علماء کیلئے پالیسیاں بنائی جائیں تو بہتر نتائج ہو سکتے ہیں: ڈاکٹر نو ر الحق قادری

علماء کیلئے پالیسیاں بنائی جائیں تو بہتر نتائج ہو سکتے ہیں: ڈاکٹر نو ر الحق ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا کہ علمائاور حکمران اگر صلح کی کوشش کریں تو سب کچھ ٹیک ہو سکتا ہے جبکہ علماء کیلئے پالیسیاں بنائی جائے تو بہتر نتائج ہوسکتے ہیں اور علماء سے مشاورت لینے سے مسائل حل ہو جائیں گے،علماء کرام نے کورونا وباء کے دنوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کر کے اپنا کردار ادا کیا جبکہ عید کے دنوں میں بھی ایس او پیز کا خاص خیال رکھے۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے متحدہ شریعت محاذ پاکستان کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں اتحاد امت کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر اپنے خطاب میں جس میں مختلف مسالک کے علماء کرام روح اللہ مدنی،پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور، عابد حسین شاکری،مولانا صاحبزادہ جنید مانکی شریف اور مقصو سلفی سمیت دیگر علمائے کرام نے کثیر تعداد مین شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیربرائے مذہبی امورپیر ڈاکٹرنورالحق قادری نے کہا کہ حکومت اور علماء کے درمیان ایک رابطہ قائم رہنا چاہئے،چالیس سال اس ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، لسانیت اور قومیتوں کے نام پر قومیتوں کو آپس میں لڑانے کی کوششیں کی گئی جبکہ ملک قائم ہے اور تر قیامت قائم رہے گا،علماء کرام سے گزارش ہے عید کے دنوں میں ایس او پیز کا خصوصی خیال رکھے، نور الحق قادری نے کہا کہ روز اول سے وزیر اعظم عمران نے جو پالیسی دی ہے وہ واضح ہے، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مسجدیں بند نہیں ہوئی نور الحق قادری نے کہا کہ 90 کی دہائی میں علما کرام نے فرقہ واریت کو مشترکہ کوششوں کے ذریعے ناکام بنایا، نور الحق قادری علماکرام فرقہ واریت سے مکمل اجتناب کا اظہار کریاتحاد امت کانفرس سے دیگر علماء نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنے صفوں میں اتحاد پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے، شرکاء نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا علمائے کرام کی اتفاق سے ممکن ہوا جبکہ کورونا کے حوالے پورے ملک کے علمائنے ایس او پیز پر اتفاق کیا، مستقبل میں بھی اتفاق و اتحاد سے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے علمائے کرام نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام میں انتشار اور آپس میں دوریاں ہے، مسالک کے درمیان مشترکات بہت زیادہ ہے تاہم مسالک کے درمیان بعض لوگ غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے ہیں، ان کی مخالفت کی جائے، افہام و تفہیم کے ذریعے تمام مسائل کو حل کیا جائے،عابد حسین شاکری پشاور: ملک کے موجودہ حالات مسالک کے مابین اختلافات کا متحمل نہیں ہو سکتا جبکہ کسی مبلغ یا خطیب کی غیر ذمہ دارانہ بیان کو پورا مسلک نہ سمجھا جائے اور جو لوگ ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں ان کو منہ کی کھانی پڑے گی۔

مزید :

صفحہ اول -