کیا واقعی یورپی ملک پولینڈ نے گھریلو تشدد کو جائز قرار دے دیا ہے؟

کیا واقعی یورپی ملک پولینڈ نے گھریلو تشدد کو جائز قرار دے دیا ہے؟
کیا واقعی یورپی ملک پولینڈ نے گھریلو تشدد کو جائز قرار دے دیا ہے؟

  

وارسا(ڈیلی پاکستان آن لائن) یورپی ملک پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہزاروں افراد حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ۔ لوگوں کا الزام ہے کہ حکومت گھریلو تشدد  کو جائز قرار دے رہی ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق مظاہروں کی وجہ حکومت کااعلان ہے جس میں اس نے استنبول کنونشن نامی معاہدے سے دستبردار ہونے کافیصلہ سنایا ہے۔ یہ معاہدہ خواتین پر تشدد اور گھریلو تشدد کو روکنے سے متعلق ہے۔

پولینڈ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ آئندے ہفتے تک اس معاہدے سے دستبرداری کا لائحہ عمل تیار کرلے گی۔

پولینڈ کے وزیر انصاف زگنیو زیبرو نے اعلان کیا کہ حکومت نے خاندانی امور، وزارت لیبر اور سوشل پالیسی کو ہدایت کردی ہے کہ وہ مذکورہ معاہدے سے دستبرداری کا لائحہ عمل تیار کریں۔

پولینڈ کی حکومت نے استنبول کنوینشن نامی انسانی حقوق اور خواتین و بچوں پر تشدد روکنے کے اس معاہدے پر 2011 میں دستخط کیے تھے۔

استنبول کنونشن نامی معاہدہ یورپی  ممالک کے درمیان ہوا تھا، جس کا مقصد تمام ممالک میں صنفی تفریق کے خاتمے سے متعلق تعلیم دینے اور خواتین و بچوں کےخلاف گھریلو تشدد کی روک تھام تھی۔

 

دائیں بازو کی پولینڈ حکومت  مسیحی اورمذہبی ہونے کی وجہ سے مذکورہ معاہدے کو والدین اور خاندان کے خلاف قرار دیتی ہے۔

پولینڈ کی حالیہ حکمران جماعت نے انتخابی مہم میں ہی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ خاندانی نظام کو بحال کرے گی اور اب حکومت نے استنبول کنونشن کو والدین کے حقوق اور خاندانی نظام کے خلاف قرار دے کر اس سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا۔

مزید :

بین الاقوامی -