جھوٹ سے حقائق چھپائے نہیں جا سکتے!

جھوٹ سے حقائق چھپائے نہیں جا سکتے!
جھوٹ سے حقائق چھپائے نہیں جا سکتے!

  

آج مسلسل چوتھا روز ہے کہ امریکہ میں کووڈ-19 سے اموات کی تعداد روزانہ ایک ہزار سے تجاوز کر رہے ہے۔ امریکی سی ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ پیش گوئی کے ماڈل سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں پندرہ اگست تک اموات کی تعداد 175000 تک پہنچ جائے گی۔ امریکہ میں کچھ ریاستوں نے بتایا ہے کہ پچھلے کچھ ہفتوں میں ہونے والے نئے کیسز اور اموات کی تعداد نے پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، اور وبائی صورتحال تیزی سے سنگین ہو رہی ہے۔

امریکہ کووڈ-19 کی وبا پر قابو پانے میں ناکامی ،چین کی ترقی کی وجہ سے اپنے ملک میں بڑھتی ہوئی داخلی تشویش اور دیگر معاملات سے توجہ ہٹانے کے لئے چین پر بلا جواز تنقید کا ایک سلسلہ شروع کئے ہوئے ہے۔ تاہم حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ امریکہ نے بین الاقوامی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور اپنی ذمہ داریاں دوسروں پر ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سمیت دیگر امریکی سیاستدان حا ل ہی میں بارہا چین کے خلاف بیانات جاری کرتے رہے ہیں ۔پومپیو نے اپنے بیانات میں چینی کمیونسٹ پارٹی اور چین کے سماجی نظام پر حملہ کرتے ہوئے چین کی اندرونی و بیرونی پالیسیوں کو بے بنیاد تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لیکن حقیقت کے سامنے امریکی سیاست دانوں کا چین کو بد نام کرنے اور لوگوں کو بیوقوف بنانے کا عمل نہایت کمزور ثابت ہواہے ۔ امریکہ میں عوامی تعلقات کی ایک مشہور کمپنی ایڈیل مین کی حال ہی میں جاری کردہ ایک سروے رپورٹ کے مطابق چینی عوام کو اپنی حکومت پر95 فیصد اعتماد ہے ، جو سروے میں شامل ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔ اور اس کے برعکس سروے کیے گئے ممالک میں امریکی عوام کا ان کی اپنی حکومت پر اعتماد آخری نمبر پر ہے۔اس سے لوگوں کو کیا پیغام جاتا ہے ؟ ہر ذی شعور حقیقی صورت حال کا خود اندازہ لگا سکتا ہے ۔

چین میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی سربراہی میں قائم حکومت ہمیشہ لوگوں کی فلاح و بہبود کو اپنی حکمرانی کا مرکزو محور قرار دیتی ہے ۔چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں تیزی سے ترقی کی ہے ، اور چینی شہریوں نے اس ترقی سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کیا ہے ۔ عوام کی زندگی کو اولین حیثیت دینے کے تصور کے تحت وبا کے دوران لوگوں کی زندگی اور صحت کا تحفظ ملک کی اولین ترجیح بن گیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے چین دنیا میں وبا پر قابو پاتے ہوئے سماجی و معاشی سرگرمیوں کی کامیاب بحالی کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے ۔ پھرہم امریکہ کی طرف دیکھیں ۔ اگر امریکہ واقعی ایک جمہوری ملک ہوتا اور امریکی حکومت عوام کو اہمیت دیتی تو وبا پھوٹنے کے بعد امریکہ کی صورتحال اتنی خراب نہیں ہو نی چاہیے تھی۔ امریکہ میں صدر سے لے کر وزیر خارجہ تک ہر دوسرا عہدیدار بحران سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے چین اور عالمی ادارہ صحت کو بدنام کرنے کی کوششوں میں لگا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے امریکیوں کو یہ سمجھانے کی پوری کوشش کی کہ اس وبا سے لڑنا بیکار ہے ، اور معاشی بحالی کے لئے وبا کے خطرے کو نظرانداز کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ ہلاکتیں معمول کی بات ہیں۔ یہ امریکی حکومت کی درست پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ہلاکتیں زیادہ نہیں ہوئیں۔ورنہ لاکھوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ تھا ۔ حالانکہ حقیقت یہ کہ امریکہ میں وبا سے متاثرہ کیسز اور اموات کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے ۔ امریکہ عالمی ادارہ صحت سے دستبردار ہوگیا ، لیکن پھر بھی اس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ "اس وبا کے خلاف جنگ میں عالمی رہنما" ہے۔

امریکی سیاستدانوں کی " سرد جنگ جیسی فرسودہ ذہنیت " ان حالات کی ذمہ دار ٹھہرائی جانی چاہیے۔پاکستان کے خارجہ امور کی مشاورتی کمیٹی کے رکن عادل نجم نے کہا کہ گزشتہ بیس برسوں سے امریکہ ہمیشہ اپنے بارے میں غلط فہمی ،اور حد سے زیادہ اعتماد کا شکار رہا ہے۔ اس کے خیال میں دنیا میں امریکہ ہی واحد سپر پاور ہے۔ وہ جو بھی چاہے کر سکتا ہے چاہے وہ صحیح ہو یا غلط۔ چین ایک نئی ابھرتی ہوئی مضبوط معیشت ہے جو کہ کچھ تکنیکی شعبوں میں امریکہ سے بھی آگے نکل گیا ہے اور یہ امریکہ کے لیے نا قابلِ قبول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف مختلف طریقوں سے ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ اس لیے چین کو بھی مناسب طریقوں سے اپنے حقوق کا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے ۔روس انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک پلاننگ اینڈفار کاسٹنگ کے ڈائیریکٹر الیگزینڈر کی کی نظر میں امریکہ کی طرف سے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانے کو بند کرنے کا مطالبہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ چین کا جوابی رد عمل بالکل مناسب ہے۔ غیر دوستانہ اقدامات کے مطابق ان کا جواب دینا ایک سفارتی طرزِ عمل ہے۔

امریکہ میں انٹرنیٹ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ امریکی سیاستدانوں کے کام پر وہ "شرمندہ ہیں"۔واشنگٹن پوسٹ نے متعدد امریکی سیاستدانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "امریکی خارجہ پالیسی میں کوئی اعتماد نہیں ہے۔" جبکہ سی این این نے پومپیو کی جانب سے چین پر امریکی لفظی حملوں کے تناظر میں تبصرہ کیاکہ پومپیو اپنے کام میں خود خلل ڈال رہا ہے۔ اور یہ کہ امریکی وزیر خارجہ قابل اعتبار شخصیت نہیں ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -