نماز ظہر مسجد کائنات عائشہ ماڈل کالونی میں ادا کی گئی،نمازجنازہ میں ادب سے وابستہ افراد، مرحوم کے عزیزواقارب، جماعت اسلامی کے کارکنان اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔بعد میں انہیں جناح ٹرمینل قبرستان میں سپردخاک کردیاگیا۔دریں اثناء وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پروفیسر عنایت علی خان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیاہے،وزیر سندھ نے دعاکی کہ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔

پروفیسرعنایت علی خاں

مزید :

صفحہ اول -