کوھاٹ شہر میں صفائی کے مسائل میں اضافہ ہونے لگا

کوھاٹ شہر میں صفائی کے مسائل میں اضافہ ہونے لگا

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوھاٹ شہر میں صفائی کے مسائل میں اضافہ ہونے لگا سٹاف کی کمی اور کھٹارہ گاڑی کی وجہ سے شہر کے متعدد علاقوں میں صفائی کے لیے سٹاف سرے سے موجود نہیں‘ اعلیٰ افسران کے لیے کوھاٹ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی بن گیا تفصیلات کے مطابق سا بقہ صوبائی حکومت نے ٹی ایم اے کوھاٹ کی کارکردگی پر عدم اعتماد کرتے ہوئے صفائی اور پانی فراہم کرنے کی ذمہ داری ایک کمپنی کے حوالے کی اور اس پر فنڈز کی بارش کر دی تاکہ کوھاٹ کے شہری علاقے اور کے ڈی اے کو ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکے مگر افسوس کہ پرانی شراب کو نئی بوتل میں ڈالنے کا ادارہ یہاں پر سچ ثابت ہوا یعنی تمام عملہ صفائی اور واٹر سپلائی سٹاف اس کمپنی کے حوالے کر دیا گیا جس نے ابتدائی ایام سے لے کر آج تک اپنے لیول تک عوام کو مایوس نہیں کیا جس کا تمام سہرہ چیف سینیٹری انسپکٹر اور اس کے سپروائزر کو جاتا ہے جو سٹاف سے دوگنا کام لے رہے ہیں مگر افسوس کمپنی کے افسران نے اپنے آرام اور آرائش کے لیے تو تمام لوازمات مکمل کر لیے مگر عملہ صفائی میں اور گند اٹھانے والی گاڑیوں میں کوئی اضافہ نہ ہو سکا آج بھی کے ڈی اے کے مختلف سیکٹرز میں صفائی کا نام و نشان نہیں کیوں کہ ہزاروں کی آبادی اور سینکڑوں گلیوں اور مین شاہراہوں کی صفائی کے لیے ڈیڑھ درجن عملہ صفائی ہے اور ایک دو کھٹارہ گاڑیاں اسی طرح اربن2 میں رحمان میڈیکل سنٹر سے پشاور اڈہ تک‘ ریگی شینو خیل‘ اور پھر ھنگو پھاٹک سے بائی پاس روڈ سے لے کر میاں گان کالونی تک جہاں حافظ آباد‘ منیٰ ا‘ٓباد‘ علی ٹاؤن‘ کالو بانڈہ‘ پہلوان بانڈہ اور دیگر علاقے شامل ہیں وہاں عملہ صفائی کا نام و نشان نہیں اس کے علاوہ جنگل خیل میں عملے کی کمی کی وجہ سے صفائی کی صورت حال تسلی بخش نہیں اربن5 اور 6 کے مختلف علاقوں میں صفائی کا عملہ سرے سے موجود نہیں جس سے صفائی کی صورت حال میں بہتری ممکن نہیں سونے پر سہاگہ کوھاٹ میں میں صفائی کا ٹھیکہ ڈبلیو ایس ایس سی کو ملا تو اس نے گند اٹھانے کے لیے ٹھیکہ آگے کسی کمپنی کو دے دیا جس کی چند گاڑیوں سے کوھاٹ کی صفائی ممکن نہیں مگر کمپنی کے اعلیٰ افسران جن کی ہفتے میں پانچ دن ڈیوٹی ہوتی ہے اس میں سے بھی اکثر اوقات کئی کی دن میٹنگز کے نام پر افسران اپنے گھروں میں رہتے ہیں جن سے نہ ایم این اے اور نہ ایم پی اے پوچھنے کی ہمت کر سکتا ہے کیوں کہ ممبران اسمبلی ہوں یا سرکاری افسران ان کی خدمت بہرحال کمپنی نہایت ایمانداری سے کر رہی ہے جس کی وجہ سے تمام افسران اور منتخب ممبران کمپنی کی کاکرردگی سے مطمئن ہیں شہریوں نے صوبائی مشیر ضیاء اللہ بنگش‘ وفاقی وزیر شہریار آفریدی‘ سیکرٹری بلدیات کامران بنگش اور ڈپٹی کمشنر کوھاٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈبلیو ایس ایس سی میں عملہ صفائی کی تعداد میں اضافہ کریں بے شک کمپنی میں کام کرنے والے چند ایک کام کرنے والے افسران کے باقیوں کو گھر بھیج دیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -