مولانا میرزاقیم کی گرفتاری کیخلاف ہزاروں مظاہرین کا طویل ترین احتجاج

  مولانا میرزاقیم کی گرفتاری کیخلاف ہزاروں مظاہرین کا طویل ترین احتجاج

  

کرک (بیورورپورٹ) کرک میں بجلی کی فیڈر ٹو سے منتقلی اور خٹک اتحاد کے صدر مولانا میرزاقیم کی گرفتاری کیخلاف ہزاروں مظاہرین کا طویل ترین احتجاج، انڈس ہائی وے 14گھنٹوں تک بند، ضلعی انتظامیہ اور پیسکو کے مقامی حکام کی دوڑیں لگ گئیں، مرکزی شاہراہ کی بندش سے ہر سو گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں،مذاکرات کا دوسرا مرحلہ معروف عالم دین مولانا عبد الغفور کی مداخلت سے کامیاب، بجلی بحال، پیسکو اور مظاہرین کے مابین چند روز قبل طے شدہ معاہدہ پر عمل درآمد کیلئے منگل کے روز دوبارہ مذاکرات ہونگے۔تفصیلات کے مطابق کرک شہر کے علاقوں الگڈی شرقی، کرکسر اور کچ بانڈہ کے صارفین کو سٹی ٹو فیڈر سے منتقلی کیخلاف جاری احتجاج ہفتے کی شام اچانک اس وقت شدت اختیارکرگیا جب احتجاجی تحریک کے سربراہ خٹک اتحاد کے صدر مولانا میر زاقیم کو کرک پولیس نے گرفتار کیا، گرفتاری کی خبر شہری علاقو ں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور مقامی مساجد میں اعلانات کے فوراً بعد الگڈی شرقی، کرکسر اور کچ بانڈہ کے ہزاروں عوام سڑکوں پر نکل آئے بعد ازاں شہر کے دیگر مضافاتی علاقوں کندہ کرک، تپی کندہ، دبلی لواغر، شگئی لواغرو دیگر محلوں کے عوام نے بھی مظاہرین کا ساتھ دیا اور منگل کی رات دس بجے انڈس ہائی وے کو تنگوڑی سر چوک کے مقام پر ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا،رات گئے تک شہر و ضلع بھر کے سیاسی قیادت بھی اکٹھا ہوگئی اور سابق چیئرمین نور احمد خان، کندہ اتحاد کے چیئرمین قاری بد رالاسلام کی سربراہی میں ہزاروں مظاہرین نے تقریباً 14گھنٹوں تک مرکز ی شاہراہ کو بند رکھا اور مطالبات منوانے کیلئے ڈٹے رہے اتوار کی صبح اسسٹنٹ کمشنر کرک عبد الصمد نظامانی اور ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر اسماعیل مرو ت نے رابطہ کرکے مظاہرین نے مذاکرات کیئے جس میں پیسکو کے مقامی حکام بھی موجود تھے مذاکرات کا پہلا مرحلہ ناکامی سے دوچار ہوا جبکہ معروف عالم دین مولانا عبد الغفور کی مداخلت پر مظاہرین اور انتظامیہ کے مابین ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور کامیاب ہوا جس کے مطابق جملہ علاقوں کی بجلی سٹی ٹو فیڈر پر منتقل کر دی گئی تاہم مولانا میر زاقیم کی رہائی کا مطالبہ پورا نہ ہوسکا، مولانا میر زاقیم کو آج عدالت میں پیش کیا جا ئیگا جبکہ ان کی رہائی کے بعد منگل کے روز مظاہرین اور پیسکو انتظامیہ کے مابین چند روز قبل طے ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کیلئے دوبارہ مذاکرات ہونگے، مذاکرات کی کامیابی پر دن تقریباً ساڑھے بارہ بجے مظاہرین نے انڈس ہائی وے جاری احتجاج ختم کیا اور پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -