"افغانستان میں اس وقت کسی پاکستانی کی آواز سنی جاتی ہے تو وہ جنرل باجوہ ہیں، پشتون تحفظ موومنٹ کو غدار نہ کہا جائے بلکہ منظور پشتین کو۔۔۔ " میجر (ر) عامر کھل کر بول پڑے

"افغانستان میں اس وقت کسی پاکستانی کی آواز سنی جاتی ہے تو وہ جنرل باجوہ ہیں، ...

  

کراچی (ویب ڈیسک)میجر (ر) محمد عامر نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل باجوہ افغانستان پر بہت مخلص ہیں، افغانستان میں اس وقت کسی پاکستانی کی آواز سنی جاتی ہے تو وہ جنرل باجوہ ہیں، جنرل باجوہ نے افغان امن مذاکرات کیلئے بڑی سہولت کاری کی،پختونوں کو ریاست پاکستان کیخلاف ہتھیار نہیں اٹھانا چاہئے تھے،پی ٹی ایم سیاسی جماعت ہے اسے وطن دشمن یا غدار نہ کہا جائے ، محسن داوڑ، منظور پشتین اور علی وزیر کو گلے لگایا جائے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق نہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف سیکیورٹی رسک تھے نہ ہی عمران خان سیکیورٹی رسک ہیں ٹیم میں کچھ لوگ گھسادیئے جاتے ہیں، عمران خان کی خواہش پر اپنے گھر میں ان کی اور چوہدری نثار کی ملاقات کروائی تھی، عمران خان نے چوہدری نثار کو بہت باعزت طریقے سے بہت کچھ پیشکش کی، چوہدری نثار کا خیا ل تھا وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تو اس اسٹیج پر بیٹھنا پڑے گا جہاں نواز شریف کو برا بھلا کہا جائے گا اور وہ خود کو اتنا چھوٹا نہیں دیکھنا چاہتے، نواز شریف اور چوہدری نثار میں دوبارہ صلح کا امکان نہیں ہے۔حکومت پر کلبھوشن کو این آر او دینے کے غلط الزامات لگائے جارہے تھے، نائن الیون کے بعد امریکا سے پارٹنرشپ بدترین اور نچلے درجے کی نوکری تھی، میر شکیل الرحمٰن جیسے لوگوں کو پکڑنا نیب اور پاکستان کے ساتھ ظلم ہے۔میر شکیل الرحمٰن کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے یہ اداروں اور پاکستان کا نقصان ہے، میر شکیل الرحمٰن کے کیس کو ایک عام آدمی بھی درست نہیں مانتا ،جنرل باجوہ، جنرل فیض، عمران خان، سلیم شہزاد، جسٹس (ر) جاوید اقبال سب نے اپنی والدہ کی خدمت کی، میر شکیل الرحمٰن کی والدہ بھی 90سال سے زائد عمر کی ہیں،کچھ عرصہ میں ان کے بیٹے اور ایک بیٹی کی موت ہوگئی ، وہ کہتی ہیں میرا جو بھی اسپتال گیا وہ واپس نہیں آیا، وہ اسپتال نہیں جانا چاہتیں کہ میر شکیل کو دیکھنا چاہتی ہوں، کیا میر شکیل الرحمٰن کو یہ حق نہیں کہ جس طرح سب نے اپنی والدہ کی خدمت کی وہ بھی خدمت کریں۔

جیو کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے میجر (ر) محمد عامر نے کہا کہ میں نے انٹیلی جنس میں بڑا کام کیا اس لئے وہ میری پہچان بن گئی،آئی ایس آئی میں جانے کی خبر سن کر پہلے مجھے بخار ہوگیا تھا، بھارتی فوج ڈھاکا میں داخل ہونے کی خبر سن کر بہت رویا تھا، روس کی ہمارے ساتھ دشمنی میں گناہ گار ہم تھے، ہم نے ہی بڈابیر میں امریکا کو اڈا دیا جہاں سے یوٹو طیارہ اڑا۔روس نے پاکستان توڑا تھا جب وہ افغانستان آیا تو جذبہ انتقام جاگ اٹھا، جنرل نگار کو پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل بننے کا اعزاز ملنے پر خاندان فخر محسوس کرتا ہے، تمام دکھوں اور حادثوں کے باوجود نگار نے حوصلہ نہیں ہارا، جنرل نگار دنیا کی پہلی خاتون ہے جو ٹروپس کمانڈ کررہی ہے وہ میڈیکل کور کی کور کمانڈر سرجن ہے۔

میجر (ر) عامر کا کہنا تھا کہ کون کہتا ہے ہم روس کو نہ چھیڑتے تو پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوتیں، ہم روس کو نہ چھیڑتے تو آج میرا نام عامروف ہوتا، انڈیا نے ہمیشہ افغانستان کو ہمارے خلاف استعمال کیا ہے،افغانستان میں جس سربراہ نے پاکستان سے اچھے تعلقات چاہے اسے مار دیا گیا۔روس کیخلاف افغانستان میں جنگ افغانوں کی آزادی اور ہماری سالمیت کی جنگ تھی، نائن الیون کے بعد امریکا سے پارٹنرشپ بدترین اور نچلے درجے کی نوکری تھی، اس پارٹنرشپ نے پاکستان اور افغانستان کو تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ میجر (ر) عامر نے کہا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ افغانستان پر بہت مخلص ہیں، افغانستان میں اس وقت کسی پاکستانی کی آواز سنی جاتی ہے تو وہ جنرل باجوہ ہیں، اشرف غنی نے جنرل باجوہ کو افغانستان میں مثالی پروٹوکول دیا۔

ان کا کہناتھا کہ جنرل باجوہ کے دورے کے اثرات زائل کرنے کیلئے ااجیت ڈودل فوراً وہاں پہنچا، جنرل باجوہ نے افغان امن مذاکرات کیلئے بڑی سہولت کاری کی،انڈیا افغانستان میں بیٹھ کر امن مذاکرات کو نقصان پہنچارہا ہے، افغانستان کے میڈیا پر پاکستان کے خلاف بہت کام کیا گیا، پاکستان نے افغانستان میں کوئی کارگزاری نہیں دکھائی، ایسے سفیروں کو افغانستان بھیجا گیا جنہیں پشتو نہیں آتی تھی، محمد صادق کو دوبارہ افغانستان میں تعینات کرنا موجودہ حکومت کا اچھا فیصلہ ہے۔

میجر (ر) عامر کا کہنا تھا کہ حامد کرزئی نے صدر اوباما کو تصویر دکھا کر کہا کہ امریکی فوج اس لئے نہیں بلائی تھی کہ افغانستان میں اسپتالوں اور شادیوں پر بمباری کر کے بچوں کو مارتے رہیں، پاکستان نے کبھی افغان طالبان کیخلاف ایکشن نہیں لیا آج وہی پاکستان کے پاس ٹرمپ کارڈ تھا، ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کو ساتھ بٹھانے کیلئے کہا تو پاکستان نے بٹھادیا۔

میجر (ر) عامر نے کہا کہ اس حوالے سے جنرل مشرف اور جنرل راحیل شریف کے ادوار اچھے نہیں تھے، 2007ءمیں مولانا فضل اللہ کو قائل کرلیا تھا کہ ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانا خود اس کی تباہی ہے، جنرل مشرف نے منع کردیا کہ میجر عامر کو بیچ میں نہیں ڈالنا اس لئے معاملہ آگے نہیں بڑھا، وزیرستان آپریشن شروع ہوا تو زندگی خطرے میں ڈال کر وہاں گیا مگر مذاکرات آگے نہیں چلنے دیئے گئے، پختونوں کو ریاست پاکستان کیخلاف ہتھیار نہیں اٹھانا چاہئے تھے۔

میجر (ر) عامر کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کے دور میں بمباری نہیں ہوئی چیک پوسٹیں ختم ہوئیں، جنرل باجوہ کے دور میں میران شاہ تعمیر ہوا اور آئی ڈی پیز کا خیال رکھا گیا، پی ٹی ایم سیاسی جماعت ہے اسے وطن دشمن یا غدار نہ کہا جائے محسن داوڑ، منظور پشتین اور علی وزیر کو گلے لگایا جائے۔کلبھوشن یادیو سے متعلق سوال پر میجر (ر) محمد عامر کا کہنا تھا کہ یہ دور پرسیپشن مینجمنٹ ،رائے عامہ اور رجحان بنانے کا ہے، یہ سب ورژن کا دور ہے جو حرف ، لفظ اور فکرکی جنگ ہے، اجمل قصاب کو پاکستان نے قبول نہیں کیا لیکن عالمی کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا، اس کے مقابلہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشتگردی کرتے پکڑا گیا، انڈیا نہ صرف کلبھوشن یادیو کو تسلیم کرتا ہے بلکہ عالمی عدالت انصاف میں اس کا کیس بھی لڑرہا ہے۔

یہ وہ سب ورڑن اور تاثر کی جنگ ہے جو ہم ہارچکے ہیں، آج جنگ واحد اخبار ہے جس میں کلبھوشن یادیو پر شہ سرخی ہے، حکومت پر کلبھوشن کو این آر او دینے کے غلط الزامات لگائے جارہے تھے، روزنامہ جنگ نے آج حکومت کو بیل آﺅٹ کیا ہے، سب ورژن کی جنگ ہمیں میڈیا، سلیم صافی، حامد میر اور میر شکیل الرحمٰن کے ذریعہ لڑنی ہے، جو آپ کو بیل آﺅٹ کررہا ہے آپ اس کے ساتھ کیا کررہے ہیں، میر شکیل الرحمٰن کے ساتھ آپ کیا کررہے ہیں۔

جہاں تک میر شکیل الرحمٰن کے کیس کا تعلق ہے ایک عام آدمی بھی اسے درست نہیں مانتا ہے، اس کا نقصان صرف میر شکیل الرحمٰن کا نقصان نہیں ہے، اس کا سب سے بڑا نقصان اس پرسیپشن مینجمنٹ کی جنگ کا ہے، جس کمانڈو نے آپ کی جنگ لڑنی ہے اسے مفلوج کرنے بجائے اسے سہولت دی جائے۔میجر (ر) محمد عامر نے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا کو تباہ کرنا اس جنگ میں پاکستان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

سویلین حکومتوں کا مسئلہ ہے کہ جمہوری طریقوں سے آتی ہیں مگر غیرسویلین بن جاتی ہیں، حکومتیں سمجھتی ہیں ان کی ناکامیوں کا ذمہ دار جنگ، نوائے وقت یا دیگر میڈیا ہے، حکومتوں پر تنقید اور کمزوریاں سامنے لانا میڈیا کا کام ہے، میر شکیل الرحمن کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے یہ اداروں اور پاکستان کا نقصان ہے۔ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد بہت ایماندار اور پروفیشنل آدمی ہیں، ایسے ہی لوگوں کو پاکستان کے احتساب کے اداروں میں ہونا چاہئے، چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال بطور جج نیک نام تھے، نیب میں آکر جسٹس (ر) جاوید اقبال اور سلیم شہزاد کی ساکھ خراب ہوئی ، احتساب کے ادارے ہونے چاہئیں لیکن ساکھ متاثر نہیں ہونی چاہئے، میر شکیل الرحمٰن جیسے لوگوں کو پکڑنا نیب اور پاکستان کے ساتھ ظلم ہے، اس طرح احتساب کے قومی ادارے کی ساکھ خراب ہورہی ہے۔

میجر (ر) محمد عامر کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے والدین حادثے کا شکار ہوئے فاتحہ پر گیا تو یہ بچوں کی طرح رو رہا تھا، ڈی جی نیب اپنی ماں کے نام پر مسجدیں بناتا ہے، عمران خان رشتوں اور دوستوں کے حوالے سے کمزور مانا جاتا ہے مگر اپنی ماں کے نام پر اتنا بڑا ادارہ کھڑا کردیا، جنرل فیض نے خود اپنی والدہ کی خدمت کی ہے، جنرل باجوہ کی والدہ سی ایم ایچ میں داخل تھیں تو وہ جاکر ان کی ٹانگیں دباتے تھے، میر شکیل الرحمٰن کی والدہ بھی 90سال سے زائد عمر کی ہیں۔

کچھ عرصہ میں ان کے بیٹے اور ایک بیٹی کی موت ہوگئی ، وہ کہتی ہیں میرا جو بھی اسپتال گیا وہ واپس نہیں آیا، وہ اسپتال نہیں جانا چاہتیں کہ میر شکیل کو دیکھنا چاہتی ہوں، کیا میر شکیل الرحمٰن کو یہ حق نہیں کہ جس طرح آپ سب نے اپنی والدہ کی خدمت کی وہ بھی خدمت کریں، کیا ہماری اقدار اور ویلیوز سب ملیا میٹ ہوگئی ہیں۔ میجر (ر) محمد عامر نے کہا کہ نہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف سیکیورٹی رسک تھے نہ ہی عمران خان سیکیورٹی رسک ہیں ٹیم میں کچھ لوگ گھسادیئے جاتے ہیں، بینظیر بھٹو کاﺅنٹر انٹیلی جنس آپریشن دیکھنے آئی ایس آئی آئیں تو ان کے ساتھ قومی سلامتی کے مشیر اقبال اخوند بھی تھا، جنرل حمید گل نے بریفنگ دینی شروع کی تو اس نے کہا کہ میں ان کے فنکشن جاننا چاہتا ہوں۔

رپورٹ کے مطابق میجر (ر) محمد عامر کا کہنا تھا کہ میری نواز شریف سے کوئی دشمنی نہیں ابھی بھی ان کیلئے دعائیں کرتا ہوں، عمران خان کی خواہش پر اپنے گھر میں ان کی اور چوہدری نثار کی ملاقات کروائی تھی، عمران خان نے ملاقات میں چوہدری نثار کو بہت باعزت طریقے سے بہت کچھ پیشکش کی، عمران خان کے جانے کے بعد چوہدری نثار نے مجھ سے کہا کہ نواز شریف کے والد مجھے اپنا چوتھا بیٹا کہتے تھے، اس وقت انتخابی مہم عروج پر ہے ان کا سارا فوکس ن لیگ اور نواز شریف پر ہے، اگر میں پی ٹی آئی جوائن کرلیتا ہوں تو اس اسٹیج پر بیٹھنا پڑے گا جہاں نواز شریف کو گالیاں پڑیں گی اور برا بھلا کہا جائے گا وہاں مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا نظر آئے گا، میں روایتی آدمی ہوں سیاست ہارتی ہے تو ہار جائے روایت نہیں ہارنی چاہئے، الیکشن ہار جاﺅں گا تو سیاست ختم ہوجائے گی مگر خود کو اس آزمائش میں نہیں ڈال سکتا۔

میجر (ر) محمد عامر نے کہا کہ چوہدری نثار میں ہزار خامیاں ہوں گی مگر کبھی دغا ، بیوفائی یا سازش نہیں کرے گا، میری چار سال کوشش رہی کہ چوہدری نثار مسلم لیگ ن میں رہیں۔میں نے ان چار سالوں میں نواز شریف اور چوہدری نثار کی دوستی برقرار رکھنے میں بڑا کردار ادا کیا تھا، نواز شریف اور چوہدری نثار میں دوبارہ صلح کا امکان نہیں ہے، چوہدری نثار کا سیاسی مستقبل ابھی بھی ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -